کورونا وائرس ڈائری: ایک خاموش ہو جانے والے شہر میں تنہا زندگی

Illustration of a woman looking out of a window

گو جنگ ووہان میں رہتی ہیں وہ شہر جہاں سے کورونا وائرس پھوٹا اور پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

ووہان کو 23 جنوری کے بعد بند کر دیا گیا ہے تاکہ یہ انفیکشن شہر سے باہر نہ جا سکے۔ ٹرانسپورٹ بند ہے، بیشتر دکانیں اور کاروبار بند ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

29 سالہ جِنگ سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں وہ خود مختار زندگی گزار رہی ہیں۔ انھوں نے ایک ہفتے تک ڈائری لکھی جو انھوں نے بی بی سی کے ساتھ شیئر کی۔

جمعرات 23 جنوری، وہ دن جب شہر بند کر دیا گیا

جب میں جاگی اور مجھے پتا چلا کہ شہر کو بند کر دیا گیا ہے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ میں نہیں جانتی کہ اس کا کیا مطلب ہے، پتا نہیں یہ کب تک چلے گا اور مجھے اس کے لیے کیا تیاری کرنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کے بہت سے غضب ناک کمنٹس تھے: وائرس کی تشخیص کے مریضوں کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا جا رہا، کونکہ وہاں جگہ نہیں ہے، بخار کے مریضوں کا بھی مناسب علاج نہیں ہو رہا۔‘

بہت سارے لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ دوستوں نے مجھ سے کہا ہے کہ گھر میں اشیائے ضرورت جمع کرلوں۔ بازاروں میں چاول اور نوڈلز بک چکے ہیں۔

ایک شخص بہت زیادہ نمک خرید رہا تھا کسی نے اس سے پوچھا وہ اتنا نمک کیوں خرید رہا ہے تو اس نے جواب دیا اگر یہ شہر پورا سال بند رہا تو پھر کیا ہوگا۔`

میں فارمیسی گئی وہاں پہلے ہی محدود خریداروں کی اجازت تھی۔ وہاں ماسک اور جراثیم کش دوائیں ختم ہو چکی تھیں۔

خوراک جمع کرنے کے بعد بھی میں صدمے میں ہوں۔ سڑکوں پر گاڑیاں اور پیدل چلنے والے کم ہو رہے ہیں اور شہر ایک دم سے رک سا گیا ہے۔

یہ شہر پھر سے کب زندہ ہوگا؟

جمعہ 24 جنوری سالِ نو کی خاموش شام

دنیا خاموش ہے اور یہ سکوت بہت ہولناک ہے۔ میں اکیلی رہتی ہوں اس لیے راہداری سے وقتاً فوقتاً آنے والی آوازوں سے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہاں اور بھی انسان موجود ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

میری پاس یہ سوچنے کے لیے بہت وقت ہے کہ زندہ کیسے رہا جائے۔ میری پاس کوئی ذرائع اور تعلقات نہیں ہیں۔

میرا اس وقت ایک مقصد یہ بھی ہے کہ میں بیمار نہ پڑوں اس لیے میں ورزش کرتی ہوں۔ زندہ رہنے کے لیے خوراک ناگزیر ہے اس لیے مجھے یہ ضرور جاننا ہے کہ میرے پاس کافی خوراک ہے۔

حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ شہر کا لاک ڈاؤن کب تک رہے گا۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب مئی تک رہے گا۔

آج نیچے فارمیسی اور سہولت بازار بند ہو چکے ہیں لیکن یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کے کوریئر والے گھروں میں کھانا ڈیلیور کر رہے ہیں۔

سپر مارکیٹ میں نوڈلز فروخت ہو چکے ہیں لیکن چاول تھوڑی مقدار میں موجود ہیں۔ میں بھی آج بازار گئی تھی، میں نے سیلری، لہسن اور انڈے خریدے۔

گھر واپس آکر میں نے اپنے ہاتھ اور کپڑے دھوئے اور غسل کیا۔ ذاتی صفائی بہت ضروری ہے میں دن میں 20 سے 30 مرتبہ ہاتھ دھوتی ہوں۔

باہر جا کر ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی دنیا سے جڑی ہوئی ہوں، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ضعیف اور معذور افراد اس صورتحال سے کیسے گزر رہے ہوں گے۔

رات کے کھانے پر میں اپنے دوستوں کے ساتھ ویڈیو کال پر تھی۔ وائرس سے متعلق گفتگو سے فرار ممکن نہیں تھا۔ کچھ لوگ ووہان کے قریبی قصبے میں تھے، کچھ نے اس بیماری کی وجہ سے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن کچھ لوگ اس وبا کے باوجود ملنے پر اصرار کر رہے تھے۔

کال کے دوران ایک دوست نے کھانسی کی۔ دوسرے نے مذاق میں اس کال کاٹ دینے کو کہا۔

ہم نے تین گھنٹے بات کی اور اس کے بعد میں نے سوچا کے شاید میں اب اچھے خیالات کے ساتھ سو سکتی ہوں۔ لیکن جب میں نے آنکھیں بند کیں تو پچھلے کچھ دنوں کی یادیں میرے ذہن میں دوڑنے لگیں۔

میری آنسو رواں ہو گئے اور میں نے لاچار محسوس کیا، غصہ اور اداسی بھی۔ میں نے موت کے بارے میں بھی سوچا۔

میری ملازمت اچھی ہے، میں اپنے زندگی کا خاتمہ نہیں چاہتی۔

سنیچر 25 جنوری، چینی سال نو اور تنہائی

آج چین میں سال نو ہے۔ میں کبھی بھی تہواروں کو منانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی اور اب تو سالِ نو بالکل ہی غیر متعلق سی چیز محسوس ہو رہا ہے۔

صبح کے وقت میں نے دیکھا کے چھینک کے ساتھ کچھ خون آیا ہے۔ میں ڈر گئی۔ میرا ذہن بیماری کے بارے میں پریشانیوں سے بھر گیا۔ میں پریشان تھی کہ باہر جاؤں یا نہیں۔ لیکن مجھے بخار نہیں تھا اور میری خوراک بھی ٹھیک تھی اس لیے میں باہر چلی گئی۔

میں نے دو ماسک پہنے، اگرچہ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں۔ لیکن میں ان کی کوالٹی کے بارے میں مشکوک تھی۔ اس لیے اسے دہرا کر لیا اور محفوظ محسوس کرنے لگی۔

باہر کا ماحول اب بھی بہت خاموش تھا۔

پھولوں کی ایک دکان کھلی تھی۔ دکاندار نے وہاں گل داؤدی سجا رکھے تھے جو عموماً جنازوں پر استعمال ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں اس کا کیا مقصد تھا۔

سپر مارکیٹ میں سبزیوں کا حصہ خالی تھا اور ڈمپلنگ اور نوڈلز تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ بہت کم لوگ تھے جو قطار میں کھڑے تھے۔

میں اب بھی بہت کچھ خرینا چاہتی تھی۔ میں نے ڈھائی کلو چاول خریدے، حالانکہ گھر پر سات کلو موجود تھے۔ میں خود کو شکر قندی، ڈمپلنگس، ساسجز، لال لوبیا، مٹر اور انڈے لینے سے نہیں روک سکی۔

حتی کہ مجھے نمکین انڈے پسند بھی نہیں اور میں یہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اپنی دوستوں کو دے دوں گی۔

میرے پاس کم از کم ایک ماہ لیے راشن موجود تھا پھر بھی اتنی ساری خریداری پاگل پن ہے۔ لیکن ایسے حالات میں میں خود کو الزام کیسے دے سکتی ہوں۔

میں دریا کے ساتھ چہل قدمی کرنے گئی۔ یہاں کھانے پینے کی دو دکانیں کھلی تھی کچھ لوگ اپنے کتوں کے ساتھ باہر گھومنے آئے تھے۔ کچھ مزید لوگ بھی چہل قدمی کرتے نظر آئے میرے خیال میں وہ بھی قید رہنا نہیں چاہتے۔

میں کبھی ایسے سڑک پر نہیں چلے۔ مجھے لگا کے میری دنیا تھوڑی وسیع ہو گئی ہے۔

اتوار 26 جنوری، اپنی آواز کو دوسروں تک پہنچاؤ

یہ صرف ایک شہر نہیں جو رک گیا تھا، لوگوں کی آوازیں بھی جکڑی گئی ہیں۔

لاک ڈاؤن کے پہلے دن میں نے سوشل میڈیا پر کچھ نہیں لکھا (سنسر شپ کی وجہ سے)۔ میں وی چیٹ پر بھی کچھ نہیں لکھ سکتی تھی۔ چین میں لمبے عرصے سے انٹرنیٹ سینسر شپ موجود ہے لیکن اب یہ زیادہ سفاک محسوس ہو رہی ہے۔

جب آپ کی زندگی الٹ جاتی ہے تو اپنی روز مرہ زندگی کو ترتیب دینا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے ایک ایپ کی مدد سے صبح ورزش کرنا جاری رکھا ہوا ہے لیکن میں توجہ نہیں دے پاتی کیونکہ میرا ذہن جکڑا ہوا ہے۔

میں نے آج پھر گھر سے نکلی اور گننے کی کوشش کی کہ آج میں کتنے لوگوں سے ملتی ہوں۔ اپنے گھر سہ 500 میٹر دور موجود نوڈلز کی دکان تک میں آٹھ افراد سے ملی۔

میں گھر نہیں جانا چاہتی تھی۔ میں مزید دیکھنا چاہتی تھی۔ مجھے ووہان میں آئے ہوئے دو ماہ ہی ہوئے ہیں۔ میرے یہاں کوئی دوست نہیں میں اس شہر کے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتی۔

میرے خیال میں آج میں نے 100 لوگوں کو دیکھا۔ آج میں نے لوگوں سے بات کی۔ امید ہے کہ سب پر امید رہیں۔ دوستو امید ہے کہ ہم ملتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی بات کریں گے۔

میں نے لوگوں کو کھڑکیوں سے ’ووہان زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا۔ مل کر نعرے لگانا طاقت کی علامت ہیں۔

منگل 28 جنوری، بالآخر سورج کی کرن

گھبراہٹ نے لوگوں کے درمیان دراڑ ڈال دی تھی۔

کئی شہروں میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر ماسک پہنیں۔ اس کا مقصد وبا کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ لیکن یہ سب طاقت کے غلط استعمال کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ماسک کے بغیر شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ سے باہر پھینکا گیا۔ ہم نہیں جانتے کہ انھوں نے ماسک کیوں نہیں پہنا۔ شاید وہ خرید نہیں سکتے تھے۔ یا انہیں اس نوٹس کے بارے میں علم نہیں تھا۔ وجہ کوئی بھی ہو ان سے باہر جانے کا حق نہیں چھینا جانا چاہیے۔

آن لائن گردش کرنے والی کچھ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خود کو طبی قید میں رکھنے والے بعض افراد کے دروازوں کو سیل کر دیا گیا۔ حوبئی صوبے میں گھروں سے نکلنے والے افراد کے لیے جانے کی کوئی جگہ نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ حوبئی کے لوگوں کو رہائش کی پیشکش بھی کر رہے ہیں۔

کئی راستے ہیں جن کے ذریعے حکومت لوگوں کو گھروں میں رہنے کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ وہ یقینی بنائے کہ ہر شہری کے پاس ضرورت کے مطابق ماسک ہیں۔ یا جو لوگ گھروں میں رکیں ان کو رقوم انعام میں دے۔

آج بلآخر دھوپ نکلی ہے میرے مزاج کی طرح۔ میں نے اپنے علاقے میں مزید لوگوں کو دیکھا۔ کچھ کمیونٹی ورکر بھی تھے۔ وہ غیر مقامی افراد کا بخار چیک کرنے آئے تھے۔

محاصرے کے دوران کسی کا اعتماد جیتنا اور تعلق بنانا آسان نہیں ہوتا۔ شہر کی فضا بوجھل ہے۔ زندہ رہنے کے لیے میری پریشانی اب دھیرے دھیرے ختم ہو رہی تھی۔ اگر میں یہاں لوگوں کے ساتھ تعلق نہیں بناتی تو شہر میں مزید آگے جانا بے معنی ہے۔

سماجی رابطے بہت ضروری ہیں۔ ہر کسی کو معاشرے میں اپنے لیے کردار تلاش کرنا ہوگا اور اپنے زندگی کو بامعنی بنانا ہوگا۔

اس تنہا شہر میں مجھے اپنا کردار تلاش کرنا ہے۔

گو جنگ نے اپنی ڈائری کے کچھ حصے وی چیٹ پر بھی شائع کیے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کی گریس تسوئی سے بات کی۔

خاکے: ڈیوس سریا