انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر خاتون گرفتار

انڈیا میں 'پاکستان زندہ باد' کہنے پر خاتون گرفتار تصویر کے کاپی رائٹ ANI

انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں ایک مظاہرے کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر ایک خاتون کو گرفتار کر کے ان پر غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

آمولیا لیونا نامی یہ خاتون انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ایک مظاہرے ہیں حصہ لے رہی تھیں۔ اس قانون کے ناقدین کے مطابق اس کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔

تاہم اس مظاہرے میں موجود معروف مسلمان سیاسی رہنما اسد الدین اویسی نے اس خاتون کے بیان کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مسٹر خان آپ اپنے ملک کی فکر کریں‘

’اللہ اکبر‘ اور ’جے شری رام‘ سے شروع ہونے والی بحث

امریکی کمیشن: انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتحال ’پریشان کن‘

انڈیا: یہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیا ہیں؟

10 جنوری کو انڈیا میں شہریت کا قانون (سی اے اے) نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت انڈیا کے ہمسائے ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیر مسلم افراد کی شہریت کی درخواستوں پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کے مطابق سی اے اے اس لیے نافذ کیا گیا تاکہ غیر مسلم اقلیتیں، جو اپنے ملک چھوڑ رہی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ اُن ممالک میں مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے، تحفظ حاصل کر سکیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق مذہب کی بنیاد پر انڈیا کی شہریت دینا غلط ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران اس قانون کے خلاف انڈیا بھر میں کافی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پاکستان زندہ باد‘ پر ردعمل

اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آمولیا لیونا اور ان کے خاندان کو صارفین کی طرف سے کافی غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کے والد نے شکایت کی ہے کہ لوگوں کا ایک گروہ ان کے گھر آیا اور انھوں نے ان سے زبردستی ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگوائے۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی طرف سے انھیں سننا پڑا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی صحیح پرورش نہیں کی ہے اور انھیں دھمکی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی ضمانت نہ کرائیں۔ اس واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

ضلعی پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خاتون کے والد کی طرف سے دائر کردہ شکایت کی تحقیقات جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2019 میں اپنی حلف بردای کے دوران اسد الدین اویسی نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے تھے

مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے مظاہرے کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والوں سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ: ’ہم کسی بھی صورت اپنے دشمن ملک پاکستان کی حمایت نہیں کرتے۔‘

’میں نے اور میری جماعت نے کبھی ایسے رویوں کی حمایت نہیں کی۔‘

انڈیا میں اکثر مسلمان سیاستدانوں کو سیاسی حریفوں کی جانب سے ’پاکستان کے حمایتی‘ قرار دیا جاتا ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ آمولیا لیونا کو آئندہ 14 دنوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں شہریت کا متنازع قانون (سی اے اے) کیا ہے؟

شہریت کے ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کی ملک گیر پیمانے پر مخالفت ہو رہی ہے اور اس حوالے سے اعتراض یہ ہے کہ یہ آئین کے خلاف ہے اور آنے والے دنوں میں اس سے سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوں گے۔

شہریت کا ترمیمی قانون 2019 دراصل 64 سال پرانے شہریت کے قانون میں ایک ترمیم ہے۔

یہ قانون انڈیا کے تین پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر انڈیا آنے والی چھ مذہبی اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، سکھ، پارسی اور مسیحی) کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے۔ اب انھیں انڈیا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے ملک میں چھ سال تک رہنا یا کام کرنا ہوگا۔ یہ مدت پہلے 11 سال ہوا کرتی تھی۔

حکومت کے مطابق اس قانون سے مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کے متاثرین کو حفاظت مل سکے گی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کا نہ شامل کیا جانا جانبداری کا مظہر ہے اور یہ کہ تین ممالک کو ہی شامل کیا جانا منطقی نہیں ہے۔

اسی بارے میں