’طالبان نے افغان پیپلز امن موومنٹ کے کارکن اغوا کر لیے‘

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان کے مغربی علاقے میں موجود حکام اور رضاکاروں کا دعویٰ ہے کہ امن گروپ کے 27 افراد کو طالبان نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اس علاقے میں سفر کر رہے تھے۔

پیپلز امن موومنٹ نے دو ہفتے پہلے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبہ ہرات سے مارچ کا آغاز کیا تاہم وہ صوبہ فرح میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔

طالبان کی جانب سے ابھی اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیے

طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کرتے؟

’پاکستان نے افغان طالبان ہمارے حوالے نہیں کیے ہیں‘

خیال رہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن وہ مسلسل بنیادوں پر افغان اور بین الاقوامی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

فرح میں نائب گورنر مسعود بختاور نے کہا ہے کہ جو کارکن چھ گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے انھیں طالبان نے مرکزی شاہرہ پر روکا اور پھر انھیں ایک نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔

اس تحریک نے سنہ 2018 میں ہلمند سے اپنے مارچ کا آغاز کیا تھا۔ اس کی وجہ اس وقت سٹیڈیم میں ہونے والا کار بم دھماکہ بنی تھی جس میں جنوبی صوبے کے 17 شہری ہلاک اور 50 زخمی ہوئے تھے۔

تب سے ان کارکنان نے ملک کے دیگر حصوں کا رخ بھی کیا اور اکثر ان علاقوں میں مارچ کیا جو طالبان کے زیر قبضہ ہیں۔

طالبان کی جانب سے اس تحریک پر الزام لگایا گیا تھا کہ اسے حکومت کی جانب سے امداد ملتی ہے تاہم تحریک نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

سنہ 2001 سے لے کر اب تک لاکھوں افغان شہری اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ تین ہزار سے زیادہ غیر ملکی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں