ایران میں مظاہرے: یوکرینی طیارہ گرائے جانے کے بعد حکومتی دباؤ کے باوجود ملک میں مظاہرے جاری

ایران میں یوکرینی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران میں یوکرینی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں

ایرانی حکام نے جب سے یوکرینی ایئرلائن کے طیارہ کو ’نادانستہ طور پر‘ مار گرانے کا اعتراف کیا ہے، تب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

ان مظاہروں میں چند مظاہرین ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف نعرے لگاتے بھی دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرینی طیارے کی تباہی: ایران میں گرفتاریاں شروع

یوکرینی طیارہ: ایران پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

کیا مسلم ممالک ایران کے لیے متحد ہو پائيں گے؟

یہ مظاہرین کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟

فی الحال یہ مظاہرے تہران اور اصفہان کی سڑکوں تک ہی محدود ہیں اور ان میں یونیورسٹی کے طلبا کی بڑی تعداد شامل ہے اور ساتھ ہی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد بھی جنھیں طیارے کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر غصہ ہے۔

اس طیارے میں 100 سے زائد ایرانی شہری بھی موجود تھے اور ایرانی حکومت لگاتار تین روز تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس طیارے میں 100 سے زائد ایرانی شہری بھی موجود تھے اور ایرانی حکومت لگاتار تین روز تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی

یہ مظاہرین حکام کی جانب سے آغاز میں سچ نہ بتانے کی مذمت کر رہے ہیں لیکن ان مظاہروں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای مخالف نعرے بھی سننے میں آئے ہیں۔

بی بی سی کے رعنا رحیمپور کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے بہت سارے طلبا ایسے ہیں جو بیرونِ ملک جانے کی استطاعت رکھتے ہیں اور اکثر کے جاننے والے اس طیارے میں موجود تھے۔‘

یہی وجہ تھی کہ لوگوں نے غصے میں سڑکوں کا رخ کیا۔

ان مظاہروں میں کسی ایک شخصیت کے گرد توجہ مرکوز نہیں کی جا رہی۔ پینسلوینیا یونیورسٹی کی پروفیسر فاطمہ شمس کہتی ہیں کہ ’اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ کوئی ایک اہم شخصیت ایسی ہے جس کے گرد لوگ اکھٹے ہو سکتے ہیں۔‘

ایران میں حزب اختلاف کو کیا کرنے کی اجازت ہے؟

ایران کا سیاسی نظام انتخابات کروانے کی اجازت دیتا ہے لیکن سیاسی گروہوں کو اسلامی جمہوریہ کے سخت گیر قوانین کے حساب سے کام کرنے کی اجازت ہے۔

سنہ 2016 کے انتخابات میں تقریباً آدھے امیدواروں کو ایران کی شوریٰ نگہبان نے ایران کے اسلامی نظام سے وابستگی کو پرکھنے والے نظام کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فی الحال یہ مظاہرے تہران اور اصفہان کی سڑکوں تک ہی محدود ہیں اور ان میں یونیورسٹی کے طلبا کی بڑی تعداد شامل ہے اور ساتھ ہی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد بھی جنھیں طیارے کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر غصہ ہے

اس سال فروری میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل 90 موجودہ رکن پارلیمان ہزاروں امیدواروں کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔

یہ طاقتور ادارہ کسی بھی صدارتی امیدوار کو بھی نااہل قرار دے سکتا ہے اور پارلیمان میں منظور کی گئی کسی ایسی قرارداد کو ویٹو بھی کر سکتا ہے جو اس کے نزدیک ایران کے آئین اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای شوریٰ نگہبان کے آدھے سے زائد اراکین کو تعینات کرتے ہیں۔

رہبرِ اعلیٰ کا کنٹرول افواج پر بھی ہے اور وہ سکیورٹی، دفاع اور خارجہ پالیسی کے مسائل پر فیصلہ سازی کرتے ہیں۔

اس لیے حقیقت میں اگر صدر اور پارلیمان ایران میں تبدیلی کی حمایت کریں بھی تو ان کے پاس اختیارات بہت محدود ہیں۔

حزبِ مخالف میں کچھ ایسے گروہ بھی ہیں جو نسلی اقلیتوں جیسے کرد، عرب، بلوچ اور آذربائیجانی افراد کو مزید خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان میں سے کچھ گروہ، جیسے ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانیئن کردستان نہ صرف مسلح ہیں بلکہ ایران کے خلاف دہائیوں سے لڑتے آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای

حزبِ مخالف کے اہم رہنما کون ہیں؟

ایران میں برسوں سے ایک اصلاح پسند تحریک چل رہی ہے جس کا محور ایران کے سابق صدر محمد خاتمی ہیں۔

سنہ 2005 تک حکمرانی کرنے والے خاتمی نے اپنے دورِ حکومت میں محدود سماجی اور معاشی اصلاحات کی تھیں جس کا احساس مغربی ممالک کو بھی ہوا تھا۔

تاہم ان کی جانب سے کی جانے والی اکثر جامع اصلاحات کے درمیان قدامت پسند مفادات آ گئے تھے جس کے باعث خاتمی کو بھی دیوار سے لگا دیا گیا اور ان کی نقل و حرکت اور میڈیا تک رسائی بھی محدود کر دی گئی۔

سنہ 2009 میں ایرانی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج متنازع صدارتی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا جس میں قدامت پسند رہنما محمود احمدی ‌نژاد سرخرو ہوئے۔

ان انتخابات میں شکست کھانے والے امیدواروں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے اس کے نتائج پر سوال اٹھا دیے جس کے بعد پورے ملک میں سیاسی اصلاحات کے حق میں دیکھنے میں آئے جنھیں بعد میں سبز تحریک کا نام دیا گیا۔

لاکھوں افراد نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا لیکن آیت اللہ خامنہ ای اس بات پر زور دیتے رہے کہ انتخابات کے نتائج درست ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تہران میں سیکیورٹی فورسز مظاہرین کا پیچھا کر رہی ہیں

مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی

اس سال مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں اور اطلاعات یہ بھی تھیں کہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی گئی۔

حزبِ اختلاف کے متعدد اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ موسوی اور کروبی ایک دہائی بعد آج بھی اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔

سنہ 2017 کے اختتام اور 2018 کے اوائل میں بگڑتی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

ملک کے کچھ حصوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے ایران کی بالخصوص نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کیا۔

متوسط طبقے کے قدرے امیر افراد نے بھی ان مظاہروں میں شرکت کی اور صدر روحانی کی حکومت کی معاشی پالسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ صدر روحانی ایک اعتدال پسند رہنما ہیں جنھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ سنہ 2015 میں جوہری معاہدہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایرانی افواج کی جانب سے گرائے گئے طیارے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں ایک پوسٹر آویزاں ہے

ان مظاہروں میں شامل افراد نے ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بھی نعرے بازی کی تھی اور ملک میں بادشاہت کے نظام کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا تھا جس کا خاتمہ 1979 میں کیا گیا تھا۔

نومبر 2019 میں پھر سے مظاہرے اس وقت دیکھنے میں آئے جب حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کا عندیہ دیا گیا۔

اس کی وجہ امریکی کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنا تھا۔

ان مظاہروں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے جابرانہ کارروائی کی گئی۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 304 بتائی تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 1500 کے قریب تھی۔

ایرانی حکام نے دونوں ہی اداروں کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا۔ ملک میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن تقریباً پانچ دن جاری رہا جس کی وجہ سے ملک بھر میں رابطے معطل رہے۔

مگر ان حالیہ مظاہروں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اکثر اوقات کسی کی رہنمائی میں نہیں ہوتے، اور ان کی بنیاد مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر عوام کا غم و غصہ ہوتا ہے۔

مگر شورش کے باوجود حکومت کنٹرول میں رہنے میں کامیاب رہی ہے اور ایسا اپوزیشن رہنماؤں پر کڑی پابندیوں اور عوامی غصے کو ریاستی سطح پر دبا کر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں