انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف جامعات میں احتجاج: پانڈیچیری یونیورسٹی کی طالبہ کا انڈین صدر سے گولڈ میڈل لینے سے انکار

ربیحہ عبدالرحمان
Image caption پانڈیچیری یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کی گولڈ میڈلسٹ ربیحہ عبدالرحیم

انڈیا کے جنوبی خطے میں قائم پانڈیچیری یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے یونیورسٹی کانووکیشن میں انڈیا کے صدر سے گولڈ میڈل لینے سے انکار کر دیا ہے۔

پیر کو پانڈیچیری یونیورسٹی کے ستائیسویں کانووکیشن میں انڈین صدر رام ناتھ کووند نے طلبہ کو اسناد تقسیم کیے لیکن بہت سے طلبہ نے شہریت کے قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہرے کے پیش نظر ان کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔

شعبہ ابلاغیات کی گولڈ میڈلسٹ ربیحہ عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ وہ وہاں موجود تھیں اور مخالفت کرنے والوں میں شامل نہیں تھیں لیکن انھیں صدر کے آنے سے قبل باہر بلایا گیا اور صدر کے جانے کے بعد ہی انھیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

ربیحہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے یہ نہیں معلوم کہ انھوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا لیکن اس بات نے مجھے ہمت دی کہ میں فیصلہ کر سکوں۔ میں نے اپنا گولڈ میڈل مسترد کر دیا اور صرف سند قبول کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

شہریت کا متنازع ترمیمی بل، انڈیا بھر میں مظاہرے

انڈیا: شہریت کا نیا متنازع قانون اور طلبا سیاست کا احیا

شہریت ترمیمی بل: آسام میں اجتماعی بھوک ہڑتال

انھوں نے مزید کہا ’میں نے یہ قدم صرف اس لیے نہیں اٹھایا کہ مجھے وہاں سے نکال دیا گیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر میرے خلاف امتیازی سلوک کیا گیا بلکہ میں نے شہریت کے ترمیمی قانون، این آر سی اور طلبہ پر پولیس کے مظالم کی مخالفت کرنے والے طلبہ کے ساتھ یکجہتی میں ایسا کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا کے مختلف حصوں میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

بی بی سی تمل سروس سے بات کرتے ہوئے وہاں کے ایک طالب علم ارون کمار نے کہا کہ چونکہ ’صدر نے اس قانون پر دستخط کیے ہیں، اس لیے میں نے ان سے ڈگری نہ لینے کا فیصلہ کیا۔‘

اینتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی گولڈ میڈلسٹ طالبہ میگالہ نے کہا ’میں یونیورسٹی ٹاپر ہوں لیکن میرا دل اس بات پر راضی نہیں کہ میں یہ اعزاز ایسے وقت حاصل کروں جب ملک میں بہت سی چیزیں ہو رہی ہیں اور جس سے آئین متاثر ہو رہا ہے۔ یہ اعزاز کی بات ہے کہ آپ وہ لباس پہنیں، سٹیج پر جائیں اور انڈیا کے صدر سے میڈل حاصل کریں لیکن ہم نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔‘

انڈیا میں سوشل میڈیا پر ’پانڈیچیری یونیورسٹی‘ ٹرینڈ کر رہا ہے اور بہت سے صارفین کہہ رہے ہیں کہ ربیحہ کے ساتھ امتیازی سلوک ان کے حجاب کی وجہ سے ہوا ہے۔

آئی آئی ٹی مدراس کے جرمن طالب علم کا احتجاج

ٹوئٹر پر پانڈیچیری یونیورسٹی کے ساتھ ’آئی آئی ٹی مدراس‘ اور ’جیکب‘ بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جرمنی سے تعلق رکھنے والے آئی آئی ٹی مدراس کے طالب علم جیکب لنڈنتھال کو سی اے اے مخالف مظاہرے میں شرکت کرنے کے لیے فوراً ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق جرمن طالب علم نے بتایا کہ انھیں چینئی میں قائم فارنرز ریجنل ریجسٹریشن دفتر نے زبانی احکام جاری کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@rudrani_dg
Image caption جرمن طالب علم جیکب لنڈنتھال کو مختلف قسم کے بینرز کے ساتھ مظاہروں میں شریک دیکھا گیا ہے

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آئی آئی ٹی مدراس کے پروفیسر جگدیش نے بتایا ’یونیورسٹی نے جرمن طالب علم جیکب لنڈنتھال کو نہیں نکالا بلکہ ان کا کورس مکمل ہو چکا ہے۔‘

لیکن انھوں نے یہ تصدیق کی کہ ’جیکب یونیورسٹی سے جا چکے ہیں اور اپنے ملک کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے ہونے والے مظاہرے میں جرمن طالب علم پیش پیش نظر آئے تھے اور سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر شیئر کی گئیں۔

تصاویر میں انھوں نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ’1933-45 وی ہیو بین دیئر‘ یعنی ہم نے یہ دور دیکھ رکھا ہے جو کہ جرمنی کی تاریخ میں نازی دور سے تعبیر ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی نامہ نگار نیہا مسیح نے انڈین ایکسپریس کی خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’جرمنی میں کبھی بھی کسی کو کسی قانونی مظاہرے میں شرکت کرنے کے لیے نہیں نکالا گیا۔‘

انڈیا کی جامعات میں احتجاج کا سلسلہ

انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف سب سے پہلے شمال مشرقی ریاست آسام کے طلبہ نے آواز اٹھائی اور اس کی باز گشت دارالحکومت دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سنائی دی اور پھر جامعہ کے طلبہ کے خلاف پولیس ایکشن نے احتجاجی مظاہرے کو ملک بھر میں پھیلا دیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ابھی بھی مظاہرے جاری ہیں اور وہاں روزانہ دن ایک بجے سے شام چھ بجے تک طلبہ کے ساتھ مقامی افراد بھی مظاہرے کرتے ہیں۔

انڈیا میں پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ کسی بھی ریاست میں ایسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے نہیں جہاں سی اے اے کی مخالفت نہیں ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جامعہ کے طلبہ پر پولیس ایکشن کے خلاف جنوبی ریاست بنگلور میں بھی مظاہرے کیے گئے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی

بی بی سی نے جامعہ ملیہ کے پروفیسر اور سابق طلبہ ایکٹیوسٹ منیشا سیٹھی سے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے کہا ’ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، لوگ ایسے اداروں سے بھی سی اے اے کے خلاف باہر نکلے جہاں سے پہلے کبھی نہیں نکلتے تھے۔ جامعہ میں تو طلبہ یونین ہیں ہی نہیں اور نہ ہی طلبہ قیادت کو فروغ دیا گیا ہے تاہم نوجوان از خود باہر نکلے ہیں اور اس کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس میں خواتین کی شرکت حوصلہ افزا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ ملک میں ہر چیز کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔‘

انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہروں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اترپردیش میں ہوئی ہیں اور وہیں سب سے زیادہ لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں