#CoronaVirus: کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی تجارت متاثر، پاکستان میں ادرک، لہسن کی قیمتوں میں اضافہ

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی ہے اور اس کے علاوہ 20000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیس سامنے آچکے ہیں۔ چین سے باہر کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص فلپائن میں اور ایک ہانگ کانگ میں تھا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے تیل فراہم کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور ان کے اتحادیوں کی رواں ہفتے ملاقات متوقع ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

کراچی پہنچنے والے چینی سامان کو ریلیز کرنے سے انکار

چین سے پاکستان آنے والوں کی نگرانی کیسے کی جا رہی ہے؟

امریکہ معاونت کرنے کے بجائے خوف پھیلا رہا ہے: چین

جنوری کے مہینے میں قیمتوں میں اضافے کے بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اب تک 20 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

چینی نئے سال کے موقع پر چھٹیوں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین بھر میں سفری پابندیاں لاگو کر دی گئی تھیں اور دکانیں بند تھیں۔

چین دنیا بھر میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل استعمال کرتا ہے۔ لیکن ان چھٹیوں اور تجارتی سرگرمیوں کے بند ہونے کے باعث وہاں تیل کی طلب میں واضح کمی آئی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے طیاروں میں ڈالے جانے والے جیٹ فیول کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی کئی فضائی کمپنیوں نے چین کے لیے اپنے پروازیں معطل کر دی ہیں اور ملک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کورونا وائرس کے عالمی تجارت پر منفی اثرات ہمیں کیا بتاتے ہیں؟

چین میں تیل کی طلب میں واضح کمی کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کاروباری سرگرمیوں میں کمی آ رہی ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین کی اپنی اقتصادی ترقی کی شرح آہستہ ہو رہی تھی اور تین دہائیوں میں سب سے کم شرح تک پہنچ گئی ہے۔

چینی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک تھنک ٹینک کے ماہر معاشیات ژانگ منگ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی سالانہ اقتصادی ترقی کی کی شرح اس سال کے پہلے تین ماہ میں پانچ فیصد سے بھی کم ہو گی۔

واضح رہے کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور وہاں پر کاروبار میں منفی رحجان کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں متاثر ہو سکتی ہیں۔

خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک تیل کی پیداوار میں کمی لانے کے بارے میں گفتگو کریں۔

اوپیک تنظیم کے ممبر رکن ایران نے پیر کو کہا کہ تیل کی قیمتوں کا سہارا دینے کے لیے اقدامات لیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں ادرک اور لہسن کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی سبزیاں جیسے لہسن، ادرک کو سمندری راستے کے ذریعے چین سے منگوایا جاتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تجارت میں کمی آئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کراچی میں سبزیوں کی درآمد سے وابستہ تاجر محمد صالح کا کہنا ہے کہ پہلے ہر ہفتے 100 کنٹینر آتے ہیں جن میں پچاس لہسن اور پچاس ادرک کے ہوتے تھے اور ہر کنٹینر میں تیس ٹن مال ہوتا تھا۔

'پانچ اور گیارہ فروری کی جو شپمنٹس تھیں وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ آخری شپمنٹ 28 جنوری کو روانہ ہوئی تھی، ایک ہفتہ وہاں چھٹی تھی اور اب کرونا وائرس کی وجہ سے دس تاریخ تک ان کی چھٹیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔'

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سبزی منڈی میں اب لہسن اور ادرک کی قمیت میں 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ محمد صالح کے مطابق لہسن پہلے ڈھائی سو رپے کلو تھا جو اس وقت تین سو رپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں کی سبزی منڈیوں اور سپر سٹورز میں لہسن کی قیمت 400 رپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی کی سبزی منڈی میں اب لہسن اور ادرک کی قمیت میں 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے

ایمپریس مارکیٹ کے دکاندار شکیل احمد کا کہنا ہے کہ چین سے مال نہیں آرہا جس کی وجہ سے قیمت بڑھ گئی ہیں کیونکہ راستے بند ہیں۔'جن کے پاس مال پڑا ہوا ہے انھوں نے دام بڑھا دیے ہیں۔'

ایمپریس مارکیٹ میں خریداری کے لیے موجود فریدہ اسماعیل کہتی ہیں کہ وہ چین کا لہسن اور ادرک استعمال کرتی ہیں کیونکہ ان کا سائز بڑا ہوتا ہے اور چھلینے میں آسانی ہوتی ہے۔

دوسری جانب کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین سے بحری جہازوں کی آمد کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔

اس سے قبل حکام اعلان کرچکے ہیں چین سے آنے والے سامان پر اسپرے کیا جائیگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمیٹی کی جانب سے جانوروں کی منڈیوں، جہاں سے یہ وائرس پھیلا، پر کریک ڈاؤن کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں

چین کی اعلیٰ قیادت نے مہلک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے جواب میں ملک کے ردعمل میں پائی جانے والی ’کوتاہیوں اور خامیوں‘ کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیٹبرو سٹینڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی مینیجمینٹ کے قومی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جانوروں کی منڈیوں پر، جہاں سے یہ وائرس پھیلا، کریک ڈاؤن کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

پیر کے دن کے اختتام تک کورونا وائرس کے باعث چین میں 425 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 20 ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیس سامنے آ چکے ہیں۔ صرف پیر کے روز وائرس کے باعث 64 نئی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ تین ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والی ہلاکتیں اور نئے کیس ہوبائی صوبے میں سامنے آئے ہیں جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: ہزار بستروں کا ہسپتال چند دن میں تیار

چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والا پاکستانی ڈاکٹر

دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے باعث اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے جو فلپائن میں رپورٹ ہوئی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 150 ہے۔

کورونا وائرس سانس کے نظام میں شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے اور اس کی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہے۔

کورونا چین کی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے اور پیر کے روز چین میں نئے سال کے آغاز کی چھٹیوں کے بعد پہلے روز معیشت مندی کا شکار رہی۔ شنگھائی کمپوزیم انڈیکس آٹھ فیصد کمی کا شکار رہا جو کہ گذشتہ چار برسوں میں سب سے بری کارکردگی تھی۔

کمیٹی نے کیا کہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی حکومت کو درپیش اس 'بڑے امتحان' سے سبق سیکھنا ہو گا

سٹینڈنگ کمیٹی کی سربراہی چین کے صدر شی جن پنگ نے کی۔ اس کمیٹی کی تفصیلات چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے جاری کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی حکومت کو درپیش اس ’بڑے امتحان‘ سے سبق سیکھنا ہو گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس وبا کے ردعمل میں سامنے آنے والی کوتاہیوں اور خامیوں کے جواب میں ہمیں اپنے قومی ایمرجنسی نظام کو بہتر بنانا ہو گا اور فوری اور خطرناک کاموں (ٹاسکس) سے نمٹنے کی اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہو گا۔‘

کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہمیں جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے مسئلے سے نمٹنا ہو گا اور اس پر ’مستقل طور پر پابندی عائد کرنا‘ ہو گی جبکہ جانوروں کی منڈیوں کے نگرانی کے نظام کو مستحکم اور مضبوط کرنا ہو گا۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان میں جانوروں کی ایک مارکیٹ سے اس وائرس کی ابتدا ہوئی تھی۔ پیر کے روز چین میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں چمگادڑوں کو اس وائرس کا ممکنہ ماخذ قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ چین میں حکام کی جانب سے ووہان کو 'اولین ترجیح' دی جا رہی ہے اور اضافی طبی عملہ وہاں بھیجا جا رہا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ حکومتی ذمہ داران کو اس وبائی مرض کی روک تھام میں اپنے فرائض کی پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور جو لوگ ان کو انجام دینے میں ناکام رہیں گے انھیں سزا دی جائے گی۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہوجیائی قصبے میں دو سرکاری ملازمین کو ان کے عہدوں سے اس وقت برخاست کر دیا گیا جبکہ ایک معذور چینی لڑکا اس وقت ہلاک ہو گیا جب اس کے والد کو کورونا وائرس کا مشتبہ مریض سمجھ کر ہسپتال داخل کر لیا گیا۔ معذور لڑکے کا والد اس کا واحد تیماردار تھا اور والد کی غیر موجودگی میں اس کی ہلاکت ہو گئی۔

صورتحال کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیر کے روز ہونے والی 64 ہلاکتیں اب تک ایک دن میں اس وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز 57 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ووہان میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے دو نئے بڑے ہسپتالوں کی تعمیر جاری ہے اگرچہ اب تک ان میں سے ایک بھی مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہوا۔

چین کا ہر وہ صوبہ جس کی آبادی 300 ملین سے زائد ہے وہاں عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

چین میں اس حوالے سے طبی آلات کی کمی بھی ہے جس کے باعث پیر کے روز حکام نے بین الاقوامی اپیل بھی کی تھی۔

چین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین کو اس وقت فی الفور میڈیکل ماسک، حفاظتی طبی سوٹ اور حفاظتی عینکوں کی ضرورت ہے۔‘

چین کے بعض شہروں بشمول شنگھائی میں نئے چینی سال کے ابتدا پر دی جانے والی سالانہ چھٹیوں میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ بہت سے سکول بند ہیں۔

ہانگ کانگ میں اب تک کورونا وائرس کے 15 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ہانگ کانگ نے چین کے ساتھ واقع 13 سرحدی راستوں میں سے 10 پر آمد و رفت معطل کر رکھی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث شرح اموات 2.1 فیصد ہے یعنی ہر 100 متاثرہ افراد میں سے 2.1 فیصد افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

دوسرے ممالک کیسے کورونا سے نمٹ رہے ہیں؟

جی سیون ممالک یعنی امریکہ، جرمنی، جاپان، برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور جرمنی کے وزرائے صحت نے پیر نے روز ایک کانفرنس کال کی ہے۔

جرمنی کے وزیر صحت جینز سپہن کا کہنا ہے کہ وزرائے صحت سفری ضوابط، وائرس پر تحقیق اور عالمی ادارہ صحت اور چین کے ساتھ مکمل تعاون کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

بہت سے ممالک نے چین سے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔ بہت سے ممالک میں چین سے واپس آنے والے باشندوں کو وطن واپسی پر علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔

امریکہ نے تمام امریکی افسران کے 21 سال سے کم عمر بچوں اور ان تمام امریکی شہریوں کو واپس بلایا ہے جو چین کے متاثرہ صوبے ہوبائی میں موجود تھے۔ تاہم ملک واپسی سے قبل انھیں 14 روز تک علیحدگی میں رہنے کی شرط پوری کرنی ہو گی۔

اسی بارے میں