جیف بیزوس: ایمازون کے بانی انڈیا میں احتجاج کا سامنا کیوں کر رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایمازون کا دعویٰ ہے کہ اس نے انڈیا میں ریٹیلرز کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے

جب ایمازون کے بانی اور سربراہ جیف بیزوس آخری مرتبہ انڈیا آئے تھے تو انھوں نے ایک لمبا سا انڈین کوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ خوبصورتی سے سجائے ہوئے ایک ٹرک میں سوار ہو کر انھوں نے تصاویر کے لیے پوز بنائے اور چند ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

انھوں نے کئی درجن میڈیا انٹرویو بھی دیے جن میں سے ایک کے دوران انھوں نے اخبار سے کہا تھا کہ 'آپ ہمیشہ یہ سنتے ہیں کہ انڈیا کاروبار کے لیے آسان ملک نہیں ہے لیکن ہمارا تجربہ ایسا نہیں رہا ہے۔'

پانچ برسوں بعد دنیا کے امیر ترین شخص ایک مرتبہ پھر انڈیا آئے ہیں مگر ان کے اس دو روزہ دورے پر وہ پذیرائی نہیں ملی ہے جو انھیں پچھلے دورے کے دوران ملی تھی۔

کروڑوں دکانداروں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرنے والی چھوٹے تاجروں کی ایک یونین نے جیف بیزوس کے خلاف 300 شہروں میں مظاہروں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ وہ ان کی فرم پر غیر منصفانہ قیمتوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ ایمازون کا ملک میں چھ سال سے جاری ریٹیل کاروبار انھیں شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

مظاہروں کا انعقاد کرنے والی تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز کے رہنما پراوین کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ ایمازون کے 'شیطانی کھیل اور منصوبوں' کی وجہ سے انڈیا میں 'دسیوں ہزار چھوٹے تاجروں کے کاروبار برباد ہوچکے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

ایپل: دس کھرب ڈالر تک پہنچنے والی پہلی پبلک کمپنی

بیزوس کی طلاق کی قیمت ’صرف 35 ارب ڈالر‘

کیا خریدا ہوا مال واپس کرنا ایک عادت ہے؟

اور یہی نہیں، جیف کی انڈیا آمد سے چند گھنٹے قبل ہی انڈیا کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر نے ایمازون اور اس کے انڈین مقابل فلِپ کارٹ کے کاروباری طور طریقوں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ فلِپ کارٹ کے اکثریتی شیئر ریٹیل کمپنی وال مارٹ کے پاس ہیں۔

ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ وہ دیگر الزامات کے ساتھ ساتھ پریڈیٹری پرائسنگ (اتنی کم قیمت پر فروخت کہ دوسرے کاروبار مقابلہ نہ کر سکیں)، موبائل فونز کی ایکسکلوژیو لانچ، غیر معمولی ڈسکاؤنٹس، اور چند فروخت کنندگان کے ساتھ ترجیحی سلوک کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ ایمیزون سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے

اپنے ایک اعلامیے میں ایمازون نے کہا ہے کہ وہ تعاون کریں گے، الزامات پر توجہ دیں گے اور انھیں 'اعتماد ہے کہ وہ [مقامی قوانین سے] مطابقت رکھتے ہیں۔

ایمازون کا دعویٰ ہے کہ اس نے انڈیا میں ریٹیلرز کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ انڈیا ایمازون کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے۔

انڈیا میں 60 ہزار سے زائد ملازمین رکھنے اور پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والی اس امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آن لائن مارکیٹ میں پانچ لاکھ سے زائد خودمختار فروخت کنندگان کے ساتھ کام کرتی ہے۔

انڈین قوانین کے تحت ایمازون اپنی ویب سائٹ پر تھرڈ پارٹی کا سامان ہی فروخت کر سکتی ہے۔ فرم کا دعویٰ ہے کہ آدھے سے زیادہ فروخت کندگان چھوٹے قصبے اور شہروں سے تعلق رکھتے ہیں اور ویب سائٹ کی جانب سے منعقد کی جانے والی فیسٹیول سیلز کے دوران کئی فروخت کنندگان امیر بھی ہوچکے ہیں۔

ایمازون چھوٹے مقامی سٹورز کے ساتھ بھی شراکت کرتی ہے تاکہ صارفین کمیشن کے بدلے ویب سائٹ سے خریداری کریں۔ تقریباً 50 ہزار انڈین فروخت کنندگان انڈیا سے باہر ایک ارب ڈالر کی اشیا فروخت کر چکے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی مصنوعات دنیا بھر میں نمایاں کرنے کے ایک پروگرام کے تحت کیا جاتا ہے۔

منگل کو جیف بیزوس نے اعلان کیا کہ ایمازون کا ہدف ہے کہ انڈیا سے 2025 تک 10 ارب ڈالر کی مصنوعات ایکسپورٹ کی جائیں گی۔ انھوں نے انڈیا کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وہ دلی میں کمپنی کے ایک ایونٹ میں شرکت کر رہے ہیں تاکہ کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے فنڈز اکھٹے کیے جا سکیں۔ لیکن ان کے ان اقدامات سے مظاہرین خوش ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ پراوین کھنڈیلوال کہتے ہیں کہ 'جیف بیزوس چھوٹے ریٹیلیرز کو ترقی دلوانے کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔'

ایمازون اور فلِپ کارٹ انڈیا کی 39 ارب ڈالر کی آن لائن ریٹیل مارکیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ ایک ارب سے زائد موبائل فون صارفین اور سستے موبائل انٹرنیٹ کی وجہ سے انڈیا اب دنیا میں ای کامرس کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے اور اس کے 2020 میں 120 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایمازون چھوٹے مقامی سٹورز کے ساتھ بھی شراکت کرتی ہے تاکہ صارفین کمیشن کے بدلے ویب سائٹ سے خریداری کریں

صرف سال 2017 کے دوران ہی ای کامرس کے منصوبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے 124 راؤنڈز ہوئے۔ اب انڈیا میں ایسے 4700 سٹارٹ اپس ہیں۔

مگر انڈیا ایسا ملک بھی ہے جہاں محلے کے سٹورز زبردست آمدن کماتے ہیں۔

کریانہ کہلوانے والے یہ سٹورز اب بھی مقامی ریٹیل پر چھائے ہوئے ہیں۔ ایک کنسلٹنگ فرم پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے مطابق انڈیا میں اس وقت ایک کروڑ 20 لاکھ ایسے سٹور ہیں اور اب ان کی پہلے سے زیادہ تعداد ٹیکنالوجی اپناتی جا رہی ہے جس میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ یا ادائیگی کے دیگر ایلکٹرانک طریقے شامل ہیں۔

انڈین سکول آف بزنس کے محققین نے تین سال تک اشیائے صرف بنانے والی ایک کمپنی کی مصنوعات کی دکانوں اور منظم ریٹیل کے ذریعے دس لاکھ سے زیادہ سیلز کا جائزہ لینے پر یہ پایا کہ کریانہ سٹورز میں جدید ریٹیل آؤٹ لیٹس کی بہ نسبت منافع کمانے کی زیادہ سکت موجود ہے۔

ایمازون کے لیے ریگولیٹرز کی کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ سال یورپی یونین کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹرز نے اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں جب الزامات عائد کیے گئے کہ یہ فروخت کنندگان کے 'حساس ڈیٹا' کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں کمپنی کے فروخت کنندگان کے ساتھ تعلقات پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔

انڈیا کی مارکیٹ میں ترقی کی بہت گنجائش ہے لیکن یہ ایک پیچیدہ مارکیٹ ہے۔ ایک طرف انڈیا کے چھوٹے تاجروں کو تبدیلی کی راہ میں مزاحم دیکھا جاتا ہے اور وہ عوامیت پسند سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا ایمازون کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے

دوسری جانب چھوٹے کاروباروں کے مستقبل کے بارے میں جائز خدشات بھی ہیں جو فی الوقت آن لائن کمپنیوں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔

صارفین ان ای کامرس کمپنیوں کی جانب سے تیز تر ڈیلیوری اور کم قیمتوں کی وجہ سے خوش ہیں جبکہ حکومت کو سست رفتار معیشت میں تیزی لانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

چنانچہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ریگولیٹر اور جیف بیزوس اس پیچیدہ مسئلے کو کس طرح سلجھا پاتے ہیں۔

اسی بارے میں