#PulwamaAttack پلوامہ: سی آر پی ایف پر حملے کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

پلوامہ حملے کے بعد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پلوامہ میں 14 فروری 2019 کو ہونے والے خودکش حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان ہلاک ہوئے تھے

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی علاقے لڈوموڈ میں صورتحال 14 فروری 2019 کی دوپہر تین بج کر دس منٹ سے پہلے تک کشمیر کے دوسرے علاقوں جیسی ہی تھی لیکن اگلے ہی منٹ سب کچھ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔

لڈوموڈ وہ جگہ بن گئی جہاں پر سی آر پی ایف کے قافلے کی بس ماروتی سوزوکی گاڑی میں سوار ایک شدت پسند کے خودکش حملے کا نشانہ بن گئی جس میں سی آر پی ایف کے 40 جوان ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

پلوامہ حملے سے انڈین سیاست میں کیا تبدیلی آئی؟

'کاش میں بتا سکتا کہ وہ کس طرح انسانی بم بنا'

پلوامہ حملہ: ’قومی سلامتی مشیر کو حقیقت معلوم ہے‘

سی آر پی ایف کے لیے کشمیر میں ایسا حملہ کوئی نہیں بات نہیں تھا۔ لیکن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تین دہائیوں سے جاری دہشتگردی کے دوران ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

سی آر پی ایف نے کیا کیا؟

اس واقعے کے بعد سوال اٹھنا شروع ہو گیا کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو؟

سی آر پی ایف کے ترجمان آنند کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ سی آر پی ایف مسلسل اپنی حکمت عملی اور ہتھیاروں کے معیار کو بہتر کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس بہتری کا مقصد صرف دشمنوں کو ناکام بنانا نہیں بلکہ اس کے ذریعے اس پورے نظام سے نمٹا جائے گا جہاں سے یہ دہشتگردی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پچھلے سال ہونے والے حملے اور اس کے بارے میں ہونے تحقیقاتی رپورٹ اور اس پر کارروائی کے بارے میں انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان سے سی آر پی ایف کی خفیہ معلومات کی صلاحیت اور قافلے کی سکیورٹی کے بارے میں بھی سوال کیے گئے تھے۔

سی آر پی ایف کے کئی افسروں نے بی بی سی سے کہا کہ اس خودکش حملے کے بعد کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

نام نہ بتانے کی شرط پر ایک سینیئر افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پلوامہ حملے کے دوران کوئی غفلت نہیں ہوئی تھی اس لیے کسی کے خلاف کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

’اس دن ہم ہر طرح کے حملے کے لیے تیار تھے پر گاڑی کے ذریعے بم حملے کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ یہ اسی طرح سے ہے کہ وہ سوال پوچھا جائے جو سلیبس میں ہی نہیں۔‘

لیکن ایسا ڈیٹا موجود ہے کہ دہشت گرد اس سے پہلے بھی گاڑی کے ذریعے بم حملہ کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کار بم کا اس سے پہلے بھی استعمال ہوا؟

جنوبی ایشیا دہشتگردی پورٹل کے مطابق دو نومبر 2005 کو ایک کار بم حملے میں تین پولیس والے اور چھ عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی حملوں میں گاڑیاں استعمال ہوتی رہی ہیں۔

بی بی سی نے سی آر پی ایف کے سابق آئی جی وی پی ایس پوار سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’سی آر پی ایف فائر بریگیڈ کی طرح ہے جو ایک واقعے سے دوسرے واقعے کی طرف روانہ کی جاتی ہے۔ میرے حساب سے پلوامہ ایک بڑی غلطی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس سے کیا سبق سیکھا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد جو ٹھوس اقدامات کیے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلوں کی حرکت کے دوران عام شہریوں کی گاڑیوں کو روکا جانا تھا۔ حکومت پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ جوانوں کو منتقل کرنے کے لیے ایئر لفٹ کیوں نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب کیا بدلا ہے؟

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ ’سرینگر اور جموں کے درمیان جوانوں لانے اورلے جانے کے لیے ہماری فضائی سروس کے پاس ضروری صلاحیت نہیں ہے۔ اب جوان پرائیویٹ ایئر لائن پر سفر کر سکتے ہیں اور سرکار ان کو اس کے اخراجات دے گی۔‘

جموں سرینگر ہائے وے پر سی سی ٹی وی نصب کرنے کا کام جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کے قافلوں کے سفر کے دوران سڑک کے کنارے کھڑے ٹرکوں کو ہٹانے کے بارے میں بھی تجاویز زیر غور ہیں۔

پلوامہ حملے کے بارے میں چارج شیٹ ابھی عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ گزشتہ برس 20 فروری کو اس معاملے کی تحقیقات نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کو سونپی گئی تھی۔ چارج شیٹ کو عدالت میں پیش نہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

این آئی اے کا کیا موقف ہے؟

این آئی اے نے تحقیقات کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے مالک اور خودکش حملہ آور کی شناخت معلوم کرنے اور حملے میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس حملے کے منصوبے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ این آئی اے اس کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔

این آئی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ جیش محمد کے ترجمان محمد حسن نے حملے کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کئی میڈیا اداروں کو اپنا بیان بھیجا تھا۔ جیش کے نمائندے نے جس آئی پی ایڈریس سے بیان دیا اسے ٹریس کیا گیا جو پاکستان میں ہے۔‘

پلوامہ حملے کی تحقیقات کے دوران جیش محمد کا ایک نیٹ ورک پکڑا گیا اور اس کے اراکین کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ ان میں سے آٹھ افراد کے خلاف یو پی اے کے تحت چارج شیٹ بھی دائر کی جا چکی ہے۔

’اس سے جنوبی کشمیر میں جیش کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔‘

این آئی اے سے جب پوچھا گیا کہ اب تک چارج شیٹ کیوں نہیں فائل کی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’جو وجہ بتائی گئی ہپے، اسی وجہ سے اب تک چارج شیٹ فائل نہیں کی گئی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں