انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: کیا سرمایہ کاری میلے سے سرینگر خوشحال ہو جائے گا؟

ARIFA
Image caption ہمارے پاس امریکہ اور یورپ سے آرڈر تھے، سب کچھ ختم ہو گیا: تاجر عارفہ جان

گذشتہ برس اگست میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمے سے قبل عارفہ جان دستکاری کی نمایاں ایکسپورٹر کے طور پر اُبھر رہی تھیں۔ لیکن اب صورتحال کچھ مختلف ہو چکی ہے۔

سرینگر میں قائم اپنے پہلے کارخانے کی کامیابی کے بعد عارفہ نے شہر کے کئی علاقوں میں کارخانے لگائے، جہاں درجنوں لڑکیاں روزگار حاصل کرتی تھیں۔ لیکن اب ان کے دیگر کارخانے بند ہوگئے ہیں اور لڑکیاں بے روزگار ہوگئی ہیں۔ گذشتہ روز انھوں نے اپنے بڑے کارخانے کا دروازہ چھ ماہ بعد فقط صفائی کے لیے کھولا ہے۔

عارفہ اب اپنا کاروبار بچانے کی جدوجہد میں ہیں۔ اُن جیسے سیکڑوں نوجوان، جنھوں نے بینکوں سے قرضے لے کر کارخانے لگائے تھے، موجودہ حالات میں مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ان کے کاروبار بند ہونے کی دہلیز تک پہنچ گئے ہیں۔

مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے حکومت نے مئی میں ایک سرمایہ کار میلے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم ان وعدوں کے باوجود لوگ اپنے روزگار کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کشمیر کی معیشت کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان‘

سیاحوں، زائرین کو کشمیر سے نکلنے کا مشورہ

کشمیریوں کے دل و دماغ پر چھائی مایوسی کی چادر

سعودی عرب انڈیا کے قریب کیوں آ رہا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عارفہ نے بتایا کہ ’ہمارے پاس امریکہ اور یورپ سے آرڈر تھے (لیکن اب) سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ حکومت نے غیر مقامی لوگوں سے کہا کہ وادی چھوڑ کر جاؤ (تو) میرے سب کاریگر چلے گئے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کرفیو اور انٹرنیٹ پر پابندی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

کشمیر کے علاقے پلوامہ میں کھنموہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں پانچ سو سے زیادہ کارخانے موجود تھے لیکن اب ان میں سے چند ایک ہی کام کر رہے ہیں۔

Image caption زبیر کے مطابق حکومت کشمیر میں موجودہ صورتحال کو پُرامن تو کہتی ہے لیکن مقامی معیشت کو درپیش مشکلات کا ادراک نہیں کرتی

’ہم آپ کے قرض دار ہیں لیکن بے عزتی نہ کریں‘

ایک کارخانے کے مالک زُبیر احمد کہتے ہیں کہ ’آرٹیکل 370 کے خاتمے سے قبل بھی کئی لوگ قرضہ ادا نہیں کر پاتے تھے لیکن بینکوں نے کبھی جارحانہ طریقہ نہیں اپنایا تھا۔‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ ’اُس وقت گروی رکھی جائیداد کی نیلامی مقامی طور پر ہی ممکن تھی کیونکہ غیر مقامی لوگ خرید نہیں سکتے تھے۔ اب بینک نیلامی کی دھمکی دے کر یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہماری گروی جائیداد کے سوا سو کروڑ خریدار موجود ہیں۔ یہ سراسر ظلم ہے۔‘

زبیر کے مطابق حکومت کشمیر میں موجودہ صورتحال کو پُرامن تو کہتی ہے لیکن مقامی معیشت کو درپیش مشکلات کا ادراک نہیں کرتی۔

واضح رہے تاجروں اور صنعت کاروں نے حالیہ دنوں اخبارات کے پہلے صفحات پر اشتہار کے ذریعے جموں کشمیر بینک سے منت سماجت کی کہ ’ہم آپ کے قرض دار ہیں لیکن بے عزتی نہ کریں۔‘

Image caption ’ہم آپ کے قرض دار ہیں لیکن بے عزتی نہ کریں‘

جموں کشمیر بینک کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وادی میں سیکڑوں قرضے ایسے ہیں جن کی ادائیگی متاثر ہوئی ہے۔

تاجروں اور صنعت کاروں کی انجمن کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حالیہ دنوں ایک سروے کیا جس کے مطابق 5 اگست 2019 کے بعد صرف 120 دنوں کے دوران مقامی معیشت میں 17878 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ اس سروے کو دلی اور سرینگر میں حکام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

سروے کے مطابق گذشتہ سال کی بندشوں نتیجے میں پانچ لاکھ افراد بے روزگار ہوئے جبکہ صرف زراعت اور سیاحت کے شعبے میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد بے روزگار ہوئے تھے۔

سرمایہ کاری میلے سے کشمیر خوشحال ہو جائے گا؟

محکمہ صنعت کے سربراہ محمود شاہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں احساس ہے کہ مقامی معیشت کو مسائل درپیش ہیں۔ لیکن حکومت نے کشمیر کو خوشحال بنانے کے لیے عالمی سطح کا سرمایہ کاری میلہ لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس میلے کے لیے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز موصول ہوئی ہے۔

محمود شاہ کے مطابق اس سرمایہ کاریہ میلے سے ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ تاہم ان وعدوں کے باوجود مقامی تاجر اور صنعت کار اس میلے کے اعلان سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

چیمبر آف کامرس کے جنرل سیکرٹری ناصر حمید خان کہتے ہیں ’یہاں مقامی لوگوں نے جو سرمایہ کاری کی ہے، پہلے اُسے تو بچا لیں۔‘

’لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں، صنعتی کارخانے بند ہو رہے ہیں اور بینک نے تاجروں اور صنعت کاروں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔‘

ناصر حمید خان کے مطابق سرمایہ کاری میلے میں کوئی حرج نہیں ’لیکن جہاں سرمایہ کاری ہونی ہے وہاں کی معاشی صحت تو پہلے ٹھیک کریں۔‘

گذشتہ برس اگست کے آغاز میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے اور متعدد سیاسی رہنماؤں کی قید سے وادی محصور ہوگئی تھی۔ حکومت نے سرمایہ کاری میلہ نومبر میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعد میں کہا گیا تھا کہ اب یہ میلہ مارچ میں ہوگا۔

ایک اور تازہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اب یہ میلہ مئی میں ہوگا۔ ایک سرکاری افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’لیفٹینٹ گورنر خود تیاریوں کی نگرانی کررہے ہیں۔‘

’انھوں نے بنگلور میں روڑ شو کی سربراہی کی تو سینکڑوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز سامنے آئیں۔‘

اس افسر نے امید دلائی ہے کہ ’سب ٹھیک ہوجائے گا، آپ (بس) دیکھتے جائیں۔‘

اسی بارے میں