انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون پر مظاہرے: سماجی کارکن صدف جعفر کی گرفتاری پر شور کیوں؟

صدف جعفر تصویر کے کاپی رائٹ SADAF JAFAR @FACEBOOK

انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں اتر پردیش میں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں ریاست بھر میں 925 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

صرف اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں 150 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں کانگریس پارٹی کی رکن، سماجی کارکن اور اداکارہ صدف جعفر بھی شامل ہیں۔

انھیں 19 دسمبر کو گرفتار کیا گیا اور24 دسمبر کو ان کی ضمانت عرضی مسترد کر دی گئی ہے۔

صدف جعفر لکھنؤ کی ایک مشہور سماجی کارکن ہیں، علاوہ ازیں وہ مختلف امور پر مضامین بھی لکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جھارکھنڈ انتخابات بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا

شہریت کے متنازع قانون پر بالی وڈ منقسم

انڈین پولیس پر مظاہرین، خواتین پر تشدد کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ www.facebook.com/Sadaf.Jafar

گرفتاری سے قبل انھوں نے اپنے فیس بک پیچ پر دو ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی تھیں جس میں انھوں نے پولیس کی مظاہرین کو روکنے میں نااہلی اور پتھراؤ کرنے والے شرپسند افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

صدف جعفر کو پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ انڈیا کے نئے متنازع شہریت قانون کے خلاف لکھنؤ میں ہونے والے ایک مظاہرے کے مقام پر موجود تھیں۔ اور اپنے فیس بک سے لائیو ویڈیو بنا رہی تھی۔

گرفتاری کے وقت فیس بک لائیو ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون پولیس اہلکار انھیں گرفتار کر رہی ہیں اور وہ ان سے سوال کر رہی ہیں کہ انھیں کیوں پکڑا جا رہا ہے، وہ ویڈیو میں پولیس اہلکار سے پوچھتی ہیں کہ انھیں کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

’جو پتھراؤ کر رہے ہیں انھیں گرفتار کرو ‘

تصویر کے کاپی رائٹ www.facebook.com/Sadaf.Jafar

صدف جعفر فلمساز میرا نائر کی ایک آنے والی فلم میں اداکاری کر رہی ہیں۔ میرا نائر نے ٹویٹ کر کے ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اس کے لیے یوپی پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

میرا نائر نے لکھا ہے کہ لکھنؤ میں پرامن احتجاج کے لیے صدف کو مارا پیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا: ’اب یہ ہے ہمارا انڈیا: نفرت انگیز۔ فلم سوٹیبل بوائے کی اداکارہ صدف جعفر کو لکھنؤ میں پر امن مظاہرے میں شرکت کرنے پر مارا پیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا! ان کی رہائی کے مطالبے کے لیے میرا ساتھ دیں۔‘

دوسری جانب کانگریس کی جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے بھی ٹویٹ کر کے صدف جعفر کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

پرینکا گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ہماری خاتون کارکن صدف جعفر پولیس کو بتا رہی تھیں کہ شرپسندوں کو پکڑو اور انھیں یو پی (اترپردیش) پولیس نے بری طرح سے مارا پیٹا اور گرفتار کر لیا۔ وہ دو کمسن بچوں کی ماں ہے۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ اس طرح کا جبر بالکل نہیں چلے گا۔‘

صدف جعفر کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ صدف کی گرفتاری کی معلومات انھیں نہیں دی گئی اور جب پوچھا گیا تو بھی انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔

صدف کی بہن ناہید ورما نے ٹویٹ کیا کہ انھیں کنبہ کے ساتھ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

اہل خانہ نے پولیس پر صدف پر حملہ کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تاہم پولیس واضح طور پر اس کی تردید کر رہی ہے۔

ایس پی (ایسٹرن ریجن) سریندر راوت کا کہنا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور انھیں قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جرم کے مکمل شواہد موجود ہیں۔

لکھنؤ کے شیامہ پرساد مکھرجی سول ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہےکہ جب انھیں ہسپتال لایا گیا تو ان کے جسم پر کسی قسم کے زخم کے نشان نہیں تھے۔

ادھر یوپی کانگریس کے صدر اجے کمار للو اور کانگریس کے رکن اسمبلی ارادھنا مشرا نے صدف سے جیل میں ملاقات کی اور پولیس پر صدف کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔

اجے کمار لالو نے بی بی سی کو بتایا: ’پولیس نے صدف جعفر کے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ان پولیس والوں نے انھیں بے دردی سے پیٹا ہے۔ ان کے پیٹ میں پولیس نے بندوق کے بٹ مارے ہیں۔‘

’سیاسی کارکنوں کے ساتھ اس طرح کے غیر انسانی اور دل ہلا دینے والے مظالم ہوئے ہیں۔ صدف نے یہ سب خود ہمیں بتایا ہے۔‘

کانگریس پارٹی نے صدف کی گرفتاری اور ظلم و ستم کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں