شہریت کا متنازع ترمیمی بل: انڈیا کی علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک ہزار سے زائد طلبا کے خلاف مقدمہ درج

مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے دو گھنٹے کی مسافت پر موجود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد کرنے کے الزام میں ایک ہزار سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں ابھی بھی اس قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

دوسری جانب کانگریس کی رہنما اور اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے اترپردیش پولیس پر ان کا گلا پکڑنے اور ہاتھا پائی کا الزام عائد کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جب وہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے پر گرفتار ہونے والے ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر کے گھر جارہی تھیں تو انھیں روکنے کی کوشش کی گئی اور اسی دوران یہ سب ہوا۔

اس سلسلے میں اتر پردیش پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریانکا گاندھی کا دعویٰ غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں آج کل محمد علی جناح کا اتنا ذکر کیوں؟

دہلی: اکھڑے ڈیوائیڈر، ٹوٹی اینٹیں اور جلی ہوئی بسیں

جامعہ کی لڑکیوں نے ماتھے کے آنچل کو پرچم بنا لیا!

دریں اثنا علی گڑھ یونیورسٹی کے نامعلوم طلبا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 147 (ہنگامہ آرائی)، 153 (فساد پھیلانا) اور 332 (سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور کارِ سرکار میں مداخلت) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں پولیس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا لیکن جب صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو ہمیں ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور کچھ لاٹھی چارج کرنا پڑا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے طلبا نے ’ملک دشمن‘ نعرے لگائے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔

پولیس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے تشدد پر قابو پانے کے لیے ربڑ کی گولیوں، آنسو گیس اور مرچ کے سپرے کا سہارا لیا تھا۔ ریپڈ ایکشن فورس (آر پی ایف) کے مطابق اس پرتشدد مظاہرے میں 11 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور ایک کمانڈر زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ دہلی کی جامعہ یونیورسٹی میں ہونے والے پولیس ایکشن کی خبر جوں ہی علی گڑھ پہنچی تو وہاں موجود طلبا اظہار یکجہتی کے لیے اکھٹے ہوئے جبکہ علاقے میں پہلے ہی آر پی ایف تعینات تھی جس نے انھیں کیمپس سے باہر جانے سے روکا اور وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

طلبا کے احتجاج پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا جس میں مختلف رپورٹس کے مطابق کم از کم 60 طلبا زخمی ہو گئے جبکہ ایک طالبعلم کا ہاتھ بری طرح مجروح ہونے پر کاٹ دیا گیا۔

بی بی سی کی پرینکا دوبے نے علی گڑھ کا دورہ کیا تو انھیں وہاں کی صورت حال بہت زیادہ تشویشناک نظر آئی۔

انھوں نے لکھا کہ ’دوستوں، ڈاکٹروں اور اپنے اساتذہ میں گھرے طارق صرف غمزدہ نظروں سے وارڈ کی چھت کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہیں، کچھ بول نہیں رہے ہیں۔ ان کی پلکیں نم ہیں اور سینے پر آپریشن کے بعد پٹیوں میں لپٹا باقی آدھا ہاتھ پڑا ہے۔ قریب بیٹھے ان کے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ ابھی انھوں نے گھر والوں سے طارق کا ہاتھ کٹنے کی خبر پوشیدہ رکھی ہے۔'

اے ایم یو سے پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ سکالر اشتیاق احمد ربانی نے بی بی سی کو بتایا کہ طلبا کا پرامن احتجاج جائز تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی ہمیں اس ملک کا شہری نہیں مانتا، تو پھر ہمارے پاس اپنے آئینی حقوق کے لیے لڑنے کے سوا کیا آپشن باقی ہے؟ آج حکومت کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں کو نئے شہریت کے قانون سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اگر کل ہمارے نام کا ایک بھی حرف غلط چلا گیا تو ہم بے وطن قرار دیے جائیں گے۔ یعنی بغیر ملک کا شہری! پھر ہم کیا کریں گے!‘

طلبا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ماریسن ہاسٹل کے پرانے گارڈ کو بھی مارا پیٹا اور طلبا کو پیٹتے ہوئے ’'تم ملاؤں کو تو مارنا ہی چاہیے‘ جیسے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے فقرے کسے۔

جبکہ جمعے کو حکومت نے اترپردیش کے 21 اضلاع میں انٹرنیٹ سہولیات بند کر رکھی ہے۔ بی بی سی کی یوگیتا لیمائے کی رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ کانپور میں احتجاج کی ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ مظفر نگر میں مظاہروں سے متعلق ایک ویڈیو میں پولیس کو مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ویڈیو میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والے بوڑھے اور کمزور شخص کو بھی پیٹ رہے ہیں۔

مظفر نگر کے ایک معمر شخص نے بی بی سی کے نمائندے زبیر احمد کو بتایا کہ کس طرح لوگ پولیس کے لباس اور سادے لباس میں ان کے گھر آئے اور انھیں اٹھا کر لے گئے، گھر میں صرف خواتین رہ گئیں۔ جبکہ گھر کی خواتین نے بتایا کہ گھر میں آنے والی بھیڑ نے ان کے مکان میں توڑ پھوڑ کی اور نقدی کے ساتھ زیورات بھی لے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کانپور میں مختلف پولیس تھانوں میں 15 ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں 21 ہزار 500 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ جمعے کے بعد سے کم از کم 13 افراد کو گرفتار کر لیا گيا ہے۔

کانپور کے ایس ایس پی اننت دیو نے بتایا کہ ’شہر کے مختلف حصوں سے 21500 لوگوں کے خلاف کم از کم 15 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور اب تک 13 افراد کو گرفتار کیا گيا ہے۔ 12 افراد کو بیکن گنج پولیس نے گرفتار کیا ہے جبکہ ایک شخص کو بلہور میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تفصیلات کے مطابق تمام ملزمان نامعلوم ہیں۔ پولیس کے مطابق پانچ ہزار لوگوں کے خلاف بابوپورا میں ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ بیکن گنج میں چار ہزار لوگوں کے خلاف، کوتوالی پولیس تھانے میں ایک ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تو تو پیل خانہ میں پانچ ہزار نامعلوم افراد کے خلاف۔

تاریخ شہر بنارس میں بھی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم 59 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ لکھنؤ میں بھی تقربیا ڈھائی سو افراد کو حراست میں لیا گیا جس میں معروف سماجی کارکن اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔'

گذشتہ روز جب کانگریس رہنما پرینکا گاندھی گرفتار ہونے والے افراد میں سے ایک کے گھر جا رہی تھیں تو ان کے مطابق خاتون پولیس نے ان سے ہاتھا پائی کی۔ ان کے الزام کو پولیس نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔

پرینکا کے بعد کانگریس رہنما ششمیتا دیو نے پریس کانفرنس منعقد کرکے اترپردیش پولیس پر ہاتھاپائی کے الزامات لگائے۔

انھوں نے کہا ’پرینکا گاندھی کو گھیرا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب ان کی گاڑی میں پانچ سے کم لوگ سوار تھے اور یہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی نہیں تھی۔ پولیس اہلکاروں نے جس طرح سے ان سے ہاتھا پائی کی اس سے کیا لگتا ہے کہ یو پی پولیس حفاظت کے لیے ہے یا ظلم کرنے کے لیے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سشمیتا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہاتھا پائی کی وجہ سے پرینکا گاندھی چوٹ لگی ہے۔ انھوں نے کہا ’میرا وزیر اعلی اجے بِشٹ (یوگی آدتیہ ناتھ) سے سوال یہ ہے کہ یوپی میں 18 افراد کی موت ہوئی ہے۔ ان میں سے 12 افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے کیوں کر ہوئی؟ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ پرینکا گاندھی سے ہاتھا پائی کرنے والی پولیس اہلکار کو برطرف کیا جائے۔‘

کانگریس کی رہنما نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کی حکومت کو برخاست کیا جائے۔ یوپی پولیس نے آج اپنی تمام حدیں پار کر لیں۔‘

اس سے قبل جب راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی میرٹھ میں مرنے والے مظاہرین کے اہل خانہ سے ملنے گئے تو انھیں پولیس نے شہر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پولیس نے انھیں کوئی کاغذات نہیں دکھائے اور وہاں جانے نہیں دیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے امن و امان کی صورت حال بگڑنے کے خدشے کے پیش نظر ایسا کیا ہے۔

شہریت کے نئے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے متعلق سامنے آنے والے ویڈیوز، اتر پردیش میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ایف آئی آر سے ریاست میں مظاہرین کے ساتھ پولیس کے برتاؤ کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا پولیس کے پاس تشفی بخش جواب نہیں ہے۔

اسی بارے میں