انڈیا کا متنازع شہریت ترمیمی قانون: جامعہ کی لڑکیوں نے ماتھے کے آنچل کو پرچم بنا لیا!

جامعہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کسی بھی احتجاج کو ہم اس وقت تک عوامی تحریک نہیں کہہ سکتے جب تک کہ اس میں ہر طبقے، ذات، برادری اور صنف کی نمائندگی نہ ہو۔

یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ تمام عناصر انڈیا کے متنازع شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) کے پسِ منظر میں چلائی جانے والی تحریک میں شامل ہیں؟ بطور خاص اس تحریک میں خواتین کی شرکت؟

سنہ 1857 کے انقلاب کے متعلق یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا وہ فوجی بغاوت تھی کہ مذہبی جنگ یا پھر وہ ایک عوامی تحریک تھی۔

مؤرخین کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ سنہ 1857 کی تحریک نہ تو اس نوعیت کی پہلی ایسی تحریک تھی اور نہ ہی یہ قومی سطح کی عوامی تحریک تھی۔ بعض مؤرخین نے اسے غیر مطمئن لوگوں کی جانب سے حکومت کے خلاف بغاوت قرار دیا تو دیگر اسے پہلی عوامی تحریک کہتے ہیں جس میں ہندو اور مسلمان، خواتین اور مرد نے ایک ساتھ مل کر لڑائی لڑی۔

یہ بھی پڑھیے

طالبہ کا احتجاج، انڈین صدر سے میڈل لینے سے انکار

دہلی: اکھڑے ڈیوائیڈر، ٹوٹی اینٹیں اور جلی ہوئی بسیں

طالبہ کا احتجاج، انڈین صدر سے میڈل لینے سے انکار

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح عوامی غصہ صرف رانی لکشمی بائی، حضرت محل یا زینت محل تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں عام خواتین بھی شریک تھیں جس پر آج تک تاریخ خاموش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1930 کی تصویر۔ خواتین نے بمبئی (آج ممبئی) شہر میں کانگریس پارٹی کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے برطانوی حکمرانی کے خلاف مظاہرہ کیا

گذشتہ چند برسوں کے دوران اس کے متعلق بات ہونے لگی ہے کہ سیاست کو صرف مردوں کا موضوع سمجھ کر منظم انداز میں خواتین کی شرکت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

اب جا کر عزیزن بائی سے لے کر جھلکاری بائی، ادلا، جمیلہ اور حبیبی کے کرداروں پر تاریخ نویسی کا کام شروع ہوا۔

اور یہ قدیمی روایت رہی ہے کہ عورتوں کو ایسے مواقع پر یا تو گھر سنبھالنے تک محدود کر دیا جاتا تھا یا ان کے کردار کو پدر شاہی سماج نظر انداز کر دیتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1905 میں بنگالی خواتین کی بنگ-بھنگ تحریک کی خواتین

سنہ 1857 کے بعد منظم طور پر سنہ 1905 کی بنگالی خواتین کی بنگ-بھنگ تحریک اہم رہی۔

در حقیقت ہر انڈین تحریک میں خواتین کے کردار کا فیصلہ اکثر اوقات ضرورت کے مطابق مرد اکثریتی قیادت کرتی رہی ہے۔

ضرورت پڑنے پر ان کو شامل کیا جب ضرورت ختم ہو گئی تو گھریلو ذمہ داریوں کی یاد دلا کر انھین گھر کی چار دیواری میں واپس بند کر دیا۔

حالیہ برسوں میں جاٹ اور مراٹھا تحریکوں میں ہمیں یہ نظر آیا کہ مرد اکثریتی قیادت نے خواتین اور لڑکیوں کو آگے کر دیا تھا لیکن وہ اپنے طور پر تحریک کو چلاتی نظر نہیں آئیں۔

جامعہ کی تحریک مثال کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاٹ اور مراٹھا تحریکوں میں خواتین پیش پیش نظر آئیں

انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے خواتین کو ملک گیر تحریک سے وابستہ کیا جس کے پس منظر میں شاید ان کا یہ خیال تھا کہ عورتیں فطری طور پر غیر متشدد ہوتی ہیں اور ان کے عدم تشدد کے اصول کو پورا کر سکتی ہیں اور آزادی تک خواتین کی شرکت مفید رہی۔ اس کے بعد، انھیں ایک بار پھر گھر پر واپس کر دیا گیا۔

سنہ 1947 سے لے کر آج تک کسی تحریک میں خواتین کی اس قدر جذباتی حصہ داری نہیں نظر آئی جتنی کہ سی اے اے مخالف تحریک میں نظر آئی۔

شہریت کے معاملے نے مردوں کی طرح خواتین کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ 13، 14 سالہ لڑکیاں بھی سڑک پر اکھٹی بنا کر نعرے لگا رہی ہیں کہ ’نکلو نکلو، گھر سے نکلو‘ اور ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘

ان لڑکیوں کے نعروں میں ان کے وجود کے بارے میں کہیں نہ کہیں خوف اور گہری تکلیف پوشیدہ ہے۔ مظاہرے میں بہت سی بوڑھی خواتین نے رکشہ پر بیٹھ کر حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پوری تحریک گاندھیائی عدم تشدد پر مبنی تھی کہ اسے کسی بھی طرح سے پرتشدد نہیں ہونے دینا ہے۔ بار بار یہ اعلان نہ صرف سڑکوں پر ہوتا رہا بلکہ خود مساجد سے بھی پرامن احتجاج کی اپیل کا اعلان سنا گیا۔

یونیورسٹی کیمپس میں 13 دسمبر کو شروع ہونے والے احتجاج میں خواتین خصوصا خواتین اساتذہ کی تعداد بہت کم تھی۔ لیکن 15 دسمبر کو پولیس کی کارروائی کے بعد پُرامن مظاہرہ ایک عوامی تحریک میں بدل گیا جس میں خواتین نے پوری سڑک کو گھیر لیا یہاں تک کہ اس کی قیادت بھی کی۔

تاریخ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ عورتوں کی شرکت اس وقت ہوئی ہے جب انھوں نے اپنے کنبہ یا معاشرے کے لیے خطرہ دیکھا ہے۔

کنفلیکٹ زون کے تجزیے میں فیمنسٹ اروشی بٹالیا کا بھی ماننا ہے کہ جب عورت کسی علاقے میں کسی سرگرمی میں حصہ لیتی ہے تو وہ کسی صلح کے پیمبر کے طور پر کسی سٹیٹ میکر کی حیثیت سے آتی ہے جس کی کچھ فوری وجوہات ہوتی ہیں کہ اپنے کنبے کو کیسے بچایا جائے نہ کہ مرنے مارنے کی بات کرتی ہیں۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین سیاسی دباؤ میں جھکتی نہیں کیونکہ مردوں کی طرح ان کے سیاسی عزائم نہیں ہوتے بلکہ یہ ان کے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہوتا ہے۔

'خواتین زیادہ سنجیدہ ہیں'

جیسا کہ ان دنوں شاہین باغ میں ستیہ گرہ پر بیٹھی خواتین کی ضد کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا نظر آیا کہ انھیں سی اے اے قانون کے بارے میں پتا ہو یا نہیں لیکن انھیں یہ پتا ضرور ہے کہ یہ ان کے بقا کی لڑائی ہے۔

دراصل عورت ایک ایسا طبقہ ہے جو اپنی جڑوں سے جلدی ہلتا نہیں۔ یہاں تک کہ بٹوارے کی ایسی بہت ساری کہانیاں ہیں جن میں خواتین نے انڈیا یا پاکستان میں نقل مکانی سے واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔

یہاں تک کہ مسلمان تقسیم کی تکلیف سے آج بھی گزر رہے ہیں اس کے باوجود 99 فیصد مسلمانوں نے انڈیا کو اپنے گھر کے طور پر منتخب کیا، اعداد و شمار میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ریاست اتر پردیش سے بمشکل ایک فیصد مسلمان ہی پاکستان گئے تھے۔

چنانچہ یہ خواتین ہمارے ثقافتی ورثے کی نشاندہی کرنے کے لیے سڑکوں پر ہیں کہ کیا پوچھتے ہو، وہ تاج محل ہے، ہمارا پتہ لال قلعہ ہے۔

اس کپکپاتی سردی میں ایک عورت اپنے گود میں اپنے چھ ماہ کے بچے کے ساتھ رات بھر دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ خواتین اس معاملے میں کتنی سنجیدہ ہیں۔

شاید یہ جگہ انھیں ترغیب دیتی ہے کہ اگر چندا یادو اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے انتظامیہ سے ٹکر لے سکتی ہے تو پھر وہ خود کیوں نہیں کھڑی ہو سکتیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چندا یادو کروڑوں مسلمان لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بن چکی ہیں۔

اس تحریک میں زیر بحث جامعہ کی وہ لڑکیاں رہیں جو پرہجوم مجمے میں للکار رہی تھیں، لڑکیوں نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آخر یہ چندا، سرجن اور ایمان وہاں کیوں ڈٹی ہوئی ہیں۔

کبھی نہیں فراموش کرنے والی چندا کی للکار اس تحریک کی ایک اہم کڑی تھی۔ پھر کھلی پیٹھ کڑاکے کی ٹھنڈ میں جامعہ کے طلبہ کے 16 دسمبر کے مارچ نے پورے ملک کی یونیورسٹیوں کو متحد کر دیا۔

’گلاب انقلاب‘

ایک طرح سے یہ سارے واقعات طلبہ تحریک کی علامت بن گئے۔ اسی وقت علی گڑھ میں بھی اسی طرح کے واقعات رونما ہو رہے تھے لیکن وہ موضوع بحث نہیں بنے کیونکہ وہاں لڑکیاں آگے نہیں تھیں۔

دلی پولیس کے جوانوں کو گلاب دیتیں اور گیت گاتی لڑکیاں ’دلی پولیس ہم سے بات کرو‘ نے صحیح معنوں میں ’گلاب انقلاب‘ بنا دیا اور یہ پیغام گیا کہ وہ تاریخ پڑھنے نہیں بنانے نکلی ہیں۔

دراصل دلی کی تحریک میں گلاب کا استعمال محبت کی علامت کے طور پر ایک خاص طریقہ تھا جس نے کافی توجہ مبذول کرائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جامعہ کے معاملے پر یونیورسٹی کی وی سی پروفیسر نجمہ اختر نے جو فطری حساسیت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ویسا علی گڑھ یونیورسٹی میں نظر نہیں آیا۔ یہاں بھی یہ ثابت ہوا کہ جب خواتین قیادت کرتی ہیں تو ان کے اندر کی بے خوف اور جذباتی عورت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دہلی کی اس تحریک نے ثابت کیا کہ خواتین پرامن مزاحمت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں۔

تاریخ کے صفحات میں درج درخت سے چپکنے والی چپکو تحریک کی خواتین اور اپنی بقا کے لیے کڑاکے کی ٹھنڈ میں دن رات سڑک پر دھرنے پر بیٹھی شاہین باغ کی خواتین کو کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔

(یہ مصنفہ کے ذاتی خیالات ہیں، وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سروجنی نائیڈو سنٹر فار ویمن اسٹڈیز میں پڑھاتی ہیں)

اسی بارے میں