#coronavirus: ’میرے دادا کو مرنے سے صرف تین گھنٹے قبل ہسپتال میں بستر ملا‘

کورونا

وسطی چین کے صوبے ہوبائی میں ایک پراسرار نئے وائرس کی خبریں آنے کے ہفتوں بعد وہاں کے حکام نے اچانک انفیکشن سے متاثرہ افراد کی گنتی کا طریقہِ کار تبدیل کر دیا۔ اسی وجہ سے اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ لیکن ان ابتدائی دنوں میں، ووہان شہر میں وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ اور ہسپتالوں میں بستروں کی کمی کا مطلب یہ تھا کہ کچھ مریضوں کو جس علاج کی ضرورت تھی وہ انھیں میسر نہیں ہو سکا۔ ووہان کے دو رہائشیوں نے اس بیماری سے دوچار شہر میں اپنے پیاروں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں کے دوران پیش آنے والے خوفناک تجربات کے بارے میں بی بی سی کو بتایا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی وبا سارس سے بڑی مگر کم مہلک

کورونا وائرس: پاکستانی اور انڈین طلبا مشکلات کا شکار

کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

’دادا جان سکون سے آرام کریں‘: ژاؤ ہوانگ

ہوانگ کو ان کے والدین کے گزر جانے کے بعد ان کے دادا دادی نے پالا۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی چاہتے تھے کہ وہ اپنے دادا دادی کو، جن کی عمر 80 برس کے لگ بھگ ہے، ایک اچھی زندگی فراہم کر سکیں تاکہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے لطف اندوز ہو سکیں۔

لیکن صرف 15 دن میں ان کے دادا کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے اور اب ان کی دادی کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

ہوانگ کے دادا دادی کو 20 جنوری کو سانس لینے میں مسئلہ ہونے لگا۔ وہ 26 جنودی تک ہسپتال نہ پہنچ سکے کیونکہ 23 جنوری کو ووہان میں لاک ڈاؤن اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہونے کی وجہ سے ان کا ہسپتال تک پہنچنا مشکل تھا۔

29 جنوری کو ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی لیکن انھیں تین دن بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

ہسپتال اتنا بھرا ہوا تھا کہ کوئی بھی بیڈ خالی نہیں تھا۔ ان کے دادا دادای کو سخت بخار اور سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی لیکن انھیں صرف ہسپتال کی راہداری میں موجود کرسیوں کی پیشکش کی گئی۔ انھوں نے ہسپتال کے سٹاف سے التجا کی اور ایک لمبی کرسی اور فولڈ ہونے والا بیڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ہوانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ’ کوئی ڈاکٹر یا نرس نظر نہیں آ رہے، ڈاکٹروں کے بغیر ہسپتال صرف ایک قبرستان کی مانند ہے۔‘

ان کے دادا کے مرنے سے ایک رات قبل وہ اپنے دادا دادی کے ساتھ راہداری میں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی دادی سے باتیں کرتے رہے تاکہ انھیں پتہ نہ چل سکے کہ دادا کی طبیعت انتہائی خراب ہے۔‘

آخر کار ہوانگ کے دادا کو مرنے سے صرف تین گھنٹے قبل بیڈ ملا۔ ہوانا ان کی آخری سانس تک ان کے ساتھ تھے۔

انھوں نے ٹوئٹر طرز کے چینی پلیٹ فارم وی بو پر لکھا : ’دادا جان سکون سے آرام کریں۔ جنت میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔‘

بہت سے مریض اپنے خاندان کے کسی ممبر کی صحبت کے بغیر ہی مر گئے اور ایک دوسرے کو ایک آخری بار بھی نہ دیکھ سکے۔

ہوانگ کی دادی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں، اور وہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’کوئی مؤثر دوا نہیں ہے۔ ڈاکٹروں نے مجھ سے کہا ہے کہ امید نہ رکھیں۔۔ وہ صرف خود ہی صحت یاب ہو سکتی ہیں۔‘

’ہم صرف قسمت کو ہی فیصلہ کرنے دے سکتے ہیں۔‘

7 فروری سے ژاؤ ہوانگ خود بھی بہتر محسوس نہیں کر رہے اور اب وہ ایک ہوٹل میں دو ہفتوں سے قرنطینہ یعنی علیحدگی میں رہ رہے ہیں۔

’انھیں خون والی کھانسی آنے لگی‘: دا چن

جنوری کے شروع میں دا چن کی والدہ کو بخار ہوا۔ ان کے خاندان کے خیال میں ایسا صرف سردی کے باعث ہوا ہے۔ انھوں نے اس پراسرار بیماری کے بارے میں بہت کم سن رکھا تھا جو گیارہ ملین آبادی کے شہر میں خاموشی سے پھیل رہی تھی۔

لیکن ان کا بخار ایک ہفتے تک ختم نہیں ہوا حالانکہ انھوں نے کمیونٹی کلینک سے انجیکشن لیے تھے۔ 20 جنوری کے روز، وہی دن جب چینی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کورونا وائرس انسانوں کے مابین منتقل ہو سکتا ہے، دا چن اپنی والدہ کو اس کلینک میں لائے جو اس بخار میں مبتلا مریضوں کے لیے مختص تھا۔

چھاتی کا سکین اور خون کی رپورٹس دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ ان کی والدہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں۔

دا چن کہتے ہیں’ اس دن سے اب تک میں غیر یقینی کی حالت میں ہوں۔‘

لیکن اس سے بھی بری خبر آئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ان کی 53 برس کی والدہ کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس تشخیص کی تصدیق کے لیے کٹ نہیں۔ جنوری کے اختتام تک یہ ٹیسٹ کٹس صرف آٹھ نامزد ہسپتالوں میں دستیاب تھیں۔

ایک نامزد ہسپتال کے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس میری والدہ کو ہسپتال میں داخل کرنے کا اختیار نہیں۔ دا چن کہتے ہیں ’یہ مقامی محکمہ صحت کمیشن ہے جو تصدیق شدہ کیسوں کے لیے بستر مختص کرتا ہے۔ لہذا ڈاکٹر میری ماں میں کورونا وائرس کی تصدیق کا ٹیسٹ نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی انھیں بیڈ دے سکتے تھے۔‘

دا چن کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کا کیس ایسا نہیں تھا کہ انھیں الگ تھلگ رکھا جاتا۔ متاثرہ مریضوں کے اہلخانہ کے لیے مشہور میسجنگ ایپ وی چیٹ پر 200 سے زیادہ ممبروں کے ساتھ چیٹ گروپ میں لوگوں نے ایسی ہی کہانیاں شیئر کیں۔

ان کے بھائی ہسپتالوں کی قطار میں کھڑے رہتے یہ جاننے کے لیے کہ کوئی بیڈ دستیاب ہے یا نہیں۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ کلینک جاتے تاکہ انھیں ڈرپ لگ سکے۔ لیکن ان دوران، انھوں نے مریضوں کو ٹیسٹ کرانے یا ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل مشاہداتی کمروں سے گزرتے دیکھا۔

وہ بتاتے ہیں ’پالر سٹاف لاشوں کو لپیٹ کر لے جاتا تھا۔‘

ان کی والدہ کی حالت بگڑتی رہی۔ ان کی کھانسی اور پیشاب میں خون آنا شروع ہو گیا۔

29 جنوری کو آخرکار ان کی والدہ کو ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کا کوئی علاج نہیں ہو سکا اور ہسپتال میں داخل ہونے کے ابتدائی دنوں میں وہاں مناسب سازوسامان بھی موجود نہیں تھا۔

لیکن وہ یہ امید نہیں چھوڑ رہے ہیں کہ ان کی والدہ ٹھیک ہو جائیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں