انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا دائرہ وسیع، وزیرِ اعظم نریندر مودی کی امن کی اپیل

دلی، انڈیا، شہریت کا ترمیمی قانون، بی جے پی، بھارتیہ جنتا پارٹی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب طلبا شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

انڈیا میں متعارف کروائے گئے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب انڈیا کے کئی شہروں بشمول حیدرآباد، کولکتہ اور ممبئی تک پھیل چکے ہیں جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

دوسری جانب انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مظاہروں کے پانچویں روز شہریوں سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

دلی میں بسوں کو نذرِ آتش کیے جانے اور سڑکوں کی بندش کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

کئی شہروں میں جہاں مظاہرے ہورہے ہیں، وہاں انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں جبکہ ملک بھر کی کئی جامعات میں پیر کو دوبارہ مظاہرے کیے گئے۔

کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ یہ قانون مسلم مخالف ہے جبکہ کئی افراد بالخصوص سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے۔

پانچ دن سے جاری اس شورش میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین ریاستیں شہریت کے قانون کو روک سکتی ہیں؟

دہلی: اکھڑے ڈیوائیڈر، ٹوٹی اینٹیں اور جلی ہوئی بسیں

دلی: پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کے بعد 50 طلبہ رہا

یاد رہے کہ 12 دسمبر کو انڈیا کے صدر نے شہریت کے ترمیمی بل پر دستخط کیے تھے جس کے بعد یہ ایکٹ کی صورت میں قانون بن گیا ہے۔

اس قانون کے تحت مسلم اکثریتی ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلم تارکینِ وطن اگر اپنے ممالک میں مذہبی بنیادوں پر استحصال کے شکار ہوں تو انھیں انڈیا کی شہریت فراہم کی جا سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نئی دہلی میں 15 دسمبر 2019 کو نیو فرینڈز کالونی کے مقام پر ایک پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کر رہا ہے

ہفتے کے اختتام پر انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مظاہرین نے اہم قومی شاہراہوں کو بلاک کر دیا جبکہ آسام میں ریاستی حکومت نے مختصر دورانیے کے لیے کرفیو اٹھایا تاکہ لوگ اشیائے صرف خرید سکیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے شمال مشرقی انڈیا کے دورے پر جا رہے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کی ہیں جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس خطے کا سفر کر رہے ہوں تو ’احتیاط سے کام لیں۔‘

دلی میں کیا ہو رہا ہے؟

اتوار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد پیر کی صبح کو یونیورسٹی میں مظاہرے دوبارہ شروع ہوئے۔

گذشتہ روز پولیس نے تقریباً 35 طلبا کو حراست میں لیا تھا جنھیں پیر کو علی الصبح رہا کر دیا گیا۔

پروفیسر نجمہ اختر نے کہا جامعہ بغیر اجازت پولیس کے کیمپس میں داخل ہونے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے گی۔ 'لائبریری کے اندر معصوم طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔'

دلی میں ایک میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کا نام بدنام نہیں کیا جائے اور اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تفتیش ہونی چاہیے۔

ان کے ساتھ موجود جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار اے پی صدیقی نے کہا کہ کل ہونے والے پرتشدد واقعات میں بیرونی افراد ملوث تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیمپس میں موجود طلبا کسی طرح کے تشدد میں ملوث نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی حراست میں موجود جامعہ کے تمام طلبہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ تشدد کی ابتدا کس نے کی، مگر پولیس نے اپنے اوپر ہونے والے پتھراؤ کا جواب آنسو گیس سے دیا تھا۔

مقامی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق طلبا اور پولیس سمیت تقریباً 60 افراد زخمی ہوئے ہیں اور کم از کم تین بسوں اور کئی موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کِنجل پانڈیہ کے مطابق طلبا نے خود کو اس تشدد سے علیحدہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ پولیس افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تسلیم کیا ہے کہ اس پرتشدد واقعے کے پیچھے مقامی شرپسند عناصر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ بعد میں پولیس بلااجازت کیمپس میں داخل ہوئی، جبکہ ویڈیو فوٹیج میں پولیس کو طلبا اور سٹاف کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

طلبا کی بنائی گئی ویڈیوز میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کیمپس کے اندر باتھ رومز اور لائبریری وغیرہ میں طلبا پر تشدد کر رہی ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے وہ کیا جو مظاہرے روکنے کے لیے ’ضروری‘ تھا۔

جنوبی دلی میں کچھ تعلیمی اداروں سے پیر کو بند رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شہر کے دیگر علاقوں بشمول جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور شہر کے پولیس ہیڈکوارٹرز کے باہر سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے۔

دیگر شہروں میں کیا ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے؟

پیر کو انڈیا کے شمالی شہر لکھنؤ سے سامنے آنے والی لائیو ویڈیو میں دارالعلوم ندوۃ العلما یونیورسٹی کے طلبا کو سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے ردِعمل میں سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی پتھراؤ کیا۔

فی الوقت طلبا کیمپس کے اندر مقید ہیں۔

مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں اہلکاروں کو طلبا پر ڈنڈے برساتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمال مشرقی انڈیا سے تعلق رکھنے والے طلبا دلی میں جنتر منتر کے مقام پر شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

اس وقت صورتحال کشیدہ ہے اور مزید مظاہرے متوقع ہیں۔ جنوبی شہر چنائی (سابقہ مدراس) کے مشہور تعلیمی ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبا پہلے ہی آج دوپہر مظاہروں کا اعلان کر چکے ہیں۔

دوسری جانب دلی یونیورسٹی کے طلبا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اظہارِ یکجہتی کے طور پر امتحانات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

اتوار کو کیا ہوا تھا؟

انڈیا کے کئی شہروں میں سینکڑوں طلبا دلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرین کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

شمالی شہر علی گڑھ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کا پولیس سے تصادم ہوا جس کے بعد یونیورسٹی نے اپنے کیمپس کو پانچ جنوری تک کے لیے بند کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی شہر حیدرآباد میں بھی ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے طلبا نے دلی میں پولیس ایکشن کے خلاف نعرے بازی کی۔

انڈیا کے شہر ممبئی میں ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے طلبا نے شمع بردار مارچ کیا۔

اتوار کے روز واراناسی (بنارس) اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی طلبا نے یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ قانون باعثِ تفریق کیوں ہے؟

یہ قانون بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے انڈیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے غیر مسلموں کو شہری بننے کی اجازت دیتا ہے۔

انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو قوم پرست جماعت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون مذہبی بنیادوں پر استحصال سے بھاگنے والے افراد کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔

مگر نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ آئین میں وضع کیے گئی سیکیولر اصولوں سے متصادم ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے بھی اس نئے قانون پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ قانون اپنی روح میں تفریقی ہے۔‘

حکومت نے مذہبی تعصب کے الزامات کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون میں مسلمانوں کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا کیونکہ وہ (مذکورہ ممالک میں) مذہبی اقلیت نہیں ہیں، اس لیے انھیں انڈیا سے تحفظ کی ضرورت نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسری جانب آسام میں لوگوں کو خوف ہے کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے غیر قانونی مسلم تارکینِ وطن کے آنے سے وہ ’اقلیت‘ میں بدل جائیں گے۔

ان کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی افراد ان کی زمینوں اور ملازمتوں پر قبضہ کر لیں گے اور ان کی ثقافت اور شناخت حاوی ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ آسام میں ہونے والے مظاہروں کا اس قانون کی تفریقی نوعیت اور سیکیولرازم کو لاحق خدشات کے حوالے سے کم ہی لینا دینا ہے جبکہ یہ مظاہرے اس خدشے کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں کہ ’باہر سے آنے والے‘ آبادی اور ثقافت کے اعتبار سے مقامی افراد پر غالب آ جائیں گے۔

سیاسی ردِ عمل

وزیرِ اعظم مودی نے شہریت کے ترمیمی قانون کا دفاع کرتے ہوئے مظاہروں کی مذمت کی ہے۔

پیر کو اپنی ٹویٹس میں انھوں نے کہا کہ 'شہریت کے ترمیمی قانون پر پرتشدد احتجاج بدقسمت اور تشویشناک ہے۔ بحث و مباحثہ، مکالمے اور اختلافِ رائے جمہوریت کا لازمی جزو ہیں، لیکن عوامی املاک کی تباہی اور عام زندگی کو درہم برہم کرنا کسی طرح سے بھی ٹھیک نہیں ہے۔'

انھوں نے اگلی ٹویٹ میں کہا: ’پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کو واضح اکثریت سے منظور کیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کی ایک بڑی تعداد نے اس کی حمایت کی۔ یہ قانون انڈیا کی قبولیت، خیر سگالی، ہمدردی اور بھائی چارہ کی صدیوں پرانی روایت کا عکاس ہے۔‘

اپنی تیسری ٹویٹ میں بظاہر انڈیا کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: ’میں ہندوستانیوں کو واضح طور پر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ شہریت کے قانون سے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شہری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کسی کو بھی اس قانون سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قانون صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو برسوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور ان کے لیے ہندوستان کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں انڈین وزیرِ اعظم نریندرا مودی کی حکومت کو شہریت کے ترمیمی بل (سی اے بی) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’شہریت کے ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کو انڈیا میں بڑے پیمانے پر تفریق پیدا کرنے کے لیے فاشسٹوں کی جانب سے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس گندے ہتھیار کے خلاف بہترین دفاع پرامن اور عدم تشدد ستیہ گرہ ہے۔ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں جو پر امن طریقے سے سی اے بی اور این آر سی کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘

سپریم کورٹ سے تحقیقات کی درخواست

سینیئر وکلاء اندرا جے سنگھ اور کولن گونزالویز انڈیا کی سپریم کورٹ میں پیر کو پیش ہوئے جہاں انھوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ طلباء پر ہونے والے تشدد پر تحقیقات کروائے۔

اندرا جئے سنگھ نے سپریم کورٹ میں کہا: ’ہم یہاں اس لیے آئے ہیں کیونکہ پورے ملک میں تشدد بھڑک اٹھا ہے۔ سپریم کورٹ کو اس طرح کے تشدد کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ان معاملات میں احتساب کے تعین کے لیے تفتیش ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کو بھیجا جائے۔

اس پر انڈیا کے چیف جسٹس بوبڈے نے پوچھا کہ ’سرکاری املاک کو کیوں تباہ کیا گیا؟ بسیں کیوں نذر آتش کی گئیں؟ جس نے توڑ پھوڑ شروع کی اسے پہلے روکنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں