قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا انٹرویو: ایران ’جائز اہداف‘ کے خلاف ہی کارروائی کرے گا

ظریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایرانی قانون کی پاسداری کرنے والی قوم ہے اور تہران جب بھی کوئی قدم لے گا تو وہ غیر موزوں نہیں ہو گا بلکہ ’جائز اہداف‘ کے خلاف ہی ہو گا۔

یہ بات انھوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کی۔

جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کے اپنے سنگین نتائج ہوں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر نے ایرانی سکیورٹی کونسل کو ایرانی فورسز کے ذریعے امریکہ کو موزوں اور براہ راست جواب دینے کی ہدایت کی ہے تو انھوں نے کہا کہ ایران کا کوئی اقدام ’غیر موزوں‘ نہیں ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ قانونی اہداف کے بارے میں بین الاقوامی جنگی قانون بہت واضح ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے جمعے کے روز عراق میں فضائی حملہ کر کے ایران کے سرکردہ عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ قاسم سلیمانی کو ایران میں ایک قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا اور انھیں ملک میں آیت اللہ خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران، امریکہ کشیدگی: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

جنرل سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک، ایران ’بدلہ لے گا‘

قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ذہن میں گردش کرتے سوالات

’ایران نے حملہ کیا تو 52 ایرانی مقامات ہمارے نشانے پر ہیں‘

دوسری جانب امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی سفارتی مشن پر بغداد نہیں آئے تھے۔ منگل کو امریکی دفتر خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پومپیو نے ہنستے ہوئے پوچھا: ’کیا آپ میں سے کوئی اس بات پر یقین کرتا ہے؟‘

انھوں نے طنزیہ انداز میں جنرل سلیمانی کو ’نرم دل اور اعلی پائے کے سفارت کار‘ کہتے ہوئے پوچھا: ’کیا تاریخ میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے جس کی بنا پر ہم یہ کہہ سکیں کہ قاسم سلیمانی امن کے مشن پر بغداد آئے؟ مجھے خوشی ہے کہ میری بات سے آپ (صحافی) محظوظ ہوئے ۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی سعودی حکام سے بھی بات ہوئی ہے اور جنرل سلیمانی کوئی امن کا پیغام لے کر بغداد نہیں آ رہے تھے۔ پومپیو کا کہنا تھا: ’جواد ظریف صفِ اوّل کے پراپوگینڈسٹ ہیں۔‘

Image caption امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی سفارتی مشن پر بغداد نہیں آئے تھے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ ’قاسم سلیمانی نے ایک طویل مدت کے دوران ہزاروں امریکیوں کو ہلاک یا بری طرح سے زخمی کیا، اور وہ بہت سے لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازشیں کر رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ پکڑے گئے۔‘

امریکی ڈرون حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے میں جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ نے کئی ایرانی شہریوں اور ایرانی حکام کو مارا، جو کہ ایک جنگی اقدام ہے اور ایران اس کا مناسب جواب دے گا۔

ٹرمپ کو غلط مشورہ ملا

’میرا نہیں خیال کہ امریکہ نے تناؤ میں کمی کا راستہ چنا ہے، تناؤ میں کمی کی بات کرنا اور اس راستہ کا انتخاب کرنا مختلف چیزیں ہیں۔ امریکہ نے ایران اور عراق کی کئی اہم شخصیات کو غیر ملکی علاقوں میں مار دیا۔ یہ جنگی اقدام ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’امریکہ نے پہلے عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی اور عراقی پارلیمان نے اس سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے خطے میں لوگوں کے احساسات کو تکلیف پہنچی جن کو ایران کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اس (امریکہ) نے، کئی ایرانی شہریوں اور کئی ایرانی فوجی حکام کو مار ڈالا۔ یہ ایک جنگی اقدام ہے جسے ایک بزدلانہ اور دہشت گرد حملے میں سرانجام دیا گیا ہے اور ایران اس کا مناسب جواب دے گا۔‘

جواد ظریف نے کہا کہ ’تناؤ میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ مزید ایسے اقدامات نہ کرے، ایران کو دھمکیاں دینا بند کرے اور ایرانی عوام سے معافی مانگے، لیکن امریکی اقدام کے سنگین نتائج ہیں جو سامنے آئے گیں اور میرا ماننا ہے کہ وہ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے خطے میں امریکی موجودگی کا اختتام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ نے کئی ایرانی شہریوں اور ایرانی حکام کو مارا، جو کہ ایک جنگی اقدام ہے اور ایران اس کا مناسب جواب دے گا

ٹرمپ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو مارنے کے احکامات پر جواد ظریف نے کہا ’میرا خیال ہے انھیں ان لوگوں نے غلط مشورہ دیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ تہران اور بغداد کی گلیوں میں رقص ہو گا۔ انھیں (ٹرمپ) کو اپنے مشیروں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میرے خیال میں سیکرٹری مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ تہران اور بغداد کی گلیوں میں رقص کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔ اب میرا خیال ہے کہ انھوں نے کل عراق اور ایران میں انسانیت کا سمندر دیکھا۔ کیا وہ یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کو غلط سمت میں لے کر جا رہے ہیں؟‘

’مذاکرات کی کوئی امید نہیں تھی‘

اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے جانے کے لیے امریکی ویزا نہ ملنے پر جواد ظریف نے کہا ’ہمیں سیکرٹری جنرل نے یہی بتایا لیکن سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے رابطہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں کے پاس میری درخواست کو دیکھنے کے لیے وقت نہیں تھا تاہم یہ درخواست دسمبر 2019 میں کی گئی تھی۔‘

جواد ظریف نے یہ بھی بتایا ک وہ اپنے اس دورے کے دوران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی امید نہیں رکھتے تھے تاہم اس موقع پر وہ تھنک ٹینکس اور صحافیوں سے بات کرنا چاہتے تھے تاکہ بہتر انداز میں سمجھ بوجھ حاصل کی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ان کو ویزاہ نہ دینے کا اقدام ہیڈ کوارٹر معائدے کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جواد ظریف کے خیال میں ٹرمپ کو ان لوگوں نے غلط مشورہ دیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اس قدم کے بعد تہران اور بغداد کی گلیوں میں رقص ہو گا

امریکہ کی ’لاقانونی حکومت‘

انھوں نے کہا ’امریکہ ایسا ملک جس میں بین الاقوامی قوانین کا کوئی احترام نہیں، جو جنگی جرائم کا مرتکب ہے اور مزید جنگی جرائم کے ارتکاب کی دھمکی دیتا ہے، ثقافتی ورثے پر حملے کی دھمکی ایک جنگی جرم ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی آج کی حکومت ایک ’لاقانونی حکومت‘ ہے۔

’میرا نہیں خیال کہ امریکی چاہتے ہیں کہ جس کو انھوں نے منتخب کیا وہ قانون ںے بالاتر ہو کر کام کرے۔ امریکہ خود پر قانون کا ملک ہونے پر فخر کرتا ہے نہ کہ غیر قانون لوگوں کا ملک۔ یہ جنگل کا قانون نہیں۔‘

’اگر ایران چاہتا ہے کہ اس کے لوگ بھوکے نہ مریں تو اسے امریکی احکامات کی پیروی کرنا ہو گی، امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کے بیانات دیے گئے ہیں جو کہ خود جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔‘

’ہمارے پاس کوئی پراکسی نہیں‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایران کی پراکسی جیسے کہ حزب اللہ کے ذریعے انتقام لینے کے امکان کو رد کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کوئی پراکسی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق وہ عراق اور ایران سمیت مشرق وسطی میں سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے کیونکہ ’وہ ہماری پراکسیز نہیں‘

’آپ نے عراق کی گلیوں میں دیکھا ہو گا کہ ہمارے پاس لوگ ہیں، پراکسیز نہیں۔ ہم ان لوگوں کو کنٹرول نہیں کرتے کیونکہ وہ ہماری پراکسیز نہیں ہیں۔ یہ جذبات، آزادانہ سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور اسے لیے میں نے کہا کہ وہ جو بھی کریں گے ایران اسے کنٹرول نہیں کر سکتا۔‘

ان سے سوال کیا گیا ’کیا آپ تصدیق کرتے ہیں کہ انتقامی کارروائی ایرانی حکام کی جانب سے کی جائے گی؟‘

جواب میں انھوں نے کہا: ’تین طرح کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں: عراقی خود مختاری کی خلاف ورزی، عراقی حکومت اور عراقی پارلیمان نے اس پر جواب بھی دیا۔ خطے کے لاکھوں افراد کے جذبات کو مجروع کیا گیا جو ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اور ایران کے کئی شہریوں اور اہم فوجی حکام کو مارا گیا اور ہم بدلہ لیں گے اور اسے بزدلانہ طریقے سے نہیں بلکہ ایک واضح اور مناسب انداز میں سرانجام دیں گے۔‘

اس سوال پر کہ کیا اب ایران جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی حدود کی پاسداری نہیں کرے گا، تو افزودگی میں اضافہ کتنی جلدی کیا جائے گا؟

جواد ظریف نے کہا کہ وہ ہماری اپنی ضروریات کے مطابق ہمارا اپنا فیصلہ ہو گا لیکن ہم نے یہ نہیں کہا کہ ہم حدود کی پاسداری نہیں کریں گے۔

’ہم نے کہا تھا کہ جو اقدامات ہم نے اٹھائے ہیں، ان کے بعد اب کوئی بنیادی حدود باقی نہیں بچی ہیں۔ یہ اقدامات واپس بھی لیے جا سکتے ہیں کیونکہ ایران نیوکلیئر معاہدے پر تمام فریقوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔ اور امریکہ اس سے دستبردار ہوا اور یورپی اقوام ایران نیوکلیئر معاہدے کے تحت اور اس کے علاوہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سوال پر کہ کیا اب ایران جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی حدود کی پاسداری نہیں کرے گا، جواد ظریف نے کہا: ’ہم نے یہ نہیں کہا کہ ہم حدود کی پاسداری نہیں کریں گے‘

’معاہدہ زندہ ہے، امریکی موجودگی ختم ہوچکی‘

’ہم نے انھیں پانچ مرتبہ بیانات کے ذریعے نہیں بلکہ تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ہم اس طریقہ کار کو شروع کر رہے ہیں جو معاہدے میں طے پایا تھا، چناچنہ ہم انتہائی جائز انداز میں، قانون کی پاسداری کرتے ہوئے، معاہدے کے عین مطابق وہ اقدامات اٹھا رہے ہیں جن کا خلاف ورزی کی صورت میں معاہدے میں عندیہ دیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اور یہ اقدامات فوراً واپس بھی لیے جا سکتے ہیں اگر وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ چنانچہ ایران نیوکلیئر معاہدہ اس لیے زندہ ہے کیونکہ یہ ایک نہایت حقیقت پسندانہ معاہدہ تھا۔ مگر آپ کو پتہ ہے کیا چیز مردہ ہوچکی ہے؟ شدید دباؤ، کیونکہ یہ بار بار ناکام ہوا ہے۔ اور ایک اور چیز مردہ ہوچکی ہے، امریکہ کی ہمارے خطے میں موجودگی۔‘

اپنے انٹرویو کے اختتام پر جواد ظریف نے کہا ’آج سب ایرانی ایک ہیں، ہم سب ایرانی ہیں، ہم میں سے نہ کوئی شدت پسند ہے اور نہ ہی کوئی اعتدال پسند۔ ہم سب ایرانی ہیں جو اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، اپنے وقار کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، اور ہم سب اس شخص کو کھونے کا سوگ منا رہے ہیں جو امن کے لیے لڑا۔‘

ایران جوہری معاہدہ کیا ہے؟

سنہ 2015 میں چھ ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ جامع ایکشن پلان مرتب کیا تھا۔

جس کے تحت تہران نے بین الاقوامی انسپکٹرز کو ملک میں دورہ کرنے کی اجازت اور اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے ہر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس معاہدے کے تحت ایران کو ہلکے معیار کی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت تھی جو کہ تین سے چار فیصد تک ارتکاز کے لیول پر افزودہ کی جا سکتی ہے۔ اس کو جوہری بجلی گھروں میں بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر یہ بھی پابندی تھی کہ وہ 300 کلو گرام سے زیادہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نہیں کر سکتا۔

امریکہ کی جانب سے اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد جون 2019 میں ایران نے معاہدے میں مقرر کی گئی کم افزودہ یورینیم کی مقررہ حد سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کر لی تھی جبکہ ستمبر 2019 میں ایران نے معاہدے کے تحت جوہری تحقیق اور ترقی کے وعدے سے دستبردار ہوتے ہوئے یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانے کے لیے دوسرے فریقین بشمول برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس نے کافی کوششیں کی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ شدید معاشی پابندیوں کے باعث ایران میں معاشی بدحالی بڑھی ہے، ایرانی کرنسی کی قیمت انتہائی کم ترین سطح پر ہے جبکہ افراط زر نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

ایران کب تک ایٹم بم تیار کر سکتا ہے؟

ایران نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم اس حوالے سے شکوک و شبہات کے سر اٹھانے کے بعد سنہ 2010 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل، امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر شدید معاشی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔

2015 کا معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا اور پابندیوں سے نجات کے عوض جوہری پروگرام کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔ اس کے تحت ایران کو کثیف پانی کے ایک زیر تعمیر ری ایکٹر کے ڈیزائن میں بھی تبدیلی کرنی تھی کیونکہ اس ری ایکٹر میں استعمال شدہ ایندھن میں پلوٹونیم ہو سکتا تھا جو نیوکلیئر بم بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جولائی 2015 سے قبل ایران کے پاس افزودہ یورینیم کا کثیر ذخیرہ موجود تھا جبکہ بیس ہزار کے لگ بھگ سینٹری فیوجز بھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مواد دس جوہری بم بنانے کے لیے کافی تھا۔

اس وقت امریکی ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر ایران جوہری بم بنانے میں جلدی کرتا ہے تو وہ دو سے تین ماہ کی قلیل مدت میں ایسا کرنے کے قابل ہو جائے گا کیونکہ تب تک اس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودہ یورینیم دستیاب ہو گی۔

ماہرین کے مطابق اگر اب ایران ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے اسے ایک سال کا وقت درکار ہو گا مگر اگر، مثال کے طور پر، یورینیم کی افزودگی کا لیول 20 فیصد تک بڑھا دیا جائے تو یہ کام چھ ماہ یا اس سے بھی کم وقت میں مکمل ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں