صدر ٹرمپ انڈیا کے دورے سے کیا حاصل کریں گے؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگلے ہفتے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا کا اپنا پہلا سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں اور اس موقعے پر انڈیا انھیں متاثر کرنے کی بھرپور تیاریاں کر رہا ہے۔

اس ضمن میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ امریکی صدر کو خوش آمدید کہنے سڑکوں پر آئیں گے۔

صدر ٹرمپ وہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موجودگی میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ گراؤنڈ کا افتتاح کریں گے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس تین گھنٹے کی تقریب کی لاگت 13 ملین ڈالرز آئے گی۔

واضح رہے ٹرمپ کا انڈیا کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ملک کی معیشت کمزور اور ملک میں بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

وزیراعظم مودی کو مسئلہ کشمیر اور شہریت کے متنازع قانون پر خارجی اور داخلی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی آمد سے پہلے کچی بستی کو ’چھپانے کے لیے دیوار‘

مودی کا امریکہ میں جلسہ، ٹرمپ کی موجودگی انڈیا کی اہمیت کی دلیل

صدر ٹرمپ کی وزیراعظم مودی کو امریکہ کے دورے کی دعوت

امریکہ میں قائم تھنک ٹینک بروکنگز کی انڈیا پراجیکٹس کی ڈائریکٹر، تانوی مدن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا انڈیا آنا مودی کے لیے ’سیاسی طور پر کامیابی اور خوشخبری ہو گی۔‘

’عام طور پر دنیا کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے رہنما کے ساتھ مودی تصاویر میں دکھائی دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ اپنے دورہ انڈیا کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کی موجودگی میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ گراؤنڈ کا افتتاح کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس بات کا اعادہ ہے کہ انڈیا ٹرمپ انتظامیہ کی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کی عدم موجودگی میں یہ تشویش پائی جاتی کہ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔

لیکن ایک سوال جو سب کے ذہن میں ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس دورے سے کیا حاصل ہو گا؟ صدر ٹرمپ جو طویل سفر کرنا پسند نہیں کرتے، وہ امریکہ سے انڈیا تک سفر کر کے کیوں آئیں گے جبکہ اس وقت خود انھیں اپنے ملک میں داخلی مسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔

انڈین نژاد امریکی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش؟

بہت سے لوگ صدر ٹرمپ کے اس دورے کو ایک ایسے ملک جانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں شاید انھیں سخت سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ انڈیا کا دورہ صدر ٹرمپ نے اپنے داخلی امور کو زیر غور رکھ کر کیا ہے اور اس کا مقصد جزوی طور پر انتخابات میں انڈین نژاد امریکی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ یہ قدرے خوشحال برادری روایتی طور پر بڑے پیمانے پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دیتی رہی ہے۔

نیشنل ایشین امریکن سروے کے مطابق سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں صرف 16 فیصد انڈین نژاد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔

یہ سروے کرنے والے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پبلک پالیسی کے پروفیسر کارتھک رماکرشنا کہتے ہیں ’انڈین نژاد امریکی ٹیکسوں میں کمی اور حکومت کو چھوٹا بنانے پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ معاشرتی بہبود کے لیے اخراجات کرنے کے حق میں ہیں۔‘

ایک خیال یہ ہے کہ گذشتہ برس امریکی شہر ہیوسٹن کے ’ہاؤڈی مودی‘ ایونٹ نے اس برادری کے ایک حصے کو اپنے خیالات تبدیل کرنے میں تقویت بخشی ہے۔

تانوی مدن کہتی ہیں کہ ’صدر ٹرمپ کے انڈیا کے دورے کے مناظر کو ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں استعمال کر کے یہ ظاہر کریں گے کہ انھیں دنیا بھر میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔‘

’اور یہ کہ انھوں نے امریکہ کو عظیم اور باعزت ملک بنا دیا ہے، خصوصاً ایسے میں جب چند رائے شماری کے جائزوں میں یہ کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کے وقار میں کمی آئی ہے۔‘

راماکرشنا کا انڈین نژاد امریکی ووٹرز پر مرتب ہونے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انڈیا کا دورہ صدر ٹرمپ کو قلیل مدتی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور 16 فیصد کے اعداد و شمار 20-25 فیصد حمایت تک جا سکتے ہیں لیکن پچاس فیصد تک نہیں حاصل ہو سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قدامت پسند تھنک ٹینک دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے جنوبی ایشیا کے ایک محقق جیف سمتھ اس دورے کو ’خارجہ پالیسی کے اقدام‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تجارتی معاہدہ

امریکہ اور انڈیا کی دو طرفہ تجارت کا حجم 160 بلین ڈالرز ہے۔ ماضی قریب میں توقع کی جا رہی تھی کہ انڈیا کے ساتھ چند ماہ کے مذاکرات کے بعد ہی ہونے والا تجارتی معاہدہ اس دورے کا مرکز ہو گا۔ صدر کی انتخابی مہم کے لیے یہ ایک اور تصویری لمحہ ہوسکتا تھا۔

مگر اس تجارتی معاہدے کی امیدیں اب ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ امریکہ کو بڑھتے ہوئے نرخوں، طبی آلات پر قیمتوں پر قابو پانے اور ای کامرس اور ڈیٹا لوکلائزیشن جیسے معاملات پر انڈیا کے موقف پر خدشات ہیں۔

انڈیا جنرلرائز سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) پروگرام کے تحت تجارتی مراعات کی بحالی چاہتا ہے۔ ہنرمند کارکنوں کی نقل مکانی اور ویزا نظام پر بھی انڈیا کو تشویش لاحق ہے۔

یو ایس انڈیا بزنس کی صدر نشا بسوال کا کہنا ہے کہ ’یہاں تک کہ ایک محدود معاہدہ دونوں ممالک میں صنعت کے لیے ایک اہم اشارہ ہوگا کہ امریکہ اور انڈیا بڑھتی ہوئی تجارت کے لیے سنجیدہ ہیں اور وہ معاملات حل کرسکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’لیکن میں اس بارے میں پُرامید نہیں ہوں جس کی وجہ وہ خبریں ہیں جو میں دونوں حکومتوں سے سن رہی ہوں۔‘

چین کا کردار

امریکی صدر ٹرمپ چین پر سخت موقف اپناتے رہے ہیں۔ چین سے متعلق امریکہ کے بہت سارے خدشات ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، بحیرہ جنوبی چین تک رسائی، ناقابل اعتماد وینڈرز جیسے مسائل انڈیا اور امریکہ کے مشترکہ ہیں۔

تانوی مدن کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ دورہ چین کے بارے میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک یکجہتی کے بغیر ہوتا، خاص طور پر اس خطے میں چینی اقدامات اور ارادوں کے بارے میں ان ممالک کی تشویش زیر غور آئے گی۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو چین اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تجارتی بحران کے حوالے سے خدشات ہیں کیونکہ وہ اس سے معاشی طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ یا پھر دونوں کی بہت زیادہ قربت سے انڈیا کا کردار کم ہوجائے گا۔

اس کے بدلے میں امریکہ کے سوالات ہیں کہ کیا سٹریٹجک خود مختاری کی انڈیا کی جدوجہد امریکہ کے ساتھ حقیقی سٹریٹجک شراکت داری کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دیگر سوالات بھی گردش کر رہے ہیں کہ کیا انڈیا ایشیا میں چین کے مقابلہ میں اپنا وزن بڑھا سکتا ہے یا اسے داخلی اور ذیلی علاقائی سیاست کے مسائل لے ڈوبے گیں؟

دفاعی تعاون

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے انڈیا کے دورے کے موقع پر اربوں ڈالرز کے اہم دفاعی معاہدے بھی ہونے جا رہے ہیں۔

ان معاہدوں میں انڈین بحریہ کے لیے ہیلی کاپٹروں کی فروخت شامل ہوسکتی ہے۔ اس دورے کی تیاری کے دوران امریکی محکمہ خارجہ نے1.867 بلین ڈالرز کے ایک مربوط فضائی دفاعی نظام کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی۔

تانوی مدن کہتی ہیں کہ ’انڈیا اور امریکہ سٹرٹیجک وجوہات کے باعث بہت قریب ہیں، یہاں تک کے ٹرمپ کے دور صدارت میں بھی آپ نے سفارتی اور دفاعی مذاکرات دیکھے ہیں۔‘

ٹرمپ اور مودی کی دوستی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیراعظم مودی کی گذشتہ آٹھ ماہ میں پانچویں ملاقات ہو گی۔ وہ ایک دوسرے کو اپنا ’دوست‘ کہتے ہیں۔ ان کے ایک دوسرے کو گلے لگانے کی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے دورے سے چند دن قبل نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’انڈیا ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا لیکن میں وزیراعظم مودی کو بہت پسند کرتا ہوں۔‘

ان کے ذاتی تعلق کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ بروکنگز کے ایک حالیہ پروگرام میں وزیراعظم مودی کے سٹریٹجک ایڈوائزری ایشیا گروپ کے چیئرمین اور سی ای او ڈاکٹر کرٹ کیمبل کا کہنا تھا کہ ’میں کسی دوسرے رہنما کو نہیں جانتا جس کے صدر اوباما اور صدر ٹرمپ دونوں کے ساتھ بہترین تعلقات رہے ہوں۔‘

’حقیقت یہ ہے کہ مودی اور ان کی ٹیم نے انتہائی مؤثر طریقے سے اس حد تک رشتہ قائم کیا ہے کہ میرے خیال میں دونوں رہنما یہ ہی کہیں گے نہیں وہ مجھے سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انڈیا کی سٹریٹجک سفارتکاری اور ذاتی جہت کی تفہیم کی حقیقی نشانی ہے۔‘

کچھ ایسے معاملات بھی ہیں جہاں ان دونوں ممالک میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ انڈیا کے ایران کے ساتھ تعلقات اور روس کے ساتھ دفاعی شراکت داری۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر جوشوا وائٹ کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہیں لگتا کہ اس دورے کو کسی واضح مقاصد کے حصول کے لیے مرتب کیا گیا ہو۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس دورے سے کیا حاصل ہوتا ہے۔‘

’میرے خیال میں یہ ہے کہ صدر ٹرمپ زیادہ تر فیصلے جلد بازی اور جذبات میں کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے بعد بیوروکریسی یہ پتا لگائے گی کہ اس دورے سے پالیسی کے محاذ پر کیا حاصل کیا جاسکتا ہے۔‘

اسی بارے میں