بغیر حجاب کے تصویر وائرل ہونے پر: شطرنج ریفری ایران جانے سے خوفزدہ

CHESS تصویر کے کاپی رائٹ FIDE

32 سالہ ایرانی خاتون شہرہ بیات کے لیے کرئیر کا عروج شطرنج میں خواتین کی عالمی چیمپیئن شپ تھی۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انھیں اس ایونٹ میں بطور چیف ثالث ایک سینیئر کردار ادا کرنے کو ملا۔

لیکن ان کی یہ کامیابی ایک تنازعے کا شکار اس وقت ہوئی جب ان کی ایک تصویر سامنے آئی جس میں وہ شنگھائی میں کھیل کے دوران سر پر سکارف کے بغیر دکھائی دیں۔ سر پر سکارف لینا ان کے اپنے ملک میں لازمی ہے۔

اب وہ ایران واپس جانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہاں خواتین کو لباس کے لیے سخت اسلامی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے اپنا فون آن کیا تو دیکھا کہ میری تصویر ایران میں پورے میڈیا پر ہر جگہ موجود تھی۔‘

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ایرانی میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ‘میں نے سر پر سکارف نہیں لیا اور یہ کہ میں حجاب کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون سے اختلاف کے باوجود وہ اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھیں جیسے ہر ٹورنامنٹ میں کرتی ہیں۔

عورتوں کو چناؤ کا حق ہونا چاہیے

مشرقی روس میں ولادی وسٹک سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ یہ میرے عقیدے کے خلاف ہے۔ لوگوں کو وہ جیسا لباس پہننا چاہتے ہیں اس کے لیے چناؤ کا حق ہونا چاہیے۔ اس میں زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ روس میں ورلڈ چیمپیئن شپ کی سیکنڈ لیگ میں ریفری کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں اسے برداشت کر رہی تھی کیونکہ میں ایران میں رہتی ہوں۔ میرا پاس کوئی اور چوائس نہیں تھی۔‘

مگر اس بار شهره بیات کو سنجیدہ نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا پر ان کی تصاویر پر تبصرے کیے جا رہے ہیں جن میں بظاہر ان کا سکارف ان کے کندھوں پر جھول رہا ہے سر کے بالوں پر نہیں ہے۔

اسی دن کی دیگر تصاویر میں ان کا سر ڈھیلے انداز میں سکارف سے ڈھکا ہوا ہے۔

بیات کہتی ہیں کہ ایران میں شطرنج کے کھیل کی فیڈریشن نے اس معاملے پر شوروغل کے جواب میں ان سے ’کچھ لکھنے‘ کو کہا ہے۔ جس کا انھوں نے یہ مطلب لیا ہے کہ فیڈریشن ان سے کہہ رہی ہے کہ معافی مانگ لو اور ایرانی لباس کے قواعد کی حمایت کرو۔

تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس لیے اب ان کے لیے اپنے خاندان کے پاس واپس لوٹنا بہت مشکل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘ایران میں بہت سی خواتین سکارف نہ لینے کی وجہ سے جیل میں ہیں اور یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ وہ شاید مجھے ایک مثال بنانا چاہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے آن لائن اپنی تصویر کے حوالے سے لوگوں کا ردعمل دیکھا تو وہ مکمل طور پر خوفزدہ ہو گئیں۔‘

شطرنج کی بین الاقوامی فیڈریشن نے اس صورتحال پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ بیات نے اس کا کوئی بھی قانون نہیں توڑا۔

لیکن اسی تنظیم کے نائب صدر نیگل شارٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے اور بیات کی تعریف کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

شھرہ بیات نے کہا ہے کہ انھوں نے شطرنج کی فیڈریشن سے کہا ہے کہ وہ ایک خط لکھیں جس میں ان کی گھر واپسی پر ان کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تاہم انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

بیات کا خیال ہے کہ فیڈریشن پر اوپر سے دباؤ ہے۔

بیات کہتی ہیں کہ ان کی کامیابیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

بیات کو غصہ ہے کہ انھوں نے کس طرح کا لباس زیب تن کیا اس بحث نے شطرنج کے شعبے میں ان کی کامیابیوں کی اہمیت کو ماند کر ڈالا ہے۔

وہ اس شعبے میں بین الاقوامی طور پر اعلیٰ مقام حاصل کرنے والی چند خواتین میں شامل ہیں اور ایشیا میں وہ واحد خاتون ہیں جو ریفری کے فرائص سرانجام دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں نہیں جانتی کہ کوئی اور ایرانی خاتون ایسے بڑے ٹورنامنٹ میں کام کر رہی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ ان کے لیے حجاب مسئلہ ہے میری قابلیت نہیں۔ یہ چیز مجھے حقیقتاً پریشان کرتی ہے۔‘

ان کا معاملہ اولپمکس میں ایران کی پہلی خاتون میڈلسٹ، کیمیا علی زادہ کے معاملے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا ہے۔ انھوں نے انسٹا گرام پر یہ پوسٹ لگائی کہ وہ ایران کو جزوی طور پر چھوڑ رہی ہیں کیونکہ وہ یہاں لباس کے لیے عائد کردہ لازم شرائط سے تنگ آ چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بیات کہتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہاں لوگ، خاص طور پر کھلاڑی بہت دباؤ میں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ دباؤ اس چیز کے لیے ہے جو آپ نہیں ہیں۔

انھوں نے ایسا اصل تنازع کے شروع ہونے سے پہلے خود بھی محسوس کیا ہے۔

انھوں نے ایران کی شطرنج فیڈریشن کی ویب سائٹ کے لیے تصویر بھجوائی تھی۔ ان سے دوسری تصویر بھیجنے کے لیے کہا گیا کیونکہ پہلی تصویر ’مناسب‘ نہیں تھی۔

اب بیات اپنی نوکری پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں اور وہ وثوق سے کچھ نہیں جانتی کہ ان کا اگلا قدم کیا ہو گا۔

لیکن کیونکہ وہ ایران نہیں جا سکتیں اس لیے انھوں نے سوچا ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کے لیے اور کچھ نہیں اور انھوں نے اب حجاب لینا مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت اداس محسوس کرتی ہوں۔ اپنے خاندان کے بغیر ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سکارف اتارنے کا مطلب تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میرے پاس ایران واپس جانے کا اختیار ہو تو یقیناً میں جانا چاہوں گی لیکن نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوگا۔‘

اسی بارے میں