انڈین فوج میں افسران کی کمی کتنا بڑا چیلنج ہے؟

بی بی سی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے نئے آرمی چیف جنرل منوج موکند نرونے نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’انڈین فوج میں افسران کی کمی اب بھی برقرار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انڈین فوج میں افسران کی کمی اس لیے نہیں ہے کہ بھرتیوں کی تعداد میں کمی آئئ ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ فوج نے افسران کے انتخاب کے اپنے معیار کو نیچے نہیں کیا ہے۔‘

سرکاری خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق فوجی سربراہ نے کہا کہ وہ انڈین فوج میں تعداد پر معیار کو ترجیح دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے اگلے آرمی چیف جنرل منوج کون ہیں؟

جنرل بپن راوت کی نئی تقرری سے انڈیا کو کیا فائدہ ہوگا؟

’کیا جنرل راوت انڈیا کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈیا پر جنرل منوج کے اس بیان پر بہت بات ہو رہی ہے۔ کئی سابق فوجی افسران نے ان کے اس بیان کو سراہا ہے۔

کتنے افسران کی کمی ہے؟

اگست 2018میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ انڈین وزارت دفاع کے مطابق یکم جنوری 2018 تک انڈین فوج کے پاس 42ہزار سے زیادہ افسران تھے جبکہ 7298 افسران کی کمی تھی۔

اس کے ایک سال بعد پی ٹی آئی نے خبر دی کہ یہ تعداد بڑھ کر 7399 ہو گئی۔ یعنی انڈین فوج میں لیفٹیننٹ یا اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے جتنے افسران کی ضرورت ہے ان میں 100 افسران کی مزید کمی ہوگئی۔

انڈیا کی بحری اور فضائی افواج میں بھی افسران کی کمی ہے۔ تاہم بّری فوج میں افسران کی کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ کیسا فلسفہ: ’ریپ کے بدلے ریپ!‘

’ضرورت پڑی تو ایل او سی پار بھی کر سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انتخاب کا عمل کتنا مشکل ہوتا ہے؟

انڈین فوج میں افسر بننے کے لیے دیے جانے والے امتحان میں ناکام رہے افراد بتاتے ہیں کہ جب ایس ایس بی یعنی سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو درخواست گزاروں کا حوصلہ قائم رکھنے کے لیے بورڈ کے افراد انھیں بتاتے ہیں کہ امیتابھ بچن، راہل ڈراوڈ اور انڈیا کے سابق صدر عبدالکلام نے بھی یہ امتحان دیا تھا، لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے، اس لیے دل چھوٹا نہ کریں۔

ایس ایس بی امتحان دینے والے ہر شخص کے اکیڈیمک ریکارڈ کے علاوہ اس کی لکھنے کی صلاحیت، بحث کے طریقے، ٹیم میں کام کرنے کی لیاقت، دلائل کے استعمال اور فیصلہ کرنے کی اہلیت کو بھی پرکھا جاتا ہے۔

بورڈ کے مطابق ہر شخص کو آفس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی خوبیوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈین فوج کے ریٹائرڈ افسر اور اپنے ملک میں کارگل کی جنگ کے ’ہیرو‘ کے طور پر مشہور میجر ڈی پی سنگھ نے فوجی سربراہ کے بیان کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’ایس ایس بی میں بیشتر افراد اس لیے فیل ہو جاتے ہیں کہ ان میں احساسِ ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے۔‘

تو کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ انڈین فوج کے لیے قابل افراد کی انڈیا میں کمی ہو گئی ہے یا وجہ کوئی اور ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ فوج میں افسران کی کمی کے باعث زمین پر تعینات اہلکاروں پر کام کا بوجھ کتنا بڑھ جاتا ہے؟ کیا فوج کی کارکردگی پر اس کا کوئی اثر پڑتا ہے؟ اور کن وجوہات کے باعث انڈین فوج میں افسران کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکا ہے؟

ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہم نے سنہ 1971 سے 1990 کی دہائی تک انڈین فوج کی متعدد اہم کارروائیوں کی قیادت کرنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل شنکر پرساد، اور فوجی حکمت عملی کے ماہر اور سینیئر صحافی اجے شکلا سے بات کی۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری عالمی جنگ کے مسلمان سپاہیوں کا ذکر کم کیوں؟

فوج کے نام پرسیاست، سابقہ انڈین جرنیلوں میں تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینئی میں افسر ٹریننگ اکادمی کی فائل فوٹو

جنرل شنکر پرساد اس کی وجہ کیا بتاتے ہیں؟

زمینی، فضائی اور بحری افواج کو ملاکر انڈیا کے پاس کل چودہ لاکھ فوجی ہیں جن میں بیشتر فوجی شمال مغرب میں پاکستان اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ بارڈر پر تعینات ہیں۔

فوج میں افسران کی کمی کی جو بات ہے اس پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بحث ہو رہی ہے۔

افسران کی کمی جونیئر سطح پر ہے، جیسے لیفٹیننٹ، کیپٹن اور میجر۔ یہ وہ عہدے ہیں جو انڈین فوج میں فرنٹ لائن کی طاقت کہے جاتے ہیں اور کسی بھی جنگ کے دوران مورچہ سنبھالتے ہیں۔

یہ وہ افسران ہوتے ہیں جو میدان جنگ میں پلاٹون یا کمپنی کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ نہ ہوں تو اعلی فوجی حکام کو جی سی او رینک کے اہلکاروں کو ذمہ داری سونپنا پڑتی ہے جس کے نتائج اچھے نہیں نکلتے۔

تصور کیجیے کہ بٹالین میں بیس افسروں کی جگہ ہے لیکن سروس میں صرف 13 یا 15 افسر ہی رہ جاتے ہیں، تو انھیں ہی بیس افسران کا کام کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر کشمیر، سیاچن اور شمال مشرقی انڈیا کے علاقوں میں افسر کے بغیر رات کا گشت نہیں ہوتا کیونکہ قاعدے کے مطابق گشت کرنے والی پارٹی کی قیادت ایک افسر ہی کر سکتا ہے۔ یعنی اب اسے ان افسران کی ڈیوٹی بھی کرنا ہے جو اس کی بٹالین میں کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیاچن میں انڈین فوج

اس مزید کام کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک افسر جو تیس دن میں پندرہ دن اپنے بستر پر سو سکتا تھا، وہ صرف سات یا دس دن ہی سو پاتا ہے۔ اس سے ان پر ذہنی اور جسمانی دباؤ پڑتا ہے۔

فوجی سربراہ نے یہ بالکل صحیح کہا کہ افسران کے انتخاب کا معیار کم نہیں کیا جا سکتا۔

فوج سے متعلق کوئی بھی شخص اس بات پر متفق ہوگا کہ اگر انتخاب کا معیار گرایا گیا تو جونیئر سطح پر فوج کی سربراہی کمزور پڑ جائے گی اور اس کے کمزور فیصلوں سے فوج اور ملک کی بدنامی ہو سکتی ہے۔

اس لیے بہترین افراد کے انتخاب کے لیے اگر یہ کمی برقرار رہے تو بھی فکر کی بات نہیں ہے۔

لیکن کیا اچھے لوگوں کی کمی ہے؟

ایسا بالکل نہیں ہے۔ ملک میں بڑے ذہین نوجوان ہیں جو فوج کے لیے زبردست ثابت ہو سکتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ جو اچھے اور قابل لڑکے ہیں وہ فوج میں آنا نہیں چاہتے۔ وہ مینیجمنٹ جیسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، پروفیشنل کورسز کر رہے ہیں۔

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فوج کی ملازمت میں جسمانی محنت بہت زیادہ ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ فوج کی نوکری سے وابستہ سٹیٹس دن بہ دن گرتا جا رہا ہے اور مراعات اور تنخواہیں کم رہ گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فوجی پچیس برس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تنخواہوں سے متعلق ’پے کمیشن‘ میں فوج کا بھی ایک ایکٹیو رکن ہونا چاہیے، لیکن ایسا ہو ہی نہیں رہا۔

کلاس ون سروسز میں سب سے کم تنخواہ والی نوکری فوج کی ہے۔ پرموشن ہونے کے امکانات بھی فوج میں سب سے کم ہوتے ہیں کیوں کہ عہدوں کا ڈھانچہ بہت مختلف کا ہے۔

سول سروسز میں تقریباً سبھی جوائنٹ سکریٹری یا ایڈیشنل سکریٹری تو بن ہی جاتے ہیں۔ لیکن آرمی میں 80 -90 فیصد افراد میجر یا لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچ کر ہی ریٹایر ہو جاتے ہیں۔

انڈیا میں اگر کلاس اے کی دس بارہ سروسز ہیں، تو فوج کا افسر ہونا اس میں سب سے نیچے آتا ہے۔

بچے بہت ہوشیار ہو گئے ہیں۔ سب یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی محنت اور وقت دینے کے بدلے انہیں کیا ملے گا۔

ماضی میں 80 - 90 فیصد بچے جو این ڈی اے (نیشنل ڈیفینس اکیڈمی) جاتے تھے وہ اچھے پبلک سکولوں کے بچے ہوتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

آزادی کے بعد بھی جب تک انگریز فوجی انڈین آرمی میں رہے، فوج کے افسران کو انڈین سول سروسز والوں سے دس فیصد زیادہ پیسے ملتے تھے۔ تب بڑے بڑے لوگ فوج میں جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ایک میجر یا لیفٹیننٹ کرنل 50-60 برس کی عمر میں گراؤنڈ ڈیوٹی نہیں کر سکتا۔ اس کی جسمانی طاقت گھٹ جاتی ہے اور اگر وہ 45 برس کی عمر میں ریٹائرمینٹ لے لے تو کہاں جائے؟

تاہم ملک کی کسی بھی دوسری کلاس ون سروس میں لوگ ساٹھ برس تک کام کرتے رہتے ہیں۔ انہیں مراعات کے ساتھ تنخواہ اور آرام بھی زیادہ ملتا ہے۔

مثال کے طور پر سیاچن میں دس فوٹ برف کے نیچے بیٹھے ایک فوجی افسر کو جتنا ’ہارڈ ایئر الاؤنس‘ ملتا ہے اتنا ہی سری نگر میں ہیٹر والے کمرے میں بیٹھے آئی اے ایس افسر کو بھی ملتا ہے۔ تو بچے کس نوکری کو پسند کریں گے؟

یہ جو باریکیاں ہیں، انہیں حکومت سمجھ نہیں پاتی۔ اگر سمجھ پاتی بھی ہے تو کچھ کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اور سیاسی پارٹیاں کچھ کرنا بھی چاہیں تو بیوروکریسی اسے ہونے نہیں دیتی۔ یہ ہے مسئلہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے سابق آرمی چیف وی کے سنگھ موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر ہیں

سینیئر صحافی اجے شکلا کیا کہتے ہیں؟

فوج میں جیسے جیسے پرموشن ہوتے جاتے ہیں، سینیئر عہدے بھر جاتے ہیں۔ لیکن اینٹری لیویل کے افسران کی کمی گزشتہ 30-35 برسوں سے برقرار ہے۔

فوج کے سربراہ نے اس کمی کا ذکر ایک بار پر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی نیا مسئلہ آ کھڑا ہوا ہے۔

لیکن یہ سچ ہے کہ جس معیار کے افسران انڈین فوج کو چاہییں وہ فوج میں آ نہیں رہے ہیں۔ جو آتے ہیں ان میں ستر فیصد افسر بنائے جانے کے قابل نہیں ہیں۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین نوجوان فوج میں نہیں جانا چاہتے۔ یہ بات سچ نہیں ہے کیوں فوجی سطح پر یہ مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ افسران کی سطح پر ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کئی طریقے بتائے گئے ہیں اور ان پر کئی بار تفصیلی بات بھی ہوئی ہے۔

کئی بار یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ فوجی افسران کی بھرتی کی جائے اور اس کمی کو پورا کر دیا جائے۔

لیکن فوج کا رویہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ کم افسران سے کام چلا لیں گے لیکن انہیں خراب افسران نہیں نہیں چاہییں، چاہے سو افسران کا کام دس کو کرنا پڑے۔

اس کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ ہے جسے سمجھنا ہوگا۔

جس آدمی کو فوج نے بندوق دے کر کھڑا کیا ہے، اور جس کے پیچھے مسلح فوجیوں کا دستہ ہے، اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کیسی ہے؟ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔

اس میں ایک لیڈر کی بنیادی خوبیاں ضرور ہونی چاہئیں۔ افسران کے انتخاب کے دوران فوج اس بات کا خاص خیال رکھتی ہے ورنہ فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

لیکن کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ این ڈی اے میں داخلے کا معیار گزشتہ چند برسوں میں گرا دیا گیا ہے۔

موجودہ وقت میں سکول یا کالج میں اچھی کارکردگی دکھانے والے طالب علم فائنانس سروسز، بڑے بینکوں، سول سروسز یا ڈاکٹری اور انجنیئرنگ میں جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں فوج میں افسروں کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ایک راستہ ہے‘

چند بڑے فیصلے کرکے اس صورت حال کو بدلا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ’شارٹ سروس کمیشن‘ پر زور دیا جائے تاکہ نئے افراد چند برس کی خدمات کے بعد نوکری چھوڑ سکیں اور کسی اور شعبے میں نوکری ڈھونڈ سکیں۔

فوج میں ’شارٹ سروس کمیشن‘ پہلے سے موجود ہے، لیکن اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ گریجویشن کے بعد ’شارٹ سروس کمیشن‘ سے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے، پھر دس برس نوکری کے بعد سروس کو چار سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔

کئی بار یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے افسران کے اپنے کام کے پابند ہونے کے رویے میں کمی نہیں آئے گی؟ فوج کا اب تک کا تجربہ ایسا نہیں رہا ہے۔

شارٹ سروس کمیشن سے آنے والے افراد نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور متعدد افراد شارٹ سروس مکمل کرنے کے بعد دوبارہ مستقل نوکری کے لیے چنے گئے ہیں۔

چند افراد نے بڑے جوش کے ساتھ اپنی شارٹ سروس مکمل کی اور پھر کارپوریٹ کمپنیوں میں ملازمت اختیار کر لی۔

اسی بارے میں