چین نے سیکس ورکرز کے لیے مخصوص حراستی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین نے قحبہ گری سے متعلق بنائے گئے سزا کے ایسے نظام کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پولیس کو سیکس ورکرز اور ان کے گاہکوں کو دو برس تک نام نہاد تعلیمی مراکز میں قید رکھنے کی اجازت ہوتی تھی۔

قید کے دوران ان افراد کو کھلونے اور گھریلو ضرورت کا سامان بنانے پر مجبور بھی کیا جاتا تھا۔

اس حراستی نظام کا خاتمہ 29 دسمبر کو ہو جائے گا۔ چین کے سرکاری میڈیا چینل شینہوا کے مطابق ایسے افراد جو اب بھی اس نظام کے تحت حراست میں ہیں انھیں رہا کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

’قحبہ خانے سے نکال دیا تو سڑک پر آ جاؤں گی‘

اپنے جیسوں کا مستقبل بچانے والی سابقہ سیکس ورکرز

چین پر تنقید: امریکی لڑکی کا اکاؤنٹ بحال، ٹک ٹاک کی معافی

تاہم اب بھی چین میں قحبہ گری غیر قانونی ہے اور اس کی سزا میں 15 دن تک قید اور پانچ ہزار یوان یعنی 546 پاؤنڈ جرمانہ شامل ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس ’حراستی اور تعلیمی‘ نظام نے ’معاشرے میں خوشگوار ماحول اور نظم و ضبط‘ برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس نظام کو متعارف ہوئے 20 سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس نظام کی افادیت میں کمی آتی گئی۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ایشیا کیٹالسٹ نے سنہ 2013 میں ایک تحقیق کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ نظام واقعتاً مفید ہے۔

اس تحقیق میں دو مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والی تیس خواتین سیکس ورکرز کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیق کے مطابق 'جتنے بھی سیکس ورکرز کو یہاں سے رہائی ملی انھوں نے رہائی کے فوراً بعد قحبہ گری ہی اپنانے کا فیصلہ کیا'

اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قید میں موجود افراد ایسے نئے فن نہیں سیکھ پاتے جن کی مدد سے ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس میں مزید لکھا ہے کہ قیدی عام طور پر مزدوری کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ’جتنے بھی سیکس ورکرز کو یہاں سے رہائی ملی انھوں نے رہائی کے فوراً بعد قحبہ گری ہی اپنانے کا فیصلہ کیا۔‘

سنہ 2013 میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے 140 سیکس ورکرز، گاہکوں، پولیس والوں اور ماہرین سے بات کی جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ متعدد سیکس ورکرز پر پولیس نے اقرارِ جرم پر مجبور کرنے کے لیے تشدد بھی کیا۔

ایک خاتون سیکس ورکر نے دعویٰ کیا کہ انھیں دھوکہ دے کر اقرارِ جرم کروایا گیا۔

انھوں کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے مجھ سے کہا کہ کوئی بات نہیں آپ کو صرف اس دستاویز پر دستخط کرنے ہیں اور ہم آپ کو چار سے پانچ دنوں میں رہا کر دیں گے۔

’اس کے برعکس میں ایک ہراستی اور تعلیمی مرکز میں چھ ماہ تک قید رہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'چینی قانون اور پالیسیوں کی توجہ قحبہ گری کے خاتمے پر مرکوز ہے جبکہ بطور پیشہ قحبہ گری کے کام میں صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے'

ایشیا کیٹالسٹ کے ڈائریکٹر شین ٹنگٹنگ کا کہنا ہے کہ جبری مشقت کے ہراستی مراکز کا خاتمہ ایک مثبت اقدام ہے تاہم یہ سیکس ورکرز کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک معمولی قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چینی قانون اور پالیسیوں کی توجہ قحبہ گری کے خاتمے پر مرکوز ہے جبکہ بطور پیشہ قحبہ گری کے کام میں صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔'

سنہ 2013 میں چین نے معمولی جرائم میں قید مجرموں کی ’مشقتی مراکز کے ذریعے تعلیم‘ کے نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

یہ فیصلہ بھی ناانصافی اور قانونی نظام کی ناکامی کی متعدد مثالوں کے بعد سامنے آیا۔ ایک مقدمے میں ایک ماں کو اپنی بیٹی کے ریپ کے خلاف انصاف مانگنے کے باعث مشقتی مرکز بھیج دیا گیا تھا۔

تاہم اس وقت اس فیصلہ میں سیکس ورکرز اور ان کے گاہکوں کی ’حراست اور تعلیم‘ کے نظام کا خاتمہ شامل نہیں تھا۔

چین تربیت دینے کے تصور کو ختم نہیں کر رہا۔ چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک کے شمال مشرقی صوبے سنکیانگ میں متعدد مراکز دراصل رضا کارانہ اصلاحی مراکز ہیں جو شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ چین کے اویغور مسلمانوں کو ان مراکز میں رکھا جاتا ہے جہاں انھیں اپنے عقیدے پر تنقید اور ملامت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں