انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال، سوشل میڈیا بدستور بند

انٹرنیٹ بندش، کشمیر، انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی پانچ اگست کو خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہاں انٹرنیٹ سروسز پر بندشیں عائد ہیں

انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سے جزوی طور پر پابندیاں اٹھانی شروع کی ہیں مگر موبائل انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا اب بھی بلاک رہیں گے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے کشمیر میں نافذ تمام پابندیوں پر نظرِثانی کا حکم دیا تھا۔

کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز پانچ اگست سے بند ہیں۔ اس دن انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختارانہ حیثیت ختم کر کے اسے انڈین وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے انڈین سپریم کورٹ نے مقامی انتظامیہ سے انٹرنیٹ اور دوسرے مواصلاتی رابطوں پر لگی پابندی کا ازسرنو جائزہ لینے اور پابندی کا جواز سات روز کے اندر اندر پیش کرنے کو کہا تھا۔

عدالتی اعلان سے انٹرنیٹ پر لگی پابندی کے خاتمے کی توقع پیدا ہوگئی تھی، لیکن بدھ کو حکومت نے ایک طویل حکمنامہ جاری کر کے کشمیر میں انٹرنیٹ کے استعمال کو بھارت کی سلامتی اور سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

عرب ممالک کشمیر کے بجائے انڈیا کے ساتھ کیوں؟

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین

لیفٹنینٹ گورنر جی سی مُرموُ کے پرنسپل سیکریٹری شالین کابرا کے ذریعے جاری کیے گئے اس حکمنامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستان میں مقیم مسلح گروپ انٹرنیٹ کے ذریعے کشمیر میں بدامنی پھیلانے پر مُصر ہیں، اس لیے ملکی سالمیت اور سلامتی کے لیے یہ پابندی کا فصیلہ کیا گیا‘۔

تاہم حکمنامے میں جموں خطے کے جموں، سانبہ، ادھمپور، کٹھوعہ اور ریاستی اضلاع میں سات روز کی آزمائشی مدت کے لیے موبائل فونز پر نہایت کم رفتار والے انٹرنیٹ سگنل یعنی ’ٹو جی‘ کو بحال کیا گیا ہے، جبکہ وادی کشمیر سمیت ڈوڈہ، کشتواڑ، بھدرواہ، پونچھ اور راجوری اضلاع میں انٹرنیٹ معطل ہی رہے گا۔

واضح رہے کہ حکومت کو جمعے کو سپریم کورٹ میں اُن سوالات کا جواب دینا ہے جو سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ پر لگی پابندی سے متعلق اُٹھائے تھے۔ سرکاری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ بنیادی خدمات جیسے بینک، ہسپتال اور تعلیمی اداروں میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہلے ہی بحال کیا جا چکا ہے اور انتظامیہ نے مزید چار سو ایسے مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں طلبہ اور تاجر حلقوں کو ضروری کام کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کی جائے گی۔

صحافی اور تحقیق کار شفق شاہ کہتی ہیں کہ ‘سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ کو بنیادی حقوق قرار دیا ہے اور یہاں حکومت کہتی ہے کہ انٹرنیٹ سے خطرہ ہے۔ خطرے سے نمٹنا فورسز کا کام ہے، اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ انٹرنیٹ ہی بند کردیں۔‘

دریں اثنا کٹھوعہ، جموں، ریاسی، ادھمپور اور سانبہ اضلاع کے لوگوں نے بتایا کہ سبھی پوسٹ پیڈ موبائلز پر انٹرنیٹ بحال نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں فون رابطے بحال کیے گئے مگر اُن چھبیس لاکھ صارفین کے فون بند ہیں جن کے سِم کارڈ پری پیڈ ہیں۔

انٹرنیٹ پر پابندی کے خلاف جموں میں مقیم صحافی انورادھا بھسین نے گذشتہ برس اگست میں ہی رٹ درخواست داخل کی تھی جس کی سماعت دس جنوری کو کی گئی۔

انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے نہ صرف تعلیم اور تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ صحت عامہ کی خدمات پر بھی اثر پڑا ہے۔

شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹر عمر نے بتایا کہ ‘کینسر اور دوسرے مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے ہر ہفتے دنیا کے بڑے ہسپتالوں میں ماہرین کے ساتھ مشاورت ضروری ہوتی ہے، لیکن یہ سلسلہ گزشتہ برس اگست سے ہی معطل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں طویل عرصے سے انڈین حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد جاری ہے

رابطوں کی بندش سے جس میں ابتدائی طور پر فون سروسز بھی شامل تھیں، خطے کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور کئی کاروبار مشکلات کا شکار ہیں۔

لیکن بدھ کے اقدام کے بعد بھی سخت تر بندشیں اپنی جگہ برقرار ہیں کیونکہ نرمی کا اطلاق وائرلیس انٹرنیٹ یا موبائل ڈیٹا پر نہیں ہوگا۔

اس کے برعکس صرف چار اضلاع میں ’ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں‘ مثلاً بینکوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے چند براڈ بینڈ کنکشن بحال کیے جائیں گے اور ان کی بھی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

حکومتی نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ویب سائٹس یا واٹس ایپ جیسی میسجنگ سروسز کو بحال نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کمپنیوں کو فائر والز لگانے کے لیے بھی کہا گیا ہے جو صرف ’وائٹ لسٹ‘ میں شامل چند حکومتی ویب سائٹس کے علاوہ باقی تمام ویب سائٹس تک رسائی کو روک دیں گی۔

عدالت نے کہا تھا کہ اس کام کو ایک ہفتے میں مکمل ہونا چاہیے، جبکہ حکمنامے میں مزید کہا گیا تھا کہ ’آزادانہ نقل و حمل، انٹرنیٹ اور بنیادی آزادیاں طاقت کے بلاجواز استعمال کے ذریعے معطل نہیں کی جا سکتیں۔‘

چند موبائل فون اور لینڈ لائن سروسز کو اکتوبر میں بحال کر دیا گیا تھا مگر انٹرنیٹ کی غیر معینہ مدت تک بندش سے روز مرّہ کی زندگی، میڈیا اور کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں