انڈیا: دسمبر میں دو لاکھ سے زائد افراد نے تاج محل کی سیر ’منسوخ‘ کی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین میڈیا کے مطابق صرف 20 اکتوبر 2018 کو 50000 سے زیادہ افراد آگرے میں 17 ویں صدی کار شاہکار تاج محل دیکھنے گئے

انڈیا میں متعارف کرائے گئے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے ملک کی سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

کم از کم سات ممالک ایسے ہیں جنھوں نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کے سفر سے متعلق احتیاط برتیں۔

اب تک ہونے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ پورے ملک سے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

علی گڑھ یونیورسٹی: سینکڑوں طلبا کے خلاف مقدمہ درج

انڈیا: صدف جعفر کی گرفتاری پر شور کیوں؟

شہریت کا متنازع ترمیمی بل، انڈیا بھر میں مظاہرے

انڈین ریاستیں شہریت کے قانون کو روک سکتی ہیں؟

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد کرنے کے الزام میں ایک ہزار سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں اس قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

دوسری جانب کانگریس کی رہنما اور اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے اترپردیش پولیس پر ان کا گلا پکڑنے اور ہاتھا پائی کا الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہ جہاں اور ان کی بیگم ممتاز محل کی محبت کی یادگار تاج محل سفید پتھر سے بنائی ہوئی ایک عظیم عمارت ہے

پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جب وہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے پر گرفتار ہونے والے ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر کے گھر جا رہی تھیں تو انھیں روکنے کی کوشش کی گئی اور اسی دوران یہ سب ہوا۔

اس سلسلے میں اتر پردیش پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریانکا گاندھی کا دعویٰ غلط ہے۔

تاج محل ’منسوخ‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً دو لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاح آگرہ میں قائم محبت کی یادگار تاج محل کا دورہ یا تو بالکل منسوخ یا ملتوی کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آگرہ دنیا کے سب سے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

تاج محل کے نزدیک سیاحوں کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن پر تعینات پولیس انسپکٹر دنیش کمار نے روئٹرز کو بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال صرف دسمبر میں ہی گذشتہ برس کے دسمبر کے مقابلے میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

کمار کے مطابق انڈین اور غیر ملکی سیاح ان کے کنٹرول روم میں سکیورٹی کی صورتِ حال کے متعلق فون کرتے ہیں۔ 'ہم انھیں تحفظ کا یقین دلاتے ہیں لیکن کئی پھر بھی یہاں سے دور رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسے مسترد کیا ہے

تاج محل اتر پردیش میں واقع ہے جہاں اب تک ہونے والے پرتشدد واقعات میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور دو ہفتے سے جاری تشدد کے ان واقعات میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 65 لاکھ سیاح ہر سال تاج محل دیکھنے آتے ہیں اور صرف ٹکٹ سے ہی یہ ہر سال ایک لاکھ چالیس کروڑ ڈالر اکٹھا کر لیتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق تاج محل کے قریب لگژری ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے مینجر کہتے ہیں کہ تہواروں کے ان مہینوں میں آخری وقت پر سیاحوں کے یہاں نہ آنے کے فیصلوں سے تاجر برادری بڑی پریشان ہے۔ اور یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ملک کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔ اقتصادی ترقی کی رفتار چار اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ گذشتہ چھ برسوں اب تک سب سے سست ہے۔

روئٹرز نے آسام کے ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے سربراہ جیانتا مالا بروہوا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست آسام میں جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ایک سینگھ والے گینڈوں کی تعداد موجود ہے، دسمبر کے مہینے میں پانچ لاکھ کے قریب سیاح آتے تھے، 'لیکن اب تک، جاری مظاہروں اور کئی ممالک کی طرف سے جاری کیے گئے سفری انتباہ کی وجہ سے یہ تعداد اگر اس سے زیادہ نہیں تو 90 فیصد ضرور کم ہو گئی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملک کے کئی حصوں میں یہ مظاہرے پرتشدد ہو گئے اور 25 سے زیادہ لوگ ہلاک بھی ہوئے

وہ ممالک جنھوں نے سفری انتباہ جاری کیا:

برطانیہ

ملک (انڈیا) کے کئی حصوں میں شہریت کے ترمیمی بل (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، جن میں سے کچھ پرتشدد ہیں۔ کچھ حصوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی نظام (انٹرنیٹ اور موبائل سروسز) متاثر ہو سکتا ہے۔ بغیر کسی نوٹس کے مزید روکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ آپ کو چاہیئے کہ احتیاط برتیں، تازہ معلومات کے لیے مقامی میڈیا کو مانیٹر کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور سفر کے لیے اپنے آپ کو مزید وقت دیں۔

آپ کو چاہیئے کہ مظاہروں اور بڑے اجتماع سے بچیں۔

سنہ 2017 میں 940000 سے زیادہ برطانوی شہریوں نے انڈیا کا سفر کیا تھا۔

امریکہ

انڈیا میں امریکی شہریوں کو چاہیئے کہ شہریت ترمیمی بل کے منظوری کے بعد پورے ملک میں ہونے والے مظاہروں کے روشنی میں احتیاط سے کام لیں اور ان تمام علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں جہاں مظاہرے ہو رہے ہوں۔

یہ ضروری ہے کہ آپ مظاہروں کے متعلق اپڈیٹس، سڑکوں اور بڑے پیمانے پر آمد و رفت کے ذرائع بند ہونے، اور فضائی سفر پر ممکنہ اثرات کے لیے مقامی میڈیا کو مانیٹر کریں۔ گاہے بگاہے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش بھی ممکن ہے۔ کچھ علاقوں میں حکومت نے دفعہ 144 بھی لاگو کیا ہوا ہے جس کے تحت چار یا چار سے زیادہ افراد ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔۔۔

آسٹریلیا

ملک کے کچھ حصوں میں شہریت کے نئے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر تشدد ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ نے کچھ علاقوں میں کرفیو لگا دیا ہے۔ بغیر کسی نوٹس کے ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی نظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اپنے آپ کو سفر کے لیے زیادہ وقت دیں۔ چاک و چوبند رہیں، مقامی میڈیا کو مانیٹر کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

سعودی عرب

14 دسمبر کو انڈیا میں موجود سعودی سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک سفری انتباہ میں سعودی شہریوں کو جاری مظاہروں کی وجہ سے انتہائی احتیاط اور انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں جانے سے جہاں تک ممکن ہو پرہیز کا کہا گیا۔

کینیڈا

شہریت کے نئے قانون کے خلاف ملک کے کچھ حصوں میں جن میں آسام، منی پوری، ناگا لینڈ، مگھالے، تری پورہ، سکم اور دلی شامل ہیں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

اتر پردیش اور نئی دلی کے کچھ حصوں میں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے کچھ علاقوں میں کرفیو بھی لگایا ہے۔

اسی طرح کا انتباہ روس، فرانس، آسٹریلیا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور تائیوان نے بھی جاری کیا ہے۔

اسی بارے میں