انٹیلیجنس رپورٹس میں اشارہ ملا ہے کہ یوکرینی طیارہ ایرانی میزائل سے تباہ ہوا: کینیڈین وزیر اعظم

کینیڈا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے خفیہ معلومات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بدھ کو تہران کے ہوائی اڈے سے پرواز کرنے کے تھوڑی دیر بعد گر کر تباہ ہونے والا یوکرین کا مسافر بردار طیارہ ایران کے زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل لگنے سے تباہ ہوا ہے۔

جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بدھ کو تہران کے ہوائی اڈے سے پرواز کے تھوڑی دیر بعد تباہ ہونے والا یوکرین کا مسافر بردار طیارہ ایران نے غلطی سے مار گرایا ہے۔

کینیڈا اور برطانیہ کے رہنماؤں نے اس حادثے کی مکمل اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل تہران کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اڑنے والا یوکرین کا بوئنگ 800 -737 مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس میں مسافروں اور عملے سمیت 176 افراد سوار تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ یوکرین کی بین الاقوامی فضائی کمپنی کا بوئنگ 737-800 طیارہ میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

کمرشل ایئر لائنز کے لیے محفوظ ترین سال

انڈونیشیا: سرچ آپریشن میں ڈرون اور سونار کا استعمال

قزاقستان: مسافر طیارہ حادثے کا شکار، 12 افراد ہلاک

5 مہینوں میں دوسرا حادثہ، بوئنگ کو سخت سوالات کا سامنا

طیارہ اڑان بھرنے کے آٹھ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار عملے اور مسافروں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ پایا۔

یوکرین نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کہیں طیارہ کوئی میزائل لگنے سے تو تباہ نہیں ہوا لیکن ایرانی حکام نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔

اس سے قبل جمعرات کو یوکرین کی سکیورٹی اور دفاع کونسل کے سکریٹری اولیکسی ڈینیلوو نے کہنا تھا کہ طیارہ تباہ ہونے کی تین دیگر ممکنہ وجوہات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

ان ممکنہ وجوہات میں مسافر طیارے کا کسی ڈرون یا دوسری اڑنے والی شے سے فضائی تصادم، تیکنیکی وجوہات کی بنا پر طیارے کے انجن کی تباہی اور کسی ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں طیارے کے اندر دھماکہ شامل ہیں۔

اپنی ایک فیس بُک پوسٹ میں سکریٹری اولیکسی ڈینیلوو کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین کے تفتیش کار پہلے ہی ایران میں موجود ہیں اور وہ جہاز کے تباہ ہونے والے ملبے میں کسی میزائل کا ملبہ شامل ہونے کے حوالے سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

ایران کے پاس روسی ساختہ میزائل کا دفاعی نظام موجود ہے۔

سکریٹری اولیکسی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے تفتیش کرنے والے ٹیم میں وہ تفتیش کار بھی شامل ہوں گے جنھوں نے سنہ 2014 میں ملائشین ایئر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کی مشرقی یوکرین میں تباہی کی تفتیش کی تھی۔

یوکرین کی فضائی کمپنی کا طیارہ ایران کی طرف سے عراق میں دو امریکی اڈوں پر میزائل داغے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی تباہ ہوا تھا۔

کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا کہ انھیں ملنے والی متعدد خفیہ معلومات کے یہ اشاہ ملتا ہے کہ جہاز ایران میں زمین سے فضا میں داغے والے میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ پر بغیر کسی ارادے کے ہوا تھا۔

تاہم انھوں نے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سوالات کے جوابات ملنے چاہیں۔

سی بی ایس امریکی خفیہ اداروں کے اعلی اہلکاروں کے حوالے سے خبر دے رہا ہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں پہلے دو سرخ شعلے جو میزائلوں کے چلائے جانے کے تھے نظر آئے اور اس کے بعد ایک سرخ شعلہ دکھائی دیا جو کہ طیارے کے تباہ ہونے کا تھا۔

دریں اثنا امریکی جریدہ نیوز ویک نے پینٹاگن اور اعلیٰ خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ عراقی خفیہ اہلکار بھی یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ یوکرین کا جہاز روسی ساخت کے ’تور‘ میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اس بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔

ایران کا یوکرینی طیارے کا بلیک باکس دینے سے انکار

ایران نے تہران میں تباہ ہونے والے یوکرین کے طیارے کا بلیک باکس طیارہ بنانے والی بوئنگ کمپنی یا امریکہ کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم ایران کے وزیر خارجہ نے بوئنگ کمپنی کو سرکاری تحقیقات میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاز میں 170 سے زیادہ افراد سوار تھے

ہوائی بازی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران تحقیقات کی سربراہی کرنے کا حق رکھتا ہے۔

لیکن اس میں طیارہ بنانے والی کمپنی بھی شامل ہوتی ہے اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ممالک کے ماہرین بلیک باکس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین کا طیارہ ایک ایسے وقت میں تہران کی حدود میں گر کر تباہ ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری تھی اور اس سے کچھ ہی لمحے پہلے ایران نے عراق میں موجود دو امریکی اڈوں کو میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔

ان دونوں واقعات کے درمیان ابھی کسی تعلق کے شواہد نہیں ملے۔

عام طور پر امریکی بوئنگ کی جانب سے تیار ہونے والے طیاروں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی تحقیقات میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ کا کردار ہوتا ہے۔ لیکن بورڈ کو بیرونی ملک کے قوانین اور اجازت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی میں چھپنے والی خبر میں ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ علی عابد زادے نے کہا ہے کہ ’ہم بلیک باکس کو مینوفیکچرر اور امریکہ کو نہیں دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کی تحقیقات ایران کا ہوائی بازی کا ادارہ کرے گا لیکن یوکرین بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔

مسٹر عابد زادے نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کونسا ملک بلیک باکس کے کاک پٹ کے وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا جائزہ لے گا۔

بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ پھر بھی ضرورت پڑے پر معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔ جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان تحقیقات میں کردار ادا کرنے کی توقع کر رہا ہے اور اس نے تکنیکی معاونت کی بھی پیشکش کی ہے۔

اس سے قبل یوکرین کے وزیر خارجہ ویدیم پریسٹاکیو نے کہا ہے کہ جہاز میں 82 ایرانی، 63 کنیڈین، جہاز کے عملے سمیت 11 یوکرینی، سویڈن کے دس، افغانستان کے چار، جبکہ برطانیہ اور جرمنی کے تین تین شہری سوار تھے۔

ایران کے فوجی حکام نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ جو یوکرین کے طیارے کے بارے میں گردش کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایرانی فوج کے ترجمان کے حوالے سے لکھا کہ انھوں نے ان 'افواہوں' کو کہ یوکرین کے جہاز کی تباہی تہران میں کسی چیز کے ٹکرانے سے ہوئی کو امریکہ کی جانب سے استعمال ہونے والا نفسیاتی جنگ کا حربہ قرار دیا۔

انھوں نے ان افواہوں کو مکمل طور پر غلط اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

یہ طیارہ یوکرین کی قومی فضائی کمپنی کا تھا اور تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو جا رہا تھا۔

پروازوں کا جائزہ لینے والی ویب سائٹس کے مطابق یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائنز کا بوئنگ 737 طیارہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 6.12 پر روانہ ہوا تھا اور محض آٹھ منٹ کے بعد گر گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران میں یوکرین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی بنا پر پیش آیا ہے اور اس کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔

حادثے کے بعد تہران میں موجود یوکرینی سفارت خانے نے یوکرین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے ’ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز انجن میں تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا۔ اس وقت کسی دہشتگرد حملے کے امکان کو رد کر دیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم بعد میں انھوں نے وہ بیان تبدیل کر دیا اور کہا کہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں باضابطہ تحقیقات سے پہلے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فنی خرابی کے باعث پرواز کے محض آٹھ منٹ بعد طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس کا ملبہ ائیرپورٹ سے دس کلو میٹر کے فاصلے سے مل گیا۔

یوکرین کے صدر ولادمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ وہ اپنا عمان کا دورہ مختصر کر کے کیئو واپس پہنچ رہے ہیں۔ انھوں نے سرکاری رپورٹس تیار نہ ہونے تک اس ’تباہی سے متعلق قیاس آرائیاں یا غیر مصدقہ نظریات‘ کے خلاف متنبہ کیا تھا۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں جہاز کے عملے اور مسافروں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

صدر زیلینسکی کے مطابق یوکرین نے ہلاک شدگان کی لاشیں واپس ایران لے جانے کے لیے خصوصی پروازوں کا بندوبست کیا ہے لیکن اس کے لیے وہ ایران کی رضامندی کے منتظر ہیں۔

یوکرینی وزیر اعظم اولیکسی ہونچارک نے تصدیق کی کہ طیارے میں 168 مسافر اور عملے کے نو افراد سوار تھے۔

ایرانی ایوی ایشن آرگنائزیشن کے عہدیدار نے کہا کہ وہ تحقیقی ٹیم کو مقام پر بھیج رہے ہیں تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔

دوسری جانب بوئنگ حکام نے کہا کہ انھیں واقعے کا علم ہے اور وہ مزید معلومات جمع کر رہے ہیں۔ حادثے میں تباہ ہونے والا طیارہ محض چار سال پرانا تھا۔

یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز نے فوری طور پر تہران کے لیے پروازیں بند کر دیں ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاروں کو جہاز کا ایک بلیک باکس ملا۔

ایوی ایشن سیفٹی کے تجزیہ کار ٹوڈ کرٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ تباہ ہونے والے طیارے کو 2016 میں تیار کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا ’جہاز بری طرح سے بکھر چکا تھا جس کا مطلب ہے کہ یا تو وہ زمین سے بہت زور سے ٹکرایا یا آسمان میں کچھ ہوا۔‘

’بظاہر یہ ایک ایسا ہوائی جہاز تھا جس کی مناسب دیکھ بھال کی گئی تھی اور یورپی یا امریکی حکام کے حوالے سے کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا لہذا اس وقت ایسا کچھ بھی نہیں جو کسی خاص وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہو۔‘

انھوں نے کہا ’ایران، یوکرین، امریکی اور فرانسیسوی حکام سب کو تحقیقات میں شامل کرنا چاہیے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ سب ملکر کیسے کام کریں گے۔ ایران پر اس وقت امریکی پابندیاں ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔‘

وہ اس بارے میں کہانی جوڑنا شروع کر دیں گے کہ اس جہاز میں کیا ہوا، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا جہاز کی حالت یا دوران پرواز اس کے ایندھن کے ساتھ کوئی مسئلہ تھا۔‘

’اس کے علاوہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ہوائی جہاز کے باہر کچھ ہوا، ہوائی حادثہ یا کوئی اور مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں