انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے: دلی میں تشدد پہلے کس نے کیا، پولیس یا طلبا نے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AVNI KAUL
Image caption نیو فرینڈ کالونی کے ایک گھر سے لی گئی تصویر

'احتجاج اور تشدد کے بارے میں اخبارات میں خبریں تو پڑھی تھیں لیکن جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھا تو روح کانپ اٹھی'۔

یہ الفاظ اونی کول کے ہیں، جو دِلی کی نیو فرینڈز کالونی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

اتوار کو جامعہ کے طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ جامعہ کیمپس سے کچھ ہی دور پہنچا تھا کہ اس نے پرتشدد شکل اختیار کرلی۔ جب آس پاس کے رہنے والے لوگوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا تو انھیں یقین نہیں آیا کہ وہ انڈیا کے دارالحکومت دِلی میں رہ رہے ہیں۔

بی بی سی نے دلی کے علاقے ماتا مندر روڈ کے قریب اور نیو فرینڈس کالونی میں رہنے والے لوگوں سے حقیقت جاننے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

’جن لوگوں کی باتوں سے فرق پڑ سکتا ہے وہ خاموش ہیں‘

شہریت کا قانون : انڈیا کے ہندو ہی ہندوؤں کے مخالف کیوں؟

انڈین ریاستیں شہریت کے قانون کو روک سکتی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AVNI KAUL
Image caption دلی کے ایک گھر سے مظاہرے کا منظر

’تقریباً پچاس مظاہرین ہمارے صحن میں گھس آئے‘

پُرتشدد مظاہرے پر طلبا کا الزام ہے کہ پولیس نے بغیر کسی اشتعال کے لاٹھیوں اور آنسو گیس کے گولوں کی بارش کی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قدم طلبا کی جانب سے پتھراؤ کرنے پر یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔

اپنے والدین کے ساتھ رہائش پزیر اونی کول نے بتایا کہ اتوار کی سہ پہر کو وہ اپنے کچھ مہمانوں کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھیں کہ قریب ڈھائی یا تین بجے انھوں نے نعروں کی آوازیں سنیں۔

اونی کا کہنا تھا کہ ان کو لگا کہ یہ ایک عام مظاہرہ ہے اور نعرے بازی کچھ دیر میں بند ہو جائے گی۔

لیکن نعروں کا شور بڑھتا گیا اور ان کے گھر کے قریب آگیا۔ پھر انھوں نے ہزاروں طلبا کو اپنے گھر کے سامنے سڑک پر دیکھا اور وہ دنگ رہ گئیں۔ تاہم، اونی کا کہنا ہے کہ تب تک یہ احتجاج پُرامن طریقے سے ہو رہا تھا۔

انھوں نے محسوس کیا کہ احتجاج کچھ عرصے کے بعد آگے بڑھ جائے گا اور ممکن ہے کہ جلد ہی ختم ہوجائے تو وہ گھر کے اندر چلی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAURABH GUPTA
Image caption سوال ہو رہے ہیں کہ بسوں میں آگ کس نے لگائی

لیکن اس کے کچھ دیر بعد دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔

دھماکہ اتنا قریب تھا کہ آنسو گیس کے دھماکوں کی وجہ سے ان کا پورا مکان لرز اٹھا جب اونی اپنی بالکونی کی طرف گئیں تو انھوں نے دیکھا کہ چاروں طرف افراتفری ہے۔ پولیس آنسو گیس کے گولے گرا رہی ہے اور جواب میں طلبا پتھراؤ کر رہے ہیں۔ وہ ابھی یہ منظر دیکھ ہی رہی تھیں کہ قریب 50 مظاہرین ان کے صحن میں گھس آئے۔

اونی کا کہنا تھا کہ ان کے والدین پہلے تو سہم گئے اور انھوں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا لیکن مظاہرین صرف ان سے پانی مانگ رہے تھے۔

اونی نے بتایا کہ ان لوگوں کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی اور کچھ لوگوں کو پیاس لگی تھی، لہذا وہ پانی مانگ رہے تھے۔ پھر اونی نے انھیں پانی دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں داخل ہونے والے کچھ لوگ احتجاج کا حصہ بھی نہیں تھے لیکن وہ غلطی سے وہاں پھنس گئے تھے۔

'جوتے سڑک پر بکھرے ہوئے دیکھے'

جب صورتحال قدرے پرسکون ہوئی تو ان کے گھر والے گھر سے باہر نکلے۔ اونی نے بتایا کہ انھوں نے جلتی ہوئی ڈی ٹی سی بسیں دیکھیں۔ جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے دیکھا کہ کس نے اور کس طرح آگ لگائی؟

اونی نے کہا کیونکہ وہ اندر تھیں لہذا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اور کس نے آگ لگائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alam
Image caption عالم کا الزام ہے ک شروعات پولیس نے کی جس کی پولیس تردید کرتی ہے

انھوں نے سڑک پر لوگوں کے چپل، جوتے بکھرے دیکھے اور کچھ لوگوں کو اس وقت پولیس سے چھپتے ہوئے دیکھا۔

’مجھے کار چھوڑ کر گھر آنا پڑا‘

اسی دوران، نیو فرینڈس کالونی کے ڈی بلاک میں رہنے والے وائی ایس گپتا کا کہنا ہے کہ وہ شام چار بجے کے قریب اپنی کار کا پنکچر ٹائر ٹھیک کرنے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جب متھرا روڈ پر احتجاج کی وجہ سے راستہ بند ہوا تو انھوں نے طلبا کی ایک بڑی تعداد کو مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا۔

تب انھوں نے پولیس سٹیشن کے قریب گاڑی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور پیدل ہی گھر جانے کے بارے میں سوچا۔ وائی ایس گپتا کا کہنا ہے کہ ایک طرح سے وہ مظاہرین کے ساتھ چل رہے تھے اور پرامن طور پر احتجاج جاری تھا جس وجہ سے انھیں مظاہرین سے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ لیکن جب وہ گھر پہنچے تو انھیں خبر ملی کہ بسوں میں آگ لگی ہے اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے۔

جگدیپ گپتا، جو پیشے سے وکیل ہیں اور کالونی کے اے بلاک میں رہتے ہیں، بازار سے اپنے گھر لوٹ رہے تھے جب انھوں نے ہجوم کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔

وہ بتاتے ہیں 'طلبا نے پہلے پتھر نہیں اٹھایا تھا، پولیس نے لاٹھی چارج کی تھی'۔

ان مظاہروں میں شرکت کرنے کے لیے پہنچنے والے جامعہ میں بی اے کے طالب علم عالم کا کہنا ہے کہ ’احتجاج پر امن طریقے سے جاری تھا، پتہ نہیں پولیس کو کیا ہوا کہ انھوں نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکنے لگے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AVNI KAUL
Image caption اونی کے گھر کے باہر ڈی ٹی سی کی ایک بس سے اٹھتا ہوا دھواں

بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا طلبا نے پتھراؤ کیا تھا جس پر جواب میں عالم کا کہنا تھا کہ کسی نے پہلے پتھر نہیں اٹھایا تھا لیکن جب پولیس نے حملہ کیا تو کچھ لوگ بھاگ گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے دفاع میں پتھر مارنا شروع کر دیے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’جن لوگوں نے بس میں آگ لگائی وہ جامعہ کے طالبِ علم نہیں ہو سکتے‘۔

پولیس نے واقعے کے بارے میں کیا بیان دیا؟

جنوب مشرقی دلی کے ڈی سی پی نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ پولیس پر پتھراؤ کرنے والے یا قریبی مکانوں پر پتھراؤ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج استعمال کیا گیا تھا۔

کس نے کس کو پہلے مارا اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا جامعہ کے کیمپس میں گھس کر طلبا کو مارنا کہیں سے بھی جائز ہے؟

پولیس کے پی آر او این ایس رندھاوا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’جن لوگوں نے بس میں آگ لگائی تھی وہ بھاگ کر کیمپس میں گھس گئے تھے اس لیے پولیس جامعہ میں داخل ہوئی تھی‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ نیو فرینڈس کالونی میں ہونے والے مظاہرے میں صرف طلبا ہی نہیں شریک تھے بلکہ جامعہ کے آس پاس کے علاقے کے لوگ بھی اس میں شامل تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں