انڈیا کے کالج میں لڑکیوں کا حلف: ’کبھی پیار نہیں کروں گی اور نہ ہی لو میرج کروں گی‘

طالبات کا حلف تصویر کے کاپی رائٹ NITESH RAUT
Image caption اساتذہ نے طلبہ سے یہ عہد لینے کے لیے یہ بھی کہلوایا کہ وہ کبھی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کریں گی جو جہیز کا مطالبہ کرے گا

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹرا کے امراوتی ضلعے میں ایک ویمن کالج نے گذشتہ روز ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اپنی طالبات سے یہ حلف لیا کہ وہ کبھی بھی محبت نہیں کریں گی۔

یہ واقعہ امراوتی کے چاندور ریلوے سٹی میں ودربا یوتھ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر انتظام ویمن آرٹ اینڈ کامرس کالج میں پیش آیا ہے۔

اساتذہ نے طلبہ سے یہ عہد لینے کے لیے یہ بھی کہلوایا کہ وہ کبھی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کریں گی جو جہیز کا مطالبہ کرے گا اور آنے والی نسلوں میں جہیز کے لین دین کو روکنے کے لیے بیداری پیدا کریں گی۔

اس کے علاوہ حلف میں محبت نہ کرنا اور محبت کی شادی نہ کرنا بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے‘

’ہولی ہے تو کیا آپ زبردستی کریں گے‘

طالبات نے اس طرح عہد کیا: ’میں قسم کھاتی ہوں کہ مجھے اپنے والدین پر مکمل اعتماد ہے۔ لہذا میں اپنے آس پاس ہونے رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر کبھی بھی پیار نہیں کروں گی اور نہ ہی میں لو میرج کروں گی۔ میں اس شخص سے شادی نہیں کروں گی جو جہیز کا مطالبہ کرے گا۔ اگر میرے حالیہ معاشرتی حالات کے پیش میرے والدین جہیز دے کر میری شادی کرتے ہیں تو جب میں ماں بنوں گی تو میں اپنی بہو سے جہیز نہیں لوں گی۔ ساتھ ہی اپنی بیٹی کی شادی میں بھی جہیز نہیں دوں گی۔ میں مضبوط انڈیا اور صحت مند معاشرے کے لیے اپنے سماجی ذمہ داری کے طور پر یہ حلف لیتی ہوں۔‘

کالج کیا کہتا ہے؟

طالبات سے کروائے گئے اس عہد کے بارے میں کالج کا کہنا ہے کہ وہ ’محبت کے خلاف نہیں ہیں‘ لیکن ’لڑکیوں کو صحیح شخص کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘

ویمنز آرٹ اینڈ کامرس کالج میں پولیٹیکل سائنس شعبے کے سربراہ پردیپ دندے کہتے ہیں ’ہم محبت کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ محبت بری چیز ہے۔ لیکن اس نوعمری کے دور میں لڑکیوں کو محبت اور کشش کا علم نہیں ہوتا ہے۔ انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کون سا شخص ان کے لیے درست ہے۔ اسی لیے ہم نے یہ حلف دلوایا ہے تاکہ انھیں اس سلسلے میں رہنمائی مل سکے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا ’یہ عہد بالغوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ کالج جانے والے نوجوانوں کے لیے ہے۔ دہلی میں نربھیا کیس، حیدرآباد کا معاملہ، دھمن گاؤں میں لڑکی کا قتل اور ہنگناگھاٹ میں لڑکی کو جلانے جیسے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ جس اخبار نے ہنگناگھاٹ میں لڑکی کو جلانے کی خبر شائع کی ہے اس نے یہ بھی شائع کیا ہے کہ کس طرح ضلع ٹیواسا میں دس دنوں میں 10 لڑکیاں لاپتہ ہوگئی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NITESH RAUT
Image caption روپالی کہتی ہیں 'معاشرے میں لڑکیوں پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں لیکن کسی کو سمجھ نہیں آتی ہے کہ نوجوان لڑکوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔ اسے بدلا جانا چاہیے۔'

خیال رہے کہ مہاراشٹر کے وردھا ضلع کے ہنگناگھاٹ میں ایک لڑکی کو زندہ جلا دینے کی کوشش کی گئی۔ بعد میں اس لڑکی کی موت ہو گئی۔

کالج کی انتظامیہ کی جانب سے دیے جانے والے دلائل کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی خواتین ونگ کی علاقائی صدر روپالی چکانکر نے مسترد کردیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ضرورت سماجی بیداری کی ہے۔

روپالی کہتی ہیں ’معاشرے میں لڑکیوں پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں لیکن کسی کو سمجھ نہیں آتی ہے کہ نوجوان لڑکوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔ اسے بدلا جانا چاہیے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’ہنگناگھاٹ جیسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ یہ خطرناک ہے اور اس سلسلے میں معاشرے کو بیدار کیا جانا چاہیے۔ حلف سے کیا ہوگا۔ ہمیں معاشرے کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اگر خواتین کو استعمال کی چیز سمجھنا بند کر دیا جائے تواس قسم کے واقعات سے بچا جاسکتا ہے۔ لڑکیوں کو لو میرج نہ کرنے کی قسم دلوانے سے بہتر ہوگا کہ انھیں تعلیم دی جائے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے۔ لڑکوں کو سکھایا جانا چاہیے کہ معاشرے میں کس طرح ذمہ داری سے رہنا ہوتا ہے۔‘

اخلاقی پولیسنگ کی کوشش ہے؟

جہاں یہ قسم کھائی گئی ہے اس کالج کے پردیپ دندے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لڑکیاں آخر اپنے والدین کی خواہشات کے برخلاف محبت کی شادیاں کیوں کرتی ہیں؟

پردیپ دندے کہتے ہیں ’ہم جدیدیت کے نام پر کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں؟ اس کا حل کیا ہے؟ ہمارے کالج میں حال ہی میں نیشنل سروس سکیم کے سلسلے میں ایک ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں ہم نے 'نوجوانوں کے سامنے چیلنجز' کے بارے میں آگاہی سیشن رکھا۔ اس میں لڑکیوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ ان کے آس پاس کیا ہورہا ہے؟ کیا وہ اخبار نہیں پڑھتیں؟ کیا انھیں ان واقعات کے بارے میں معلوم تھا؟ والدین پر بھروسہ نہیں ہے کیا؟ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ والدین ان کی شادی کا بندوبست نہیں کریں گے؟ پھر وہ اپنے والدین کی خواہشات کے خلاف شادی کیوں کرتی ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ NITESH RAUT
Image caption صحافی مکتا چیتنیا کا کہنا ہے کہ ’یہ وقت لڑکیوں کو حلف دلوانے کا نہیں بلکہ ان کو بااختیار بنانے کا ہے‘

لیکن ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ ویمنز آرٹس اینڈ کامرس کالج میں دلوائی جانے والی قسم نہ صرف بے معنی ہے بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔

تجرباتی استاد بابوصاحب چاسکر کہتے ہیں کہ 'عہد دلانا محض لفظوں کی بازی گری ہے۔ کالجوں کا کام لڑکیوں کو اچھی تعلیم دینا ہے۔ لیکن بعض اوقات وہ مورل پولیسنگ کرنے لگتے ہیں۔'

بابو صحاب کہتے ہیں: 'تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے مسائل تعلیم کے ذریعے حل کریں۔ نیز حلف دلوانے کے بجائے انتظامیہ کو کاؤنسلنگ کے ذریعے سمجھنا چاہیے کہ طلبہ کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن کوئی ان سے کھل کر بات نہیں کرتا ہے۔ آج بھی اس سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔'

صحافی مکتا چیتنیا کا کہنا ہے کہ ’یہ وقت لڑکیوں کو حلف دلوانے کا نہیں بلکہ ان کو بااختیار بنانے کا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس معاملے پر حلف اٹھانا کوئی حل نہیں ہے۔ قسم کھانا ایک سطحی اقدام ہے۔ درحقیقت اس قسم کا حلف اٹھانا اس لڑکی کو الجھا سکتا ہے جو اچھے انسان سے محبت کرتی ہے۔ اس مسئلے کے بنیادی اسباب کا سامنا کرنا ضروری ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے معاشرے میں لڑکی کی جنسیت کے بارے میں سوچا نہیں جاتا ہے۔ ہم لڑکیوں سے جنسیت پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ لڑکیوں کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات استوار کرکے انہیں مناسب جنسی تعلیم دی جانی چاہیے۔ اگر ان لڑکیوں کو بااختیار بنایا جائے تو وہ اپنے جنسی شعور، رشتوں، اپنے احساسات سے آگاہ ہوں گی اور وہ انھیں بخوبی نبھا سکیں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو اس طرح تعلیم دی جانی چاہیے کہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کے لیے صحیح آدمی کون ہے۔

اسی بارے میں