صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ انڈیا: احمد آباد میں ایک کچی بستی کو ’چھپانے کے لیے دیوار‘ کی تعمیر

دیوار
Image caption اس علاقے کی اہم سڑک کے کنارے آباد کچی بستی کو چھپانے کے لیے سات فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جارہی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ انڈیا کے دورے پر آرہے ہیں۔ ان کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ 24 اور 25 فروری کو انڈیا کے دورے پر ہوں گے۔ اس دو روزہ دورے کے دوران وہ دلی اور گجرات جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ وہ ویسا ہی ہو گا جیسا وزیر اعظم نریندر مودی کا امریکہ میں ہوا تھا۔ اس کے لیے ہیوسٹن میں 'ہاؤی ڈی مودی' کی طرز پر منعقد ہوئے پروگرام کی طرح احمد آباد میں ’کیم چھو ٹرمپ‘ پروگرام منعقد ہو گا۔

گجراتی زبان میں ’کیم چھو! کا مطلب ہوتا ہے 'آپ کیسے ہیں؟'

اس پروگرام کے ذریعے امریکی صدر انڈین عوام سے خطاب کریں گے اور اس دوران نریندر مودی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

مگر اس سارے پروگرام سے زیادہ جس ایک چیز کا ذکر اس وقت انڈیا میں سب سے زیادہ ہورہا ہے وہ ہے ایک دیوار۔

احمد آباد میں صدر ٹرمپ کے قافلے کے راستے میں پڑنے والی ایک کچی بستی کو چھپانے کے لیے ایک دیوار بنائی جارہی ہے جس کی وہاں کے رہائشی مخالفت کررہے ہیں۔

یہ کچی بستی ایئرپورٹ سے سابرمتی آشرم کے راستے میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ نے مودی کو ’فادر آف انڈیا‘ کیوں کہا؟

مودی کا امریکہ میں جلسہ، ٹرمپ کی موجودگی انڈیا کی اہمیت کی دلیل

ٹرمپ، شی، اور مودی ’انسانی تہذیب کے لیے خطرہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کچی بستی کو چھپانے کے لیے دیوار

مقامی اخبارات میں یہ خبر جمعرات کو شائع ہوئی تھی کہ اس علاقے کی اہم سڑک کے کنارے آباد کچی بستی کو ’چھپانے‘ کے لیے سات فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ دیوار تقریباً نصف کلومیٹر تک بنائی جائے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار تیجس ویدھ کے مطابق احمد آباد میں اندرا برج سے منسلک سرنیا ویاس علاقے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ گزرے گا۔ اس کچی بستی میں تقریباً 2500 لوگ رہتے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے ’حکومت غریبی چھپانا چاہتی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو کچی بستی نہیں دکھانا چاہتی۔ اگر حکومت کو دقت ہے تو وہ پکے مکان کیوں نہیں تعمیر کرادیتی۔‘

اس بستی کی رہائشی کملابین کہتی ہیں ’دو تین روز سے کام چل رہا ہے۔ اس دیوار کے بننے سے ہماری بستی گھر جائے گی۔ ہوا پانی بند ہوجائے گا۔ نہ سیورج کا انتظام ہے اور نہ ہی بجلی اور پانی۔ اندھیرے میں گزارا کرنا پڑتا ہے۔ بارش میں یہاں گھٹنوں گھٹنوں پانی بھر جاتا ہے۔‘

پہلے پردے سے چھپاتے تھے

ایک ديگر مقامی خاتون کا کہنا تھا کہ ’اگر یہاں یہ دیوار نہیں ہوگی تو جب صدر ٹرمپ یہاں سے گزريں گے تو انہیں ہمارے مسائل کا علم ہوگا لیکن حکومت ان سے حقیقت چھپانا چاہتی ہے۔‘

یہ علاقہ ائیرپورٹ کے نزدیک ہے۔ اکثر کسی وی آئی پی یا خاص مہمان کی آمد پر یہاں پردہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن اب حکومت یہاں دیوار بنا کر اسے مکمل طور پر چھپانا چاہتی ہے۔

ایک دوسری مقامی خاتون کا کہنا تھا ’یہ دیوار نہیں تعمیر ہونی چاہیے۔ اگر نریندر مودی کو کچی بستی پسند نہیں ہے اور ہماری غریبی نطر آتی ہے تو ہمارے لیے پکے مکان بنوا کر دیں۔‘

مقامی لوگوں کی شکایت ہے کہ سرکار دیوار کھڑی کر کے راستہ بند کرنا چاہتی ہے۔ ’انتخابات کے وقت سیاسی لیڈر ووٹ مانگنے آجاتے ہیں لیکن بعد میں بھول جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک 80 سالہ خاتون نے بی بی سی سے کہا ’ہماری غربت کو پردے اور دیوار سے ڈھانپنے کے بجائے سرکار ہمیں سہولیات مہیا کرائے تاکہ ہماری زندگی بہتر ہو۔‘

ٹرمپ کے استقبال کی خاص تیاریاں

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی احمد آباد کے موٹیرا علاقے میں حال ہی میں بنے سردار ولب بھائی پٹیل کرکٹ سٹیڈیم کا افتتاح کریں گے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس وقت سٹیڈیم میں ایک لاکھ لوگ موجود ہوں گے۔

نریندر مودی نے ہوسٹن میں 50 ہزار امریکیوں اور بھارتی نژاد امریکیوں سے خطاب کیا تھا۔

خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اس سٹیڈیم میں ایک وقت میں ایک لاکھ دس ہزار افراد بیٹھ سکتے ہیں جو آسٹریلیا کے کرکٹ میدان سے بڑا ہے۔

گجرات کے مقامی اخبارت میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے پیش نظر شہر کے انتظامیہ کو ٹرانسپورٹ اور پارکنگ کے مناسب انتظامات کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ احمد آباد میں ٹرمپ ایک بڑا روڈ شو بھی کریں گے۔ وہ سابرمتی آشرم بھی جائیں گے۔ سابرمتی آشرم مہاتما گاندھی کے ٹھہرنے کی جگہ اور جنگ آزادی کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

سکیورٹی، سجاوٹ اور بہت کچھ

اطلاعات کے مطابق یہ روڈ شو احمد آباد ائیرپورٹ سے شروع ہو کر سابرمتی آشرم تک ہوگا۔ اس کے لیے 10 کلومیٹر لمبے راستے کو بہترین طریقے سے سجایا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر صارفین #KemChhoTrump ہیش ٹیگ کے ساتھ ان تیاریوں کی تصاویر اور ویڈیو شئیر کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار تیجس ویدھ نے بتایا کہ سابرمتی آشرم اور موٹیرا سٹیڈیم میں تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کی آمد سے دو روز قبل یہاں مسلح سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جو 24 گھنٹے یہاں تعنیات ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کے دورے کے پیش نظر روڈ شو والے پورے راستے کو دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے اور سجایا جارہا ہے۔

شہر کے سکولوں کالجوں کے طلبا کو اس پروگرام میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے اس دورے کی وجہ سے احمد آباد کے ایئرپورٹ کے اہلکار اور مقامی انتظامیہ کافی مصروف ہے۔

اس سے قبل چین کے صدر شی جن پنگ، جاپان کے وزیر اعظم شنجو آبے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو احمد آباد کے دورے پر آچکے ہیں۔

ٹرمپ کے لیے یہ دورہ اہم ہے

امریکہ میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخابات کے تناظر میں صدر ٹرمپ کے لیے یہ دورہ اہم ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے ٹرمپ کا یہ دورہ ایک طرح سے ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ امریکہ میں گجراتی نژاد امریکیوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور گجرات سے ایک بڑی تعداد میں لوگ امریکہ جاتے ہیں اور صدر ٹرمپ چاہیں گے وہ انہیں ووٹ دیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے بعض گجراتی نژاد امریکیوں کو احمد آباد بلایا جاسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا انڈیا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ سیاسی اور اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس دورے پر دونوں ممالک کے درمیان بعض اقتصادی معاہدے بھی ہو سکتے ہیں۔

پرجوش ٹرمپ، خوش مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے اس دورے پر بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا اعلی شان اور یاد گار استقبال کیا جائے گا۔

انھوں نے ایک دوسری ٹویٹ میں کہا ’بھارت اور امریکہ کے مضبوط رشتے نہ صرف ہمارے عوام کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ انڈیا اور امریکہ دونوں جمہوریت اور ایک ملی جھلی ثقافت کے حامی ہیں۔ دونوں ممالک مختلف معاملات پر ایک دوسرے کا پوری طرح ساتھ دے رہے ہیں۔‘

دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔

اسی بارے میں