انڈیا کے آرمی چیف کے بیان پر شدید رد عمل: ’کیا جنرل راوت انڈیا کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بپن راوت

انڈیا کے آرمی چیف بپن راوت نے شہریت کے قانون پر ہونے والے احتجاج پر جو رد عمل دیا ہے اس پر نہ صرف تنقید ہو رہی ہے بلکہ اب ان سے معافی مانگنے اور حکومت سے ان کے بیان کا نوٹس لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی سی پی آئی ایم کے جنرل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے اپنی جماعت کے پولٹ بیورو کی طرف سے فوج کے سربراہ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’جنرل راوت کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے دوران حالات کتنے خراب ہو گئے ہیں کہ فوج کے سب سے اعلیٰ عہدے پر بیٹھا شخص اپنے عہدے کی حدود کو پار کر رہا ہے۔‘

’ایسے حالات میں سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کہیں ہم فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر پاکستان کے راستے پر تو نہیں جا رہے۔ جمہوری احتجاج کے بارے میں اس سے پہلے کبھی فوج کے اعلیٰ افسر کی طرف سے اس طرح کے بیان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔‘

پولٹ بیورو نے فوج کے سربراہ سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے سرکار سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے اور جنرل راوت کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فوج کے سربراہ نے کیا کہا تھا

جنرل بپن راوت نے کہا ’لیڈر وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو صحیح راستے پر چلاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جتنی بڑی تعداد میں طلبا احتجاج کر رہے ہیں اس سے شہروں میں تشدد بڑھ رہا ہے۔‘

جنرل بپن راوت 31 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دلی میں جمعرات کو ایک پروگرام کے دوران شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کی مخالفت کی۔ جنرل راوت نے کہا ’ایک لیڈر کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی کیسے رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آپ ترقی کے راستے پر لے کر جاتے ہیں تو سب آپ کے پیچھے چلتے ہیں۔ لیڈر وہی ہے جو لوگوں کو صحیح راستہ دکھائے۔‘

فوج کے سربراہ حکومت کو کمزور کر رہے ہیں

جنرل راوت کے اس بیان پر سیاسی جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی نے ٹویٹ کیا کہ اپنے عہدے کی حدوں کو سمجھنا ہی لیڈرشپ ہوتا ہے۔ ’سویلین بالادستی اور اپنے ادارے کے وقار کو سمجھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔‘

اسد الدین اویسی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنرل راوت اپنے اس بیان سے حکومت کو کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر فوج کے سربراہ کی بات سچ ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی ویب سائیٹ پر لکھا ہے کہ ماضی میں انڈیا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران انہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ فوج کے بیان کے مطابق یہ کام غلط تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فوج کے سربراہ اس طرح کا بیان دے کر حکومت کو کمزور کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANI

تاہم مودی حکومت کے ایک وزیر رام داس اٹھاولے نے جنرل راوت کے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ فوج کے سربراہ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ سیاسی لیڈروں کو اپنے ساتھ چلنے والے لوگوں کو پرتشدد رخ نہیں اختیار کرنے دینا چاہیے۔ امبیڈکر ہوں یا گاندھی سبھی نے جمہوری طریقوں سے پر امن طور احتجاج کرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ لوگوں کو سرکاری یا نجی املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی پارٹی کو صحیح راستے پر لے کر چلنا چاہیے۔ میں بھی لوگوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو اگر کوئی پریشانی ہے تو پر امن طریقے سے اپنا موقف بیان کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANI
Image caption مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے

گزشتہ دو ہفتوں سے دلی سمیت پورے انڈیا میں شہریت کے قانون کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ ان مظاہروں اور مظاہرین کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ مختلف موقعوں پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

جنرل بپن راوت کی ریٹائرمنٹ کے بعد لیفٹننٹ جنرل منوج مکوند نروڑے فوج کے اگلے سربراہ ہوں گے۔ 15 اگست کو انڈیا کے وزیر اعظم نے لال قلعے سے ملک میں افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے ایک نئے عہدے کا اعلان کیا تھا۔ کابینہ نے ان کی اس تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق بپن راوت انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف ہو سکتے ہیں، حالانکہ اس بارے میں ابھی سرکری طور کچھ نہیں کہا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں