مہاتیر محمد: ملائیشیا کے وزیر اعظم کی شہریت کے متنازع قانون پر تنقید، انڈیا نے اندرونی معاملہ قرار دے دیا

مہاتیر محمد تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا کے وزیر اعظم نے انڈیا میں شہریت کے نئے قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کے انڈیا میں شہریت کے نئے قانون سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے انڈیا کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔‘

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور سربراہی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا ہے کہ انڈیا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ وہ بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدام کر رہا ہے۔ اگر ہم ملائیشیا میں ایسا کریں تو مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہو گا۔ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی اور ہر کوئی اس سے متاثر ہو گا۔‘

تاہم انڈیا کے دفتر خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم کا بیان حقیقت سے دور ہے۔ ’شہریت کے ترمیمی قانون کے اثرات کسی بھی شہری پر نہیں ہوں گے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

دلی میں تشدد طلبا نے شروع کیا یا پولیس نے؟

شہریت کے متنازع بل کے خلاف انڈیا میں مظاہرے

شہریت کے قانون کے خلاف مظاہروں کا دائرہ وسیع

انڈیا میں شہریت کے نئے قانون کے تحت بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی چھ اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ) سے تعلق رکھنے والے افراد کو انڈین شہریت دی جائے گی تاہم مسلمان اقلیتوں کو نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا میں بہت سے انڈین نژاد افراد آباد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کے مختلف شہروں میں احتجاج

دوسری جانب انڈیا میں شہریت کے نئے قانون کے خلاف تازہ مظاہروں میں شمالی انڈیا میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پولیس کے مطابق 32 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس طرح مجموعی طور پر احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب کم از کم 13 ہو گئی ہے۔

شہریت کے نئے قانوں کو ناقدین مسلم مخالف قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے انڈیا میں کسی بھی مذہب کی پیروی کرنے والا کوئی بھی شہری متاثر نہیں ہو گا۔

مقامی طبی افسران اور پولیس حکام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ریاست اترپردیش میں جمعے کو کم از کم پانچ افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن ریاست کے پولیس سربراہ او پی سنگھ نے کہا کہ ہے کہ کوئی بھی ہلاکت ان کے افسروں کی گولی لگنے سے نہیں ہوئی ہے۔

دوسری طرف پولیس کی جانب سے حکم امتناہی کے نفاذ کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعزیرات ہند کی دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جمعے کو ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے کئی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں پولیس نے بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس طرح اتر پردیش کے تقریبا تمام اور کرناٹک کے بعض اضلاع میں بھی دفعہ 144 کو نافذ کیا گیا اور اس کی خلاف ورزی کے جرم میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

دفعہ 144 کے تحت چار یا چار سے زیادہ افراد کی ایک جگہ اکھٹے پر ممانعت ہے۔

کئی مقامات پر دفعہ 144 کے تحت فون نیٹ ورک، کیبل سروسز اور انٹرنیٹ بھی بند کرا دیے جاتے ہیں۔ یو پی اور مغربی بنگال میں ایسا دیکھا گیا ہے حالانکہ اس کے لیے علیحدہ قانون بنائے گئے ہیں۔

اسی لیے لوگوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کیا جا تا ہے۔

جمعے کو دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے بہت سے حصوں میں مظاہرے دیکھے گئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ دلی کی تاریخی جامع مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ یکجا ہوئے تھے اور اے ایف پی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مظاہرین کے سر سے خون بہتے دیکھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کو مظاہرین پر بے تحاشا لاٹھیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے

ایک موٹر کار کو نذر آتش کر دیا گیا جبکہ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

حکام شہریوں کے مظاہرے کو دبانے کے لیے طاقت کے ساتھ دوسرے ذرائع کا استعمال دوسرے ہفتے بھی کرتے دیکھے گئے ہیں جن میں انٹرنیٹ بند کرنا بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں