دیوندر سنگھ نے گرفتاری سے پہلے کہا 'سر، یہ گیم ہے۔ آپ گیم خراب مت کرو'

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

شدت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے پولیس اہلکار دیوندر سنگھ سے اب این آئی اے ( نیشنل انویسٹیگیشین ایجنسی) کے اہلکار تفتیش کریں گے۔

یہ ادارہ پہلے ہی کشمیر میں شدت پسندوں کو حاصل ہونے والی مالی امداد سے متعلق متعدد معاملات کی تقتیش کر رہا ہے۔

اس معاملے میں این آئی اے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسے یہ معلوم کرنا ہے کہ ڈی ایس پی دیوندر سنگھ شدت پسندوں کے ہمراہ کیوں سفر کر رہے تھے؟

ان کی گرفتاری کے بعد انھیں بغیر شواہد کے پلوامہ حملے سے بھی جوڑا جا رہا ہے کیوں کہ وہ اس وقت اس علاقے کے پولیس ہیڈکوارٹر میں تعینات تھے۔ این آئی اے ان تمام پہلوؤں کی تقتیش کرے گی۔

ایک سینئیر پولیس اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دیوندر سنگھ پر پولیس نے نظر رکھی ہوئی تھی۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس بات کی پختہ معلومات تھیں کہ وہ شدت پسندوں کو کشیمر لانے اور کشمیر سے باہر جانے میں مدد کررہے تھے'۔

پولیس محکمے کے اہلکار دیوندر سنگھ کی ڈرامائی انداز میں ہونے والی گرفتاری کی کہانی بتاتے ہیں۔

اس بارے میں

گرفتار کشمیری پولیس افسر اور افضل گورو کا کیا تعلق تھا؟

'پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش رچی جانے والی تھی'

گاڑی سے گرینیڈ برآمد ہوئے

پولیس اہلکار کے مطابق دیوندر سنگھ کو سرینگر- جموں شاہرہ کے قریب واقع شہر قاضی گنڈ سے گرفتار کیا گیا۔ دیوندر جموں جا رہے تھے۔ ان کی کار میں حزب المجاہدین تنظیم کے کمانڈر سید نوید اور ان کے ساتھ آصف راتھیر اور عمران نامی شخص بھی اسی گاڑی میں موجود تھے۔

پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پولیس چیک پوائنٹ پر ڈی آئی جی اتل گوئل اور دیوندر سنگھ کے درمیان بحث ہوئی تھی اور اس واقع کی بھی تفتیش ہوگی۔

پولیس کے مطابق جس اہلکار کو دیوندر سنگھ پر نظر رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اس نے جنوبی کشمیر کے ڈی آئی جی اتل گوئل کو فون پر اطلاع دی کہ ’دیوندر سنگھ شدت پسندوں کے ساتھ سری نگر پہنچ گئے ہیں اور وہ یہاں سے قاضی گنڈ کے راستے جموں جائیں گے‘۔

پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں ’اس آپریشن کو ڈی آئی جی نے خود لیڈ کیا (یعنی آپریشن کی خود سربراہی کی) اور چیک پوائنٹ پہنچ گئے۔ جب ان کی گاڑی روکی گئی تو دیوندر سنگھ نے شدت پسندوں کا تعارف اپنے باڈی گارڈز کے طور پر کرایا لیکن جب گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے پانچ ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے اور ایک رائفل بھی برآمد ہوئی‘۔

اس آپریشن میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ڈی آئی جی نے دیوندر سنگھ کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے اپنے اہلکاروں سے انھیں گرفتار کرنے کے لیے کہا۔ اس پر دیوندر سنگھ کا کہنا تھا 'سر، یہ گیم ہے۔ آپ گیم خراب مت کرو'۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

’ڈی آئی جی نے دیوندر سنگھ کو تھپڑ مارا‘

پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ ’اس بات پر ڈی آئی جی گوئل کو غصہ آگیا اور انھوں نے دیوندر سنگھ کو ایک تھپڑ مارا اور انھیں پولیس وین میں بیٹھنے کا حکم دیا‘۔

57 سالہ دیوندر سنگھ کشمیر میں شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پیش پیش رہے ہیں۔ 90 کی دہائی میں وادی کشمیر میں شدت پسندوں نے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی تھی۔

دیوندر سنگھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ترال علاقے کے رہنے والے ہیں۔ ترال کو شدت پسندوں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ 21ویں صدی میں کشمیر میں شدت پسندانہ کارروائیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کا 'فیس' یا چہرہ بننے والے برحان وانی کا تعلق بھی ترال سے تھا۔

دیوندر سنگھ کے ساتھ کام کرنے والے کئی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگھ کی کارروائیوں کے خلاف متعدد بار تفتیش ہوئی لیکن ہر بار ان کو اعلیٰ اہلکاروں کی جانب سے کلین چٹ ملی۔

دیوندر سنگھ اور افضل گرو

90 کی دہائی میں دیوندر سنگھ کی پولیس لاک اپ میں افضل گورو سے ملاقات ہوئی۔ الزام یہ ہے کہ دیوندر سنگھ نے افضل گورو کو اپنا مخبر بنانے کی کوشش کی۔ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو انڈین پارلیمان پر ہونے والے حملے کا قصوروار قرار دیا گیا اور 9 فروری 2013 کو انھیں پھانسی دے دی گئی۔

اسی سال افضل گورو کی جانب سے تحریر شدہ ایک خط منظر عام پر آیا۔ سپریم کورٹ میں اپنے وکیل کو لکھے اس خط میں افضل گورو نے کہا تھا کہ وہ اگر جیل سے رہا ہو بھی گئے تو دیوندر سنگھ انھیں پریشان کرتے رہیں گے۔ اسی خط میں افضل گورو نے لکھا تھا ’دیوندر نے مجھے ایک بیرونی شدت پسند کو اپنے ساتھ دلی لے جانے کے لیے مجبور کیا۔ پھر مجھ سے انھیں ایک کمرہ کرائے پر دلانے اور پرانی کار خریدنے کے لیے کہا'۔

دیوندر سنگھ کی گرفتاری کے بعد متعدد سوالات سامنے آرہے ہیں۔ اگر دیوندر سنگھ کا ریکارڈ صحیح نہیں تھا تو انھیں آؤٹ آف ٹرم پرموشن کیوں دیا گیا؟ اگر ان کے خلاف تفتیش جاری تھی تو انھیں حساس علاقوں میں تعینات کیوں کیا گیا؟ ا

این آئی اے کو ان سبھی سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں