جب راجیو گاندھی نے سونیا گاندھی کے قریب آنے کے لیے ’رشوت‘ دی

राजीव गांधी, सोनिया गांधी تصویر کے کاپی رائٹ Daniel SIMON/Gamma-Rapho via Getty Images

یہ بات مئی 1981 کی ہے۔ راجیو گاندھی اترپردیش کے انتخابی حلقے امیٹھی سے الیکشن لڑنے والے تھے۔ وہ اپنے انتخابی حلقے کا دورہ کررہے تھے۔

چند گھنٹوں بعد انھیں لکھنو سے دلی کی فلائٹ پکڑنی تھی۔ لیکن تبھی خبر موصول ہوئی کہ امیٹھی سے 20 کلومیٹر دور تیلوئی کے علاقے میں 30 سے 40 جھوپڑ پٹیوں میں آگ لگ گئی ہے۔

انھوں نے لکھنو جانے کے بجائے اپنی کار کا رخ تیلوئی کی طرف موڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

راجیو گاندھی کے قاتل رہا ہوں گے؟

’میرے پاس کوئی راستہ نہیں، میں ویسے بھی مارا جاؤں گا‘

جب اندرا گاندھی کو خون کی 80 بوتلیں لگیں

وہاں پہنچ کر انھوں نے متاثرین کو دلاسا دیا۔ اس درمیان ان کے ساتھی سنجے سنگھ نے ان کے کان میں کہا ’سر آپ کی فلائٹ مس‘ ہوجائے گي۔

اس کے باوجود راجیو گاندھی نے وہاں کے لوگوں سے بات چیت جاری رکھی۔

جب وہ سب لوگوں سے ملاقات کر چکے تو انھوں نے سنجے سنگھ سے پوچھا ’یہاں سے لکھنؤ پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟‘

'دا لوٹس ایئرز- پولیٹکل لائف ان انڈیا ان دا ٹائم آف راجیو گاندھی' کے مصنف اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں کہ ’سنجے سنگھ نے جواب دیا، کم از کم دو گھنٹے۔ لیکن اگر آپ سٹیرنگ سنبھال لیں تو ہم 40 منٹ میں وہاں پہنچ جائیں گے۔

راجیو نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا ان کو اطلاع پہنچا دیجیے کہ ہم 15 منٹ میں اموسی ہوائی اڈے پہنچ جائیں گے۔ راجیو نے کار اس طرح چلائی جیسے خلائی جہاز چلتا ہے اور بہت کم وقت پر ہوائی اڈے پہنچ گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Hachette India

فلائٹ کے دوران پورا نام نہ بتانے کا حکم

لیکن تیزرفتار سے کار چلانے کے شوقین راجیو گاندھی بہت ہی سلیقے اور سوچ سمجھ کر ہوائی جہاز اڑاتے تھے۔ شروع میں وہ ڈکوٹا اڑاتے تھے لیکن اس کے بعد وہ بوئنگ جہاز اڑانے لگے تھے۔

جب وہ پائلٹ کی سیٹ پر ہوتے تھے تو صرف اپنا پہلا نام بتا کر مسافروں سے بات کرتے تھے۔ ان کے کپتانوں کو بھی یہ حکم تھا کہ فلائٹ کے دوران راجیو گاندھی کا پورا نام نہ بتایا جائے۔

اس زمانے میں انھیں پائلٹ کے طور پر پانچ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی جو کہ ایک بہت مناسب تنخواہ مانی جاتی تھی۔

سونیا کے پاس والی کرسی پر بیھٹنے کے لیے رشوت

جب راجیو گاندھی ٹرائپوس کورس کرنے کیمبریج یونیورسٹی پہنچے تو 1965 میں وہاں ان کی ملاقات اٹلی میں پیدا ہوئی سونیا گاندھی سے ہوئی اور انھیں دیکھتے ہی ان سے پیار ہوگیا۔

یہ دونوں کھانا کھانے ایک یونانی ریستوران جایا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Express/Getty Images

اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں ’راجیو نے ریستوران کے مالک چارلس اینٹنی کو منایا کہ وہ انھیں سونیا کی بغل والی سیٹ پر بیٹھنے دیں۔ ایک اچھے تاجر کی طرح چارلس نے ایسے کرنے کے لیے راجیو سے دوگنے پیسے وصول کیے۔‘

بعد میں انھوں نے اداکارہ سمی گریوال کی راجیو گاندھی کی زندگی پر بنائی ہوئی فلم میں کہا کہ 'میں نے پہلے کسی کو کبھی میں اتنی بری طرح عشق میں مبتلا نہیں دیکھا۔‘

جب راجیو کیمبریج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو اپنا خرچ چلانے کے لیے وہ آئسکریم فروخت کرتے تھے اور سونیا سے ملنے کے لیے سائیکل پر جایا کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے پاس ایک پرانی ووکس ویگن جس کے پٹرول کا خرچ ان کے دوست شیئر کرتے تھے۔

نیپکن پر سونیا کے لیے نظم لکھی

راجیو اور سونیا کی کیمبریج میں ملاقاتوں کا ذکر معروف صحافی رشید قدوائی نے سونیا گاندھی کی سوانح عمری میں کیا ہے۔

رشید قدوائی بتاتے ہیں ’یونیورسٹی ریستوران میں روزانہ کیمبرج کے طلبا کی بھیڑ جمع ہوتی تھی۔ وہ سب بیئر پیتے تھے۔ ان میں سے راجیو واحد وہ شخص تھے جو بیئر کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ تبھی سونیا کی نظر اس لمبے، کالی آنکھوں اور خوبصورت مسکان والے معصوم لڑکے پر پڑی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ STEFAN ELLIS/AFP via Getty Images

’دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ راجیو نے پہلی بار ایک نیپکن پر ان کی خوبصورتی کی تعریف میں ایک نظم لکھ کر ایک ویٹر کے ہاتھوں ان تک پہنچائی۔ سونیا تھوڑی نروس ہوئیں لیکن راجیو کے ایک جرمن دوست نے، جو سونیا کو بھی جانتے تھے، ان کی دوستی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

رشید قدوائی مزید بتاتے ہیں ’دلچسپ بات یہ ہے کہ راجیو نے آخر تک سونیا کو یہ نہیں بتایا کہ وہ انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے ہیں۔ بہت دن بعد ایک اخبار میں اندرا گاندھی کی تصویر شائع ہوئی تو انھوں نے سونیا گاندھی کو بتایا کہ وہ ان کی والدہ ہیں۔

’اس کے بعد سونیا کے ساتھ پڑھنے والے ایک طالب علم نے انھیں بتایا کہ اندرا گاندھی انڈیا کی وزیر اعظم ہیں۔ تب جا کر سونیا گاندھی کو علم ہوا کہ وہ کتنے اہم شخص کے ساتھ عشق میں مبتلا ہیں۔‘

محمود اور راجیو گاندھی کی ملاقات

راجیو گاندھی کی امیتابھ بچن سے اس وقت سے دوستی تھی جب وہ چار سال کے تھے۔ امیتابھ بچن ممبئی میں فلم انڈسٹری میں داخل ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو ان دنوں ایک دن راجیو گاندھی ان سے ملاقات کرنے ممبئی پہنچ گئے۔ امیتابھ انھیں مزاحیہ اداکار محمود سے ملاقات کرانے لے گئے۔

رشید قدوائی بتاتے ہیں ’اس زمانے میں محمود کو کمپوز کی گولیاں کھانے کی عادت تھے اور وہ ہمیشہ سرور میں رہتے تھے۔ امیتابھ بچن نے راجیوگاندھی سے ان کا تعارف کروایا لیکن نشے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ کس سے ان کی ملاقات کرائی گئی ہے۔‘

’انہوں نے 5000 روپے نکالے اور اپنے بھائی انور سے کہا کہ اسے راجیو کو دے دیں۔ انور نے پوچھا کہ آپ انھیں پیسے کیوں دے رہے ہیں تو محمود بولے کہ امیتابھ کے ساتھ جو شخص ہیں وہ بہت زیادہ گورے اور سمارٹ ہیں۔ ایک دن وہ ضرور ایک انٹرنیشنل سٹار بنیں گے۔ 5000 روپے میری اگلی فلم کے لیے سائننگ اماؤنٹ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TEKEE TANWAR/AFP via Getty Images

’انور نے قہقہہ لگایا اور راجیو کا دوبارہ تعارف کروایا اور کہا کہ یہ کوئی سٹار وسٹار نہیں ہیں بلکہ اندرا گاندھی کے بیٹے ہیں۔ محمود نے فوراً اپنے 5000 روپے واپس لے لیے اور راجیو سے معافی مانگی۔ مستقبل میں راجیو فلموں کے تو نہ صحیح لیکن سیاست کے بڑے سٹار بنے۔‘

جہاز میں معلوم ہوا کہ اندرا نہیں رہیں

سنجے گاندھی کی ایک فضائی حادثے میں موت کے بعد راجیو گاندھی نے اپنی والدہ کی مدد کے لیے سیاست میں قدم رکھا۔

لیکن کچھ وقت بعد ہی اندرا گاندھی کے سکیورٹی گارڈز نے انھیں ہلاک کر دیا۔ اس وقت راجیو گاندھی مغربی بنگال میں تھے۔ فضائیہ کے جس جہاز سے راجیو گاندھی دلی واپس آئے تھے اس میں بعد میں دلی کی وزیر اعلی بننے والی شیلا دکشت بھی ان کے ساتھ تھیں۔

شیلا دکشت نے بی بی سی کو بتایا ’جیسے ہی جہاز نے پرواز بھری راجیو کاک پٹ میں پائلیٹ کے پاس چلے گئے۔ وہاں سے واپس آنے کے انھوں نے ہمیں جہاز کے پچھلے حصے میں بلا کر بتایا کہ اندرا گاندھی نہیں رہیں۔ پھر انھوں نے ہم سے پوچھا کہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا ہوتا ہے۔‘

’پرنب مکھرجی نے جواب دیا کہ روایت تو یہ ہے کہ جو سب سے سینیئر وزیر ہوتا ہے اسے عبوری وزیراعظم بنایا جاتا ہے اور پھر وزیراعظم کا باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے لیکن میرے سسر اما شنکر دکشت نے کہا وہ عبوری وزیر اعظم بنانے کا خطرہ نہیں اٹھائیں گے اور راجیو گاندھی کو ہی وزیر اعظم بنائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bettmann/Getty Images

پرنب مکھرجی کا مشورہ ان ہی کے خلاف گیا

میں نے شیلا دکشت سے پوچھا تھا کہ کیا پرنب مکھرجی کا یہ مشورہ کہ سب سے سینیئر وزیر کو عبوری وزیر اعظم بنانے کا ذکر خود ان کے خلاف گیا۔

شیلا دکشت نے بتایا تھا ’ہاں تھوڑا بہت تو ان کے خلاف گیا کیونکہ جب راجیو گاندھی نے الیکشن جیتا تو انھیں پرنب مکھرجی کو اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا تھا جبکہ اندرا گاندھی کی کابینہ میں وہ نمبر دو پر ہوا کرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد پرنب مکھرجی نے پارٹی بھی چھوڑ دی۔ اس وقت سب سے سینیئر وزیر وہی ہوا کرتے تھے۔‘

’لیکن میرا نہیں خیال کہ انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنی دعویداری مضبوط کرنے کے لیے وہ صلاح دی تھی۔ وہ صرف پرانی مثالیں دے رہے تھے لیکن ان کے مخالفین نے اس کو بالکل الگ طرح سے راجیو کے سامنے پیش کیا۔‘

مالدیپ کے صدر کو بچایا

وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد راجیو گاندھی نے تکنیک کے شعبے میں بہت کام کیا۔ 18 سال کے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق اور انڈیا کو ایک بڑی علاقائی قوت بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔

اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں کہ ’حلف اٹھاتے ہی انہوں نے تیزی سے فیصلے کرنے شروع کیے چاہے پھر وہ تعلیم کا شعبہ ہو، ماحولیات کا، سیاسی انتظامیہ یا پرکانگریس کے 100 سال پورے ہونے پر ان کی تقریر۔ یہ سب دیکھ اور سن کو لوگوں کو بہت اچھا لگا۔‘

’آج لوگ سرجیکل سٹرائیک کی بات کرتے ہیں،راجیو نے 1988 میں 4000 کلومیٹر دور مالدیپ میں سٹرائیک کیا تھا۔ اس وقت 10 گھنٹے کے نوٹس پر آگرہ سے 3000 فوجی ایئر لفٹ کیے گئے تھے۔ وہاں کے صدر کے خلاف بغاوت چھڑ چکی تھی اور وہ چھپ رہے تھے۔ انھوں نہ صرف اقتدار میں ان کی واپسی کروائی بلکہ ان کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتار بھی کروایا۔‘

نشریات کے شعبے میں ترقی

سیم پترودا کی مدد سے انڈیا میں انفارمیشن کے شعبے میں جو ترقی ہوئی اس میں راجیو گاندھی کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

سیم پترودا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں انھیں بہت پسند کرتا تھا۔ وہ ہم سے بہت محبت سے بات کرتے تھے۔ ہماری بات سمجھتے تھے۔ ان سے ہماری دوستی ہوگئی۔ انہوں نے ہماری مہم کو سیاسی طاقت اور مدد فراہم کی۔ سی ڈاٹ کا خیال ہمارا اور راجیو کا تھا۔ اس کے لیے ہمیں 400 انجینیئر اور جگہ درکار تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ INDRANIL MUKHERJEE/AFP via Getty Images

’ہم نے بنگلورو کا ہائی وے ڈیزائن کرنا شروع اور یہاں دلی میں سافٹ وئیر۔ جہاں یہاں کہيں جگہ نہیں ملی تو راجیو نے ہمیں ایشیاڈ ولیج بھیجا۔ وہ جگہ تو بہت اچھی تھی لیکن وہاں ائیر کنڈیشنگ نہیں تھی۔ اس کے بغیر سافٹ وئیر کا کام تو نہیں ہوسکتا تھا۔ اکبر ہوٹل میں جگہ خالی تھی ہم نے وہاں دو فلور لے لیے۔‘

’وہاں کوئی فرنیچر نہیں تھا۔ اس لیے ہم لوگوں نے چھ ماہ تک پلنگ پر بیٹھ کر کام کیا۔ ہم نے نوجوان لوگوں کی خدمات لیں۔ ان تربیت فراہم کی۔ پھر ہمیں احساس ہوا کہ خواتین بہت کم ہیں تو ہم نے خواتین کو ملازمت دینا شروع کیں۔‘

افسروں سے بہتر فائل ورک

راجیو گاندھی کے ساتھ کام کرنے والے سابق دفاعی سیکریٹری نریش چندرا راجیو کو ایک بہترین مینیجر قرار دیتے ہیں۔

نریش چندرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’راجیو گاندھی نوجوان تھے اور بہت محنتی بھی تھے۔ جو کہ تعجب کی بات تھی۔ وہ فائلوں کو بہت غور سے پڑھتے تھے اور ان کی ڈرافٹنگ افسروں سے بہتر ہوتی تھی۔ میرے خیال اگر وہ دوبارہ اقتدار سنبھالتے تو اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے۔‘

راجیو گاندھی دیر رات تک جاگتے تھے

راجیو گاندھی صبح جلدی اٹھتے تھے اور رات کو دیر تک کام کیا کرتے تھے۔ ایک بار وہ ایک میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے حیدرآباد پہنچے۔ اس وقت این ٹی راما راؤ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی تھے۔

راجیو کے قریبی سمجھے جانے والے اور بعد میں اقلیتی کمیشن کے صدر کا عہدہ سنبھالنے والے وجاہت حبیب اللہ یاد کرتے ہیں کہ ’این ٹی راما راؤ کے ساتھ تیلیگو گنگا کے معاملے پر میٹنگ ہورہی تھی۔ راما راؤ رات کو بہت جلدی تقریبا آٹھ بجے سو جاتے تھے تاکہ وہ صبح تین بجے اٹھ سکیں لیکن یہ میٹنگ رات کو 10 بجے رکھی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Rajkumar/The India Today Group/Getty Images

’اس وقت مرکزی حکومت اور این ٹی راماراؤ کے درمیان اس منصوبے سے متعلق بہت گہرے اختلافات تھے۔ میٹنگ کے وقت این ٹی راما راؤ کے آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھیں۔ جیسے ہی راجیو ان سے پوچھتے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ این ٹی راما راؤ موندی ہوئی آنکھوں سے بولتے 'آئی ڈونٹ ایگری' یہ کہہ کر پھر آنکھیں بند کرلیتے۔‘

’یہ میٹنگ قریب 11 بجے ختم ہوئی۔ تب راجیو گاندھی نے بےحد تہذیب سے راما راؤ سے کہا 'سر اس میٹنگ کے لیے اتنی دیر تک جاگنے کے لیے بہت بہت شکریہ۔‘

راجیو نے اس کے بعد کہا ’ارے ابھی تک کچھ بھی وقت نہیں ہوا ابھی تو مجھے بہت کام کرنا ہے۔ پھر وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔‘

راجیو گاندھی داخلہ سکریٹری کو ان کے گھر تک چھوڑنے پر بضد

اسی طرح کا ایک واقعہ 1985 میں پیش آیا۔ راجیو گاندھی نے داخلہ سیکریرٹی رام پردھان کے گھر دیر رات کو فون ملایا۔ اس وقت پردھان گہری نیند میں تھے۔ ان کی اہلیہ نے فون اٹھایا۔ راجیو بولے ’کیا پردھان جی سو رہے ہیں۔ میں راجیو گاندھی بول رہا ہوں۔‘ ان کی اہلیہ نے فوراً انھیں اٹھا دیا۔ راجیو نے پوچھا ’آپ میرے گھر سے کتنا دور رہتے ہیں؟‘

پردھا نے بتایا بہت زیادہ دور نہیں دو اے بی پنڈارا روڈ پر رہتا ہوں۔ راجیو بولےکہ ’میں کار بھیج رہا ہوں آپ جتنی جلدی ہوسکے یہاں پہنچ جائیے۔‘

اس وقت راجیو کے پاس پنجاب کے گورنر سدھارت شنکر بعض مسودے لے کر آئے ہوئے تھے۔

چونکہ رائے اسی رات واپس چندی گڑھ جانا چاہتے تھے۔ اس لیے راجیو نے داخلہ سیکریٹری کو رات گئے طلب کیا تھا۔ یہ میٹنگ دو گھنٹے جاری رہی۔ رات دو بجے جب باہر آئے تو راجیو نے رام پردھان سے کہا کہ وہ ان کی کار میں بیٹھیں۔ پردھان سمجھے کہ وزیر اعظم انھیں گیٹ تک چھوڑ کر آنا چاہتے ہیں۔

راجیو گاندھی نے گیٹ سے باہر نکل اچانک بائیں طرف گاڑی موڑی اور پردھان سے پوچھا کہ ’میں آپ سے پوچھنا بھول گیا کہ پنڈارہ روڈ کس طرف ہے۔‘

پردھان سمجھ گئے تھے کہ راجیو کرنا کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے راجیو کی گاڑی کا سٹیرنگ پکڑ لیا اور کہا کہ ’سر اگر آپ واپس نہیں مڑیں گے تو میں چلتی ہوئی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گا۔‘

پردھان نے انھیں یاد دلایا کہ انھوں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس طرح کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ بڑی مشکل سے راجیو گاندھی نے کار روکی اور جب تک پردھان دوسری کار میں نہیں بیٹھ گئے وہیں کھڑے رہے۔

لکشدیپ میں زخمی وہیل کو بچایا

کچھ وقت راجیو ایک میٹنگ کے لیے لکشدیپ گئے جہاں وجاہت جبیب اللہ بھی موجود تھے۔

حبیب اللہ یاد کرتے ہیں کہ ’راجیو ہیلی پیڈ کر طرف جارہے تھے۔ ہم ان کے ساتھ جیپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تبھی کسی نے اشارہ کیا کہ وہاں کچھ وہیل پانی میں پھنس گئی ہیں۔ وہیل پانی کے بہاؤ کے ساتھ آ تو گئیں لیکن واپس نہیں جا رہی تھیں اور وہیں چھپ چھپ کر رہی تھیں۔‘

’راجیو نے گاڑی روکوائی اور اپنے جوتے اور پتلون ہنے پہنے ہی پانی میں اترگئے۔ وہ سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ میں بھی راجیو کے پیچھے بھاگا۔ ان کے ساتھ اور لوگ بھی پانی میں پہنچ گئے۔ انہوں نے سب کی مدد سے وہیل کو اٹھایا اور اسے واپس اس جگہ چھوڑ دیا جہاں زیادہ پانی تھا۔‘

بوفورس میں نام آنے سے سب سے زیادہ نقصان

راجیو گاندھی کا پہلا غلط قدم شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیا قانون بنانا تھا۔ بوفورس معاملے میں ان کا نام منظر عام پر آنے پر ان کی اتنی بدنامی ہوئی ہ وہ 1989 کا الیکشن ہار گئے۔

اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں کہ ’جھوٹ کی سیاست بوفورس سے شروع ہوئی تھی۔ ان انتخابات میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بہت بڑا جھوٹ بولا تھا۔ ایک انتخابی ریلی میں انھوں نے اپنے کرتے کی جیب سے ایک پرچا نکال کر ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ اس پر راجیو گاندھی کے سوئس بینک کے اکاؤنٹ کا نمبر ہے جس میں بوفورس سودے میں کی گئی دلالی سے جو رقم ملی تھی وہ جمع ہے۔ انہوں نے اس نمبر کو پڑھنے کا ڈرامہ کیا لیکن پھر وہ رک گئے۔‘

’اس وقت انڈیا کے عوام کو وشوناتھ پرتاپ سنگھ پر اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے ان کی بات پر یقین کرلیا کہ وہ جو کہ رہے ہیں صحیح کہ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ گلی گلی میں یہ نعرہ عام ہوگیا کہ راجیو گاندھی چور ہے۔ آج تک کسی کو یہ نہیں معلوم کہ حقیقت کیا ہے۔ بوفورس معاملے میں کیا حقیقت سامنے آئی؟‘

’عدالت نے سب کو رہا کر دیا۔ آج تک یہ نہیں ثابت ہوسکا کہ کس نے رقم لی اور کس کو دی یا نہیں دی۔ جو خراب توپ خریدنے کا الزم وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے عائد کیا تھا وہ پوری طرح کارگل کی جنگ میں خارج ہو گیا کیونکہ کارگل کی جنگ کی فتح میں بوفورس کی توپوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔‘

اسی بارے میں