انڈیا میں مظاہرین پر تشدد، خواتین سے بدسلوکی کے الزامات پولیس کے لیے ’معمول کی بات‘ کیوں بنتے جا رہے ہیں؟

دہلی میں ہونے والے مظاہروں میں پولیس پر خواتین کے ساتھ غیر ضروری طاقت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی میں ہونے والے مظاہروں میں پولیس پر خواتین کے ساتھ غیر ضروری طاقت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں

انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ملک بھر میں پرتشدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں دہلی سے ملحق انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ہوئی ہیں جہاں انڈین ایکسپریس کے مطابق 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اترپردیش کے پولیس سربراہ او پی سنگھ نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے 15 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ 879 افراد کو حراست میں لیا گيا ہے جبکہ مظاہروں میں 288 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بات بھی کہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے مظاہرین کے خلاف پولیس کا کردار جابرانہ رہا ہے جبکہ اترپردیش پولیس کے سربراہ اوم پرکاش سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ضبط سے کام لیا ہے اور مظاہرین کے خلاف گولی نہیں چلائی ہے لیکن سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں پولیس کو گولی چلاتے اور پستول لہراتے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انڈین ایکسپریس سے ایک سینیئر پولیس افسر نے کہا کہ ریاست میں مرنے والے 16 افراد میں سے 14 لوگوں کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ باقی دو افراد میں ایک کی موت فیروزآباد میں سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی اور وارانسی میں پولیس کے ایکشن کے نتیجے میں ہونے والی بھگدڑ کے نتیجے میں آٹھ سالہ بچے محمد صغیر کی موت واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہریت کے قانون کے خلاف مظاہروں کا دائرہ وسیع

شہریت کا متنازع ترمیمی بل، انڈیا بھر میں مظاہرے

دہلی: اکھڑے ڈیوائیڈر، ٹوٹی اینٹیں اور جلی ہوئی بسیں

دلی: پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کے بعد 50 طلبہ رہا

’جن لوگوں کی باتوں سے فرق پڑ سکتا ہے وہ خاموش ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN

گولی لگنے سے ہلاک ہونے والوں میں لکھنؤ سے محمد وکیل (32 سال)، کانپور سے آفتاب عالم (22) اور محمد سیف (25)، بجنور سے انس (21) اور سلیمان (35)، سنبھل سے بلال (24) اور محمد شہروز (23)، میرٹھ سے ظہیر (33)، آصف (20) اور عارف (20)، فیروز آباد سے نبی جہاں (24) اور رام پور سے 24 سالہ فیض خان شامل ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی موت پولیس کی گولی سے ہوئی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گولیاں مظاہرین کی جانب سے چلائی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واراناسی میں ہونے والے احتجاج میں پولیس اہلکار مظاہرین کو پیٹ رہے ہیں

جبکہ گذشتہ روز انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں خطاب کرتے ہوئے پولیس کے خلاف پتھراؤ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ سنہ 1947 میں آزادی کے بعد سے اب تک اپنے خدمات انجام کی انجام دہی کے دوران 33 ہزار پولیس اہلکار 'شہید' ہو گئے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ شہریت کا ترمیمی قانون کسی بھی مسلمان کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ملک میں کوئی 'ڈیٹنشن سینٹر' یعنی حراستی مرکز ہے اور یہ کہ ملک میں این آر سی لانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر 'میرا پی ایم جھوٹا ہے' ٹرینڈ کر رہا ہے۔ پول کھول نامی ایک صارف نے لکھا: 'امت شاہ: ہم این آر سی لائیں گے۔ راج ناتھ: ہم این آر سی لائیں گے۔ جے پی نڈا: ہم این آرسی لائیں گے۔ بی جے پی منشور: ہم این آر سی لائیں گے۔ دریں اثنا مودی: ہماری حکومت کے میں این آر سی کے متعلق نہ کوئی منصوبہ ہے نہ بات ہو رہی ہے۔ جھوٹ بولنے کی بھی حد ہوتی ہے'

تمیزہاچی نامی ایک صارف نے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے بیانات کے ساتھ لکھا ہے کہ 'اگر آپ انھیں قائل نہیں کر سکتے تو انھیں کنفیوژ کر دیں۔'

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک میں کہیں ڈیٹنشن سینٹر نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف آسام میں بلکہ ملک میں دوسری جگہ بھی حراستی مراکز ہیں اور اس کا ذکر پارلیمان میں کانگریس کے رہنماؤں نے بھی کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee/BBC
Image caption گذشتہ روز وزیراعظم مودی نے اس بات کی تردید کی کہ ملک میں کوئی حراستی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم شمال مشرقی ریاست آسام کے گوالپاڑہ ضلعے میں جب یہ حراستی کیمپ تیار کیا جا رہا تھا تو بی بی سی کے نمائندے نے وہاں کا دورہ کیا تھا

خواتین سے بدسلوکی کی ویڈیوز

گذشتہ ہفتے اتوار کو دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں اور پھر اترپردیش میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہونے والی پولیس کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

علی گڑھ کے معروف مورخ عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ پولیس کے مظالم انگریزی راج سے بھی بدتر نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں کے دور میں بھی پولیس کیمپس میں داخل ہونے سے باز رہی تھی لیکن حال ہی میں پولیس نے کیمپس میں داخل ہو کر جبرو ظلم کیا ہے۔

میڈیا میں آنے والے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پولیس نے گھروں میں گھس کر خواتین کو ہراساں کیا ہے۔ بی بی سی کے صحافی سمیر آتماج نے کانپور سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے پولیس کے گھروں میں گھسنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ملک بھر میں پرتشدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ملک بھر میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دلی پولیس پر تشدد کے حالیہ الزامات

دلی میں یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں پولیس پر سنگین الزامات لگے ہوں۔ اس سے قبل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔

اس سے قبل نومبر میں دلی پولیس اور وکیلوں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپیں سرخیوں میں رہیں، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس واقعے کے خلاف پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

پولیس پر طنز کرتے ہوئے کئی سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ پولیس والے وکیلوں سے پٹ جاتے ہیں لیکن جے این یو کے طلبہ پر لاٹھیاں برسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

یہ واقعات پولیس کی کارگردگی، ان کی تربیت اور ان سے منسلک چند دیگر امور پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان سوالات میں پولیس کی جوابدہی اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر مبینہ سیاسی اثرات بھی شامل ہیں۔

اس سلسلے میں بی بی سی ہندی کے سندیپ سونی نے انڈین پولیس سروس کے دو سینیئر افسران، اترپردیش کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس پرکاش سنگھ اور اروناچل پردیش پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل امود کنٹھ سے بات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

’پولیس سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونی چاہیے‘

پرکاش سنگھ نے بتایا 'پولیس میں کئی قسم کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے پولیس فورس کے سامنے بہت سے چیلنجز اور ذمہ داریاں ہیں۔ امن و امان اور تفتیش کے کام کو الگ الگ کرنا پڑے گا۔‘

ان کے مطابق ’پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کے احتساب کے لیے پولیس میں شکایات اتھارٹی تشکیل دینا ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’سپریم کورٹ نے ہر ریاست میں سکیورٹی کمیشن بنانے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے تھے۔ اس میں عوام کے نمائندے، انسانی حقوق کے کارکنان، عدالتی نظام سے وابستہ افراد اور حکومت کے نمائندوں کو شامل کیے جانے کی بات کہی گئی تھی لیکن اس سمت میں کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا۔‘

اترپردیش کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا 'پولیس کی تربیت میں بہت کمی ہے۔ کچھ ریاستوں کو چھوڑ کر بیشتر ریاستوں میں پولیس کی تربیت پرانے طرز پر کی جارہی ہے۔ ٹریننگ مراکز میں اکثر ایسے افسران بھیجے جاتے ہیں جن کو حکومت پسند نہیں کرتی ہے اور وہ مایوسی کے عالم میں تربیت دیتے ہیں۔ ایسے افسران پولیس فورس کی نئی نسل کے لیے رول ماڈل نہیں بن سکتے۔‘

انھوں نے بتایا ’حالیہ واقعات کی تصاویر ناقص تربیت کی عکاس ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ پولیس کا کام کتنا ہی معقول اور انصاف پسند کیوں نہ ہو انھیں وکیلوں کے سامنے منھ کی کھانی پڑتی ہے۔ وکیل سیاستدانوں اور عدلیہ دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پولیس درمیان میں پھنس جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پرکاش سنگھ نے جامعہ میں ہونے والے واقعے کے حوالے سے کہا ’طلبہ پر پولیس ایکشن کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں وہ بھی پولیس کی ناقص تربیت کا نتیجہ ہیں۔ پولیس کے کام کرنے کے طریقے کو کسی جادو کی چھڑی سے فوری طور پر بہتر نہیں کیا جاسکتا۔‘

انھوں نے پولیس کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا 'وسائل کی کمی، افرادی قوت کی کمی، تمام تر مشکلات کے باوجود اگر پولیس اچھی تربیت کے ساتھ ایمانداری کے ساتھ کام کرے گی تو عوام آہستہ آہستہ پولیس کے مسائل کو سمجھے گی۔ عوام پولیس سے اتنی غیر مطمئن نہیں جتنا میڈیا میں کچھ واقعات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔'

بھیڑ کی نفسیات

دوسری جانب امود کنٹھ نے کہا کہ 'دلی پولیس متعدد بار بھیڑ کو قابو کرنے اور پرتشدد مظاہروں سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ سنہ 1984 کے فسادات اور اس کے بعد ہونے والے بہت سے واقعات اس کا ثبوت ہیں تاہم دلی پولیس کی تربیت ٹھیک ہے اور اسے اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے مواقع ملتے رہے ہیں۔

'پرتشدد مظاہروں سے نمٹنے کے لیے صحیح طریقے سے تیاری کرنے، درست حکمت عملی تیار کرنے اور لوگوں سے تعلقات بنانے کے لیے ہر وقت بہتری کی ضرورت ہے۔ لوگوں میں جذبات امڈ رہے ہیں۔ مظاہرے پرتشدد ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پولیس کے پاس بہت سے آپشنز نہیں ہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا ’اگر پولیس کسی کو پیٹ رہی ہے یا ڈنڈے مار رہی ہے اور وہ تصویر یا ویڈیو وائرل ہوگئی ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس تصویر یا ویڈیو کے آس پاس کے حالات کیا تھے، تصویر کا وہ حصہ سامنے نہیں آتا ہے۔ ہمیں وہ صورتحال نظر نہیں آتی جس سے پولیس گزر رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا ہے 'تصویر یا ویڈیو میں وہی نظر آتا ہے جس میں انسانی پہلو ہوتا ہے لیکن صحیح معنوں میں پوری تصویر اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب تحقیقات مکمل ہو جاتی ہیں‘۔

اروناچل پردیش پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل امود کنٹھ ’پولیس کی تربیت کو بہتر بنانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تمام چیزوں کے باوجود تربیت کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ بھیڑ پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے، بھیڑ کی مختلف نفسیات ہے۔ اس میں فارمولے زیادہ کارگر نہیں ہوتے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'پولیس میں بنیادی اصلاحات کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں یہ کام نہیں ہوا۔ پولیس میں اصلاحات نہیں ہوسکیں۔ سنہ 1861 کا پولیس ایکٹ پرانا ہو چکا ہے لیکن پولیس اب بھی اسی کے مطابق کام کر رہی ہے۔

’پولیس کو خود مختار اور جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ امن و امان قائم کرنا یا تفتیش ہو، پولیس کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ پولیس کا احتساب کسی رہنما کی طرف سے نہیں بلکہ 'قانون' کے دائرے میں ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں