جھارکھنڈ انتخابات بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ دوسری ریاست ہے جہاں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے

انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ریاست جھارکنڈ کے اسمبلی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے جو کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور راشٹریہ جنتا دل نے 81 میں سے 47 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ حکمراں بی جے پی کو صرف 25 نشستیں ہی ملی ہیں۔

مئی میں پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد یہ دوسری ریاست ہے جہاں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے۔

یہ نتائج حکومت کے مخالفین کی حوصلہ افزائی کریں گے جو شہریت کے نئے قانون جسے مسلمانوں کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے، کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

شہریت کا قانون : انڈیا کے ہندو ہی ہندوؤں کے مخالف کیوں؟

انڈیا:مشرقی ریاستوں میں پناہ گزیں مخالف مظاہرے

شہریت کا متنازع ترمیمی بِل انڈین سپریم کورٹ میں چیلنج

جھارکھنڈ میں علاقائی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ نتائج سے لگتا ہے کہ یہ جماعت کانگریس کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنائے گی۔

بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی بی جے پی مہاراشٹرا میں ناکام ہوئی تھی۔

یہ نتائج اتنے اہم کیوں ہیں؟

اگرچہ جھارکھنڈ کے انتخابات زیادہ تر مقامی ایشوز پر لڑے گئے ہیں تاہم بی جے پی کی ناکامی کو ایک بڑے سیٹ بیک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابات کے پانچ میں سے تین مراحل کے دوران ملک میں شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 20 سے زیادہ افراد میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔

اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو جو کہ غیر مسلم ہوں، شہریت دی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اس قانون سے ظلم کا شکار ہونے والوں کی مدد ہو گی تاہم تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔

دیگر ریاستوں خاص طور پر سرحدی ریاستوں میں نئے شہریوں کی بڑی تعداد کے غلبے کا خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

پیر کو ایک ریلی سے خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ انڈیا کی ایک اعشاریہ 35 ارب کی آبادی میں سے سات میں سے ایک فرد کو شہریت کے نئے قانون کے بارے میں پریشانی کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں مسلمان شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس قانون سے ان کے لیے کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔

’مسلمان جو کہ اس مٹی کے بیٹے ہیں اور جن کے آباؤ اجداد انڈیا کے بچے ہیں، کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اپنی 100 منٹ کے دورانیے کی تقریر میں انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ شہریت کا قانون تفرقہ انگیزی کا باعث ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’جو لوگ جھوٹ اور خوف پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ میرے کیے کام کو دیکھیں۔ اگر آپ کو تفرقہ انگیزی کا کوئی سراغ ملتا ہے۔۔۔ تو دنیا کو دکھائیں۔‘

قانون میں کیا تنازع ہے؟

یہ قانون ہندو، مسیحی برادی اور دیگر اقلیتوں کو شہریت حاصل کرنے کا حق دیتا ہے جنھیں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ان کے مذہب کی وجہ سے ایذا رسائی کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ’ہندو نیشنلسٹ‘ ایجنڈے کا حصہ ہے تاکہ انڈیا میں مسلمانوں کو پسماندہ کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں