انڈیا میں سزائے موت میں اضافہ کیوں؟

پھانسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں چار افراد کو دہلی کی بس میں سنہ 2012 میں ہونے والے ریپ اور قتل کے معاملے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان میں سے ایک نے اس پر نظر ثانی کی اپیل کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے اور جس کے بعد اب چند دنوں میں ان لوگوں کو پھانسی دے دی جائے گی۔

انڈیا کی عدالتیں سنگین جرائم میں سزائے موت مستقل طور پر دے رہی ہیں حالانکہ سنہ 2015 کے بعد سے اب تک کسی بھی پھانسی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

دنیا کے بعض ممالک میں سزائے موت کی شرح انڈیا سے زیادہ ہے اور چار ممالک ایسے ہیں جہاں سنہ 2018 میں سب سے زیادہ لوگوں کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں نیا قانون: بچیوں کے ساتھ ریپ کی سزا موت

کیا پولیس مقابلے ریپ کو ختم کر سکتے ہیں؟

لیکن عالمی سطح پر پھانسی کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور ہیومن رائٹس کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ سال ایک دہائی میں سب سے کم پھانسی دی گئی۔

انڈیا میں کس سزا کے لیے سزائے موت دی جاتی ہے؟

زیادہ تر سزائے موت قتل کے جرم اور جنسی تشدد کے ساتھ قتل کے جرم میں دی گئی ہیں۔ سنہ 2018 میں قتل کے جرم میں 45 سزائے موت جبکہ قتل اور جنسی تشدد کے جرم میں 58 لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہیں۔

انڈیا میں یہ سزائیں تعزیرات ہند (1860) کی مختلف دفعات کے تحت دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ 24 دیگر ریاستی اور وفاقی قوانین بھی ہیں جن کے تحت موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

دہلی میں قائم نیشنل لا یونیورسٹی کے مطابق سنہ 1947 میں آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ پھانسی اترپردیش میں دی گئی ہے۔

اس ریاست میں مجموعی طور پر 354 افراد کو پھانسی دی گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ریاست ہریانہ ہے جہاں 90 لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں 73 لوگوں کو اب تک پھانسی دی جا چکی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں صرف سنہ 2018 میں عدالتوں نے 162 لوگوں کو موت کی سزا سنائی ہے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں دگنا ہے اور تقریبا دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

سنہ 2018 میں جنسی تشدد کے بعد قتل کے معاملے میں سزائے موت دیے جانے کے واقعے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی ایک وجہ قانون میں تبدیلی ہے۔

اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک پاکستان میں گذشتہ سال 250 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور بنگلہ دیش میں 229 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی گئی۔

لیکن عالمی سطح پر سنہ 2018 کے مقابلے میں سنہ 2017 میں کم سزائے موت دی گئی تھی۔ سنہ 2018 میں 2591 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ اس سے قبل 2017 میں 2531 کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

عالمی سطح پر سب سے زیادہ سزائے موت کون سا ملک دیتا ہے؟

ایمنسٹی انٹرنیشنل سزائے موت کے خلاف مہم چلاتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال 690 پھانسیاں دی گئیں جو کہ 2017 کے مقابلے میں 30 فیصد کم ہے۔

سنہ 2018 میں دی جانے والی تمام پھانسیوں میں سے 80 فیصد صرف ایران، سعودی عرب، ویت نام اور عراق میں دی گئیں۔

ایک شاذ و نادر دیے جانے والے بیان میں ویتنام نے گذشتہ سال نومبر میں تصدیق کی کہ وہاں 85 لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے۔ اس سے قبل کے سالوں میں ویتنام نے پھانسی کی تعداد ظاہر نہیں کی ہے۔

ایشیا پیسفک علاقے میں سنہ 2017 کے مقابلے میں گذشتہ سال پھانسی کے معاملے میں 46 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس کی اہم وجہ ویتنام ہے۔ جاپان میں 15 افراد، پاکستان میں 14 جبکہ سنگاپور میں 13 افراد کو پھانسی دی گئی۔ تھائی لینڈ میں سنہ 2009 کے بعد پھانسی کو پھر سے شروع کیا گیا ہے۔

اور امریکہ میں متواتر دوسرے سال پھانسیاں دی گئیں۔ گذشتہ سال 25 پھانسی دی گئی جو کہ سنہ 2017 میں دی جانے والی 23 پھانسیوں کے مقابلے میں ذرا زیادہ ہے۔

لیکن ان اعداد و شمار میں قدرے شگاف ہے۔

ان میں چین شامل نہیں ہے کیونکہ ایمنسٹی کے مطابق وہاں ہزاروں لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے لیکن اعداد و شمار کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

شام میں جاری جنگ کی وجہ سے وہاں یہ تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ آیا وہاں پھانسی دی جاتی ہے یا نہیں۔

جبکہ لاؤس اور شمالی کوریا کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان وجوہات کے سبب ان کے سزائے موت کے اعدادوشمار حقیقت سے کم ہو سکتے ہیں۔

کہاں سب سے زیادہ لوگ پھانسی کے منتظر ہیں؟

اس معاملے میں اعداد و شمار کے قیود ہیں کیونکہ ہر ملک کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد جس کا علم ہے وہ پاکستان سے ہے جہاں 4864 ایسے معاملات ہیں۔ رواں سال حقوق انسانی کے ایک پاکستانی گروپ کی تحقیق کے مطابق عام طور پر ایک قیدی کو 10 سال تک سزائے موت میں جیل میں گزارنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر ان کی اپیل عدالت عظمی میں سماعت کے لیے جاتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بنگلہ دیش میں 1500 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قدیوں کو بنگلہ دیش میں منتقل کیا جا رہا ہے

نیشنل لا یوینورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال کے خاتمے پر انڈیا میں 426 افراد کو سزائے موت ہو چکی تھی ان میں سے زیادہ تر کو سزا قتل کے جرم میں ہوئی ہے جبکہ 21.8 فیصد مزید ایسے ہیں جنھیں جنسی تشدد اور قتل دونوں میں سزائے موت ہوئی ہے۔

امریکہ میں بھی سزا‏ئے موت کے بہت سے واقعات ہیں اور ان کی تعدا 2654 ہے جبکہ نائجیریا میں یہ تعداد دو ہزار ہے۔

سنہ 2018 کے خاتمے تک دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک نے سزائے موت کو قانوناً یا عملاً ختم کر دیا ہے جو کہ گذشتہ دہائی کے 47 فیصد سے زیادہ ہے۔

سنہ 2018 میں برکینا فاسو نے سزائے موت کو ختم کر دیا جبکہ گیمبیا اور ملائیشیا نے سرکاری طور پر پھانسی کو التوا میں ڈال دیا ہے۔

امریکی ریاست واشنگٹن نے سزائے موت کو غیر آئینی قرار دیا اور اس طرح وہ امریکہ کی 20 ویں ریاست بن گیا ہے جہاں سزائے موت کو ختم کر دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں