ایران میں احتجاج: کیا مظاہرین پر تشدد کا حکم آیت اللہ خامنہ ای نے دیا؟

ایران احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران احتجاج میں ہلاک افراد میں کم از کم 17 نوجوان اور 400 خواتین سمیت سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی تعداد بھی شامل ہے

ایران میں نومبر سے جاری احتجاج کے دوران کم از کم 1500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے اعلی سکیورٹی اور سرکاری عہدیداران کو ’ہر ممکن طریقے سے احتجاج ختم‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق اس حکم کی تصدیق خامنہ ای کے تین قریبی ذرائع اور ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کی ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہلاک افراد میں کم از کم 17 نوجوان اور 400 خواتین سمیت سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایران نے روئٹرز کی اس رپورٹ کی تردید کرتے اسے ہوئے ’فیک نیوز‘ یعنی جعلی خبر قرار دیا ہے۔

حکومتی ترجمان نے آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے جاری کسی قسم کے ایسے احکامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے اس خبر پر بات کرنے کے لیے روئٹرز کی جانب سے دی گئی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران: تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ملک گیر احتجاج

ایران کے مظاہروں میں اس مرتبہ کیا مختلف ہے؟

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کے بعد سے ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

15 نومبر کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے اقتصادی طور پر محروم علاقوں سے شروع ہوئے جہاں پیٹرول کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے پر پایا جانے والا غم و غصہ جلد ہی ملک بھر میں اور تمام سماجی طبقوں میں پھیل گیا۔

ملک بھر سے لوگ سڑکوں پر آ گئے اور ایران کے رہبر اعلیٰ کی تصاویر کو نذرِ آتش کرتے ہوئے انھیں ’آمر‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روئٹرز کے مطابق ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے اعلی سکیورٹی اور سرکاری عہدیداران کو ’ہر ممکن طریقے سے احتجاج ختم‘ کرنے کا حکم دیا تھا

خامنہ ای کے احکامات

حکام اور سماجی کارکنوں کی جانب سے سامنے لائی گئی تفصیلات کے مطابق ایرانی حکام نے حالیہ برسوں میں ہونے والے مظاہروں کے مقابلے اس احتجاج میں 'مہلک طاقت' کا استعمال کیا۔

حکام کے مطابق سنہ 2009 میں صدر محمود احمد نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا اور تقریبا 72 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2017 اور 2018 کی معاشی مشکلات پر کیے گئے احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تھی۔

خامنہ ای جو گذشتہ تین دہائیوں سے ایران پر حکومت کر رہے ہیں، نے اپنی اعلیٰ فورسز کو حالیہ بدامنی سے نمٹنے کا کہا تھا۔

مغربی صوبے کرمان شاہ میں پاسدران انقلاب کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق 18 نومبر کو رات گئے ہونے والی ایک ہنگامی میٹنگ میں صوبائی گورنر نے یہ ہدایات دی تھیں۔

پاسدران انقلاب کے محافظ نے گورنر کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ہمیں تہران میں موجود اعلی حکام سے مظاہروں کو ختم کرنے احکامات ملے۔ مزید رحم نہ کیا جائے، وہ اسلامی حکومت گرانے کو کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم انھیں مٹا دیں گے۔‘

ایران کے شہر کراج کے ایک مقامی عہدیدار کے مطابق احتجاج کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی طاقت کا استعمال کرنے کے احکامات جارے کیے گئے۔ انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’احکامات تہران سے آئے تھے کہ مظاہرین کو ان کے گھروں میں واپس بھیجا جائے، بیشک ان پر فائرنگ کرنی پڑے۔‘

تاہم مقامی حکومت نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

کراج کے رہائشیوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار پاسدران انقلاب کے محافظوں اور پولیس والوں کی مشین گن سے کی گئی فائرنگ سے وہ آگ کی زد مییں آ گئے۔ ایک رہائشی نے فون پر بتایا: 'ہر طرف خون تھا۔ سڑکوں پر خون تھا۔'

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق انھیں مظاہرین پر فائرنگ کی ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جو مظاہرین بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں، محافظوں نے ان کا پیچھا کرتے ہیں اور گنوں سے گھیر کر ٹرکوں پر سوار کر کے ان پر گولیوں برساتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دسمبر میں آنے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری احتجاج میں کم از کم 304 افراد ہلاک ہوئے ہیں

تہران کی تردید

ایران کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سینٹر کے سربراہ علی رضا ظریفیان نے روئٹرز کی اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’روئٹرز اس حوالے سے کوئی ثبوت اور دستاویزات فراہم نہیں کرنا چاہتا کہ ہلاکتوں کی تعداد 1500 ہی کیوں بتائی گئی؟ وہ ان ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار بھی کہہ سکتا تھا تاہم اس طرح کی جعلی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

تسنیم نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے علی رضا ظریفیان نے مزید کہا ’اس طرح کی خبر لکھنا اور اس طرح کے دعوے کرنا مشکل نہیں ہے۔ ایک پہلے سے طے شدہ نفسیاتی آپریشن کی بنیاد پر ایسے بہت سے دعووں کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور جب آپ ایسے میڈیا سے ثبوت یا ذرائع کا پوچھا جاتا ہے تو وہ آپ کو پوشیدہ مخلوق کا حوالہ دیتے ہیں لہذا روئٹرز نیوز ایجنسی کے دعوے کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس نقطہ نظر سمیت خبری نقطہ نظر سے بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس سے اس نیوز ایجنسی کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔‘

علی ظریفیان کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے تین گروپوں کو اس واقعے کی تحقیقات کرنے اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی امداد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک ٹیم تفصیلی تحقیقات میں مصروف ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ہر شخص کو کس طرح تکلیف پہنچی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر میں آنے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری احتجاج میں کم از کم 304 افراد ہلاک ہوئے جبکہ روئٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں یہ تعداد ایک ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں