انڈیا: کئی پرندوں کی تعداد ’تیزی سے زوال پزیر ہے‘

انڈین مور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے قومی پرندے، یعنی مور کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق گدشتہ چند عشروں میں انڈیا میں بہت سے پرندوں کی آبادی میں نہایت تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

’انڈیا میں پرندوں کی صورتِ حال‘ کے عنوان سے جاری کی جانے والی رپورٹ پرندے دیکھنے کے شوقین 15 ہزار ایسے افراد کے جمع کیے ہوئے اعداد وشمار پر مبنی ہے جو گذشتہ کئی برسوں میں ملک میں 867 مختلف اقسام کے پرندوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جن پرندوں کی آبادی میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے ان میں عقاب، گدھ، سریلی آواز میں چہچہانے والے چھوٹے پرندے (واربلرز) اور ساحلی علاقوں میں پائے جانے والے مائگریٹری یا ہجرت کرنے والے پرندے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خلیج بنگال میں سمندری طوفان 'بلبل' سے متعدد ہلاکتیں

برفانی تیندوا معدومی کے خطرے سے باہر؟

کرۂ ارض سے حشرات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں

تاہم، ان برسوں میں انڈیا کے قومی پرندے، یعنی مور کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق پرندوں کی آبادی میں زوال کی دو بڑی وجوہات، شکار اور ان پرندوں کی آماجگاہوں میں کمی ہیںگ تاہم ان دنوں پرندوں کو سب سے زیادہ خطرہ بجلی کی تاروں کے ساتھ ’تصادم‘ سے ہے۔

اپنی قسم کی اس پہلی جامع رپورٹ میں جن دو پیمانوں پر جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں گذشتہ 25 سال میں پرندوں کی تعداد میں کمی اور پھر گذشتہ پانچ برسوں میں کمی شامل ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم ’نیچر کنزرویشن فاؤنڈیشن‘ کے شریک بانی ایم ڈی مدھوسدن کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک تحقیق کے طویل المدتی پہلو کا تعلق ہے تو اس کے لیے صرف 261 اقسام کے پرندوں کے اعداد وشمار دستیاب تھے، جن میں سے 52 فیصد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دوسری جانب، پرندوں کی آبادی کے موجودہ رجحانات کا مطالعہ کرنے کے لیے صرف 146 پرندوں کے اعداد و شمار دستیاب تھے جن میں سے تقریباً 80 فیصد پرندوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔‘

یہ رپورٹ نہ صرف پیشہ ور ’برڈ واچرز‘ کے ایک کروڑ سے زیادہ مشاہدات کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے بلکہ اس میں ان ماہرین کی نہایت باریکی سے لکھی ہوئی تفصیلات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔

پھر ان تمام اعداد و شمار اور معلومات کو ای برڈ eBird میں ڈالا گیا۔ ای برڈ دراصل ایک ڈیٹا بیس ہے جس میں دنیا بھر میں پائے جانے والے مختلف پرندوں کی تازہ ترین صورت حال ریکارڈ کی سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سفید پشت والے گِدھ کی تعداد میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے

وہ پرندے جن کی آبادی میں سب سے زیادہ تیزی سے کمی ہوئی:

  • سفید دم والا گدھ
  • رچرڈز پیپٹ (لوا)
  • انڈین گدھ
  • لبمی چونچ والی پِدی یا واربلر
  • سنہری مرغ باراں یا پلوور
  • کرلیو سینڈپائپر یا ساحلی اور دلدلی علاقوں میں پائی جانے والی چڑیا

وہ اقسام جن کی تعداد میں اضافہ ہوا

  • روزی سٹارلِنگ یا گلابی مینا
  • فیرل پِجن یا جنگلی کبوتر
  • پلین پرینیا یا عام چڑیا
  • ایشی پرینیا یا راکھ کے رنگ کی چڑیا
  • انڈین مور

(ماخذ: سٹیٹ آف انڈیا برڈ)

گذشتہ برسوں میں اگرچہ ملکی سطح پر انڈیا کی مقامی چڑیا کی آبادی کم و بیش مستحکم رہی تاہم بڑے شہروں میں اس کی آبادی میں کمی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ہجرتی پرندوں کی تعداد میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے جو دور دراز علاقوں سے انڈیا آتے ہیں یا برصغیر میں ہی ایک مقام سے دوسرے کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 1990 کے عشرے سے گدھ کی کئی اقسام، تلور اور سبزے والے علاقوں میں پائے جانے والے خاص پرندوں کی تعداد میں بھی بہت تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بڑے شہروں میں عام چڑیا کی آبادی میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کچھ ایسے پرندے جن کی تجارت کی جاتی ہے، جیسے سبز مونیہ وغیرہ، ان کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔

لیکن رپورٹ میں یہ اچھی خبر بھی شامل ہے کہ چھوٹا جنگلی اُلو، جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے، جسے سنہ 1997 میں کافی عرصے کے بعد دوبارہ دیکھا گیا تھا، اب انڈیا میں کئی مقامات پر دکھائی دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس تحقیق میں 867 پرندوں کا مطالعہ کیا گیا

تاہم ماہرین نے رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ چونکہ انہوں نے پرندوں کی صرف خاص اقسام پر تحقیق کی ہے، اس لیے ان کی رپورٹ کو ’انڈیا میں پرندوں کی مجموعی صورت حال‘ سے تعبیر نہ کیا جائے۔

جہاں تک پرندوں کی ’وافر آبادی‘ کے شواہد کا تعلق ہے تو یہ مشاہدات مٹھی بھر پرندوں کے حوالے سے درست ہیں خاص طور صرف ان پرندوں کے بارے میں جن کو معدومیت کا واضح خطرہ ہے۔

چنانچہ انڈیا میں پائے جانے والے پرندوں کی بہت سی اقسام کے حوالے سے اعداد وشمار بہت کم دستیاب ہیں جن سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان پرندوں کی آبادی کی صورت حال کیا ہے۔ ’پرندوں کے تحفظ اور اس کے لیے بنائی جانے والی حمکت عملی کے لیے ان معلومات کا دستیاب ہونا بہت ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں