’حزبِ اختلاف نے پاکستان کے کرتوت دنیا کے سامنے لانے کا موقع گنوا دیا‘: وزیراعظم نریندر مودی

مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ کے سامنے واقع تاریخی رام لیلا میدان میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف ان کا ساتھ دیتی تو شہریت کا بل ایک اچھا موقع تھا جب پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کانگریس پارٹی اور دیگر حریف جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریت کے ترمیمی بل سے متعلق کہا کہ ’یہ لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوشش کی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

شہریت کا قانون : انڈیا کے ہندو ہی ہندوؤں کے مخالف کیوں؟

اقلیتوں کو پناہ دینے سے متعلق بل میں مسلمان شامل نہیں

مسلمانوں سے مذہبی تفریق کا قانون پاس ہو سکے گا؟

شہریت کے متنازع بل کے خلاف انڈیا میں مظاہرے

خطاب کے آغاز میں ہی انھوں نے 'وودھتا میں ایکتا، بھارت کی وشیشتا' (کثرت میں وحدت، انڈیا کی خصوصیت) کا نعرہ لگوایا۔

نریندر مودی کے بقول شہریت کے قانون کی مخالفت میں انڈیا کے بعض دلت رہنما بھی آ گئے۔ ان کا اشارہ گذشتہ دنوں جامع مسجد سے ریلی کی کال دینے والے دلت رہنما چندرشیکھر آزاد کی جانب تھا جنھوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

اس بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان سے جو زیادہ تر پناہ گزین آئے ہیں وہ میرے دلت بھائی بہن ہیں۔۔۔ یہ وہ دلت خاندان ہیں جنھیں پاکستان میں غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ آج بھی پاکستان میں ان کی حالت یہ ہے کہ اگر کوئی دلت چائے پیتا ہے تو اسے چائے کے ساتھ چائے کے برتن کے بھی پیسہ دینے پڑتے ہیں اور برتن ساتھ لے جانا ہوتا ہے۔‘

’وہاں پر بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوتا ہے کس طرح انھیں شادی کر کے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے اخباروں میں چھپ چکا ہے لگاتار میڈیا میں آتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ ان کا ایمان مختلف ہے، عقیدت جدا ہے، عبادت کا طریقہ الگ ہے۔‘

مودی کی حزبِ اختلاف پر تنقید

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف اگر ان کا ساتھ دیتی تو یہ ایک اچھا موقع تھا کہ دنیا کو بتایا جاتا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں شہریت کے نئے قانون کی حمایت میں ریلی

نریندر مودی نے مزید کہا کہ ’پاکستان کیسے انسانی حقوق کا مخالف ہے، پاکستان کیسے اقلیتوں پر ظلم کرتا ہے، پاکستان میں اقلیتوں کی کیا خستہ حالت ہے، یہ تصویر دنیا میں لے جانے کا بہترین موقع تھا لیکن انھوں نے اس کو الٹا کر دیا کیونکہ اُن کو اُن کا ملک نہیں ان کی پارٹی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے ملک کی بھلائی اور دنیا میں پاکستان کے کرتوتوں کو دکھانے کا موقع بھی ان لوگوں نے گنوا دیا۔‘

کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے نریندر مودی کہتے ہیں کہ 'یہ لوگ دو دہائیوں سے اسی طرح میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ اسی وجہ سے آپ لوگوں نے مجھے اتنا پیار دیا ہے۔'

کانگریس پارٹی کے ساتھ انھوں نے نکسل اربن کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح وہ لوگوں کو شہریت کے نئے قانون کے متعلق ورغلا رہے ہیں۔

انڈیا کے مختلف حصوں میں مظاہرے

دوسری جانب شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف انڈیا کے مختلف حصوں سے مظاہروں کی خبریں آ رہی ہیں جن میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 20 سے زائد ہو گئی ہے۔

شمال مشرقی دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرے جاری ہیں۔ تاہم ملک کے کئی حصوں میں بی جے پی اور ان کی حلیف جماعتوں نے شہریت کے قانون کی حمایت میں جلوس بھی نکالے ہیں۔

آل انڈیا اتحاد المسلمین رہنما اسدالدین اویسی نے حیدرآباد میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے بڑی تعداد کہیں اور نظر نہیں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مستقل ایک ہفتے سے مظاہرہ جاری ہے

جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے شہر منگلور میں 19 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ اتوار کو ضلعی انتظامیہ نے شام 6 بجے تک کرفیو میں نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم، پورے علاقے میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا نے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کے اہل خانہ کے لیے دس دس لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں بدستور کشیدگی ہے۔ گذشتہ شب رات وہاں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے لیکن انڈیا کے معروف مورخ عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ پولیس کے مظالم انگریزی راج سے بھی بدتر نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption معروف تاریخ داں عرفان حبیب

مسلمان کانگریس کی گمراہ کن مہم کے فریب میں نہیں آئیں

دوسری جانب ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں وزیرِ کابینہ نتن گڈکری نے کہا 'شہریت میں ترمیم کا قانون ہندوستان میں کسی بھی مسلمان کے خلاف نہیں ہے۔ (اس کا مقصد) تین پڑوسی ممالک میں مظلوم اقلیتوں کو شہریت دینا ہے۔ ہم مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کانگریس کی گمراہ کن مہم کے فریب میں نہیں آئیں کیونکہ کانگریس نے ہمیشہ آپ کو ووٹ مشین کے طور پر دیکھا ہے۔'

جبکہ اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ 'بی جے پی این آر سی کے ذریعے ملک کو قطار میں رکھنا چاہتی ہے۔ معیشت خراب ہے، بے روزگار نوکریوں کے لیے بھٹک رہے ہیں۔ اس سب سے ساری توجہ کو ہٹانے کے لیے شہریت کا ترمیمی قانون بنایا اور این آر سی کی دھمکی دیتے ہیں۔'

فلمساز انوراگ کشپ شہریت کے ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انوراگ نے ٹویٹ کیا 'جو لوگ آئین کے تحت مہاجر بن کر آئے تھے وہ دونوں آج آئین کے تحت درانداز بن گئے ہیں۔ ہمیں اپنا آئین ان سے بچانا ہے۔'

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ 'مودی اور شاہ ہمارے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔ وہ بے روزگاری اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان پر آپ کا غصہ دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے نفرت کی چادر کے پیچھے چھپ کر وہ ملک کو توڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر ایک ہندوستانی سے محبت اس احساس کو شکست دینے کا ایک طریقہ ہے۔‘

اسی بارے میں