ٹرمپ کے دورۂ تاج محل کے موقع پر علاقے میں لنگور کیوں تعینات کیے جا رہے ہیں؟

تاج محل تصویر کے کاپی رائٹ SAMIRATMAJ MISHRA/BBC

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر انڈیا سوموار کو پہنچ رہے ہیں اور اس دوران وہ دہلی سے دو گھنٹے کی مسافت پر موجود محبت کی یادگار اور مغل فن تعمیر کا نمونہ تاج محل بھی دیکھنے جائیں گے۔

ان کی آمد سے قبل آگرہ میں کئی دنوں سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انسان تو انسان وہاں جانوروں سے بھی حفاظت کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے کیونکہ تاج محل کے آس پاس اکثر بندر سیاحوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

بندروں کو وہاں سے بھگانے کے لیے آگرہ میں لنگوروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔ پولیس انتظامیہ نے اس کے لیے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے مدد لی ہے۔

تاہم کسی بھی عہدیدار نے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی کہ لنگوروں کو کہاں تعینات کیا گیا ہے اور وہ کیسے کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی آمد سے پہلے کچی بستی کو ’چھپانے کے لیے دیوار‘

’ٹرمپ دورہ انڈیا میں مذہبی آزادی پر بات کریں گے‘

'تھینک يو انڈیا، میں پھر آؤں گا'

تاج محل کے آس پاس چوپایوں اور کتوں کی بھی کثرت ہے۔ انھیں وہاں سے ہٹانا انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ہے لیکن فی الحال اس کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔

ایک افسر نے یہ کہتے ہوئے راحت کا سانس لیا کہ 'اتوار کے روز سے نہ تو کوئی مویشی تاج کی طرف آیا تھا اور نہ ہی کوئی کتا ادھر بھٹکا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ SAMIRATMAJ MISHRA/BBC

صدر ٹرمپ کے آگرے کے دورے کو کامیاب بنانے کے لیے کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے جہاں راستوں کو پھولوں کے گملوں سے سجایا گیا ہے وہیں دریائے جمنا میں کئی دریاؤں کا پانی موڑا گیا ہے تاکہ تاج سے دریا کا دلکش منظر نظر آئے، پانی صاف نظر آئے اور بدبو نہ ہو۔

تاج محل کے مشرقی دروازے سے لے کر دریائے جمنا کی طرف صاف صفائی کا خاص خیال رکھا گیا ہے لیکن بدبو سے چھٹکارے کا دعوی بے معنی نظر آتا ہے۔

مقامی رہائشی یشپال سنگھ کا کہنا ہے کہ 'دریا میں پانی ڈالا گیا تھا، لیکن جمنا میں صاف پانی نظر نہیں آرہا ہے۔ جمنا کے کنارے پانی کا رنگ اتنا ہی سیاہ ہے جتنا ایک ہفتہ پہلے تھا۔'

ضلع آگرہ میں تعینات پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار کسی بھی طرح ٹرمپ کے پروگرام کو بحسن و خوبی اختتام پزیر ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک جانب اگر آگرہ کے باشندے خوش ہیں کہ امریکی صدر کے شہر آنے سے شہر میں کچھ صاف صفائی ہو رہی ہے تو دوسری طرف سیاحوں میں مایوسی ہے کہ وہ سوموار کو تاج محل نہیں دیکھ پائیں گے۔

نہ صرف تاج کے گرد اور ٹرمپ کے راستے پر بلکہ پورے آگرہ شہر میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMIRATMAJ MISHRA/BBC

ٹرمپ شام تقریبا پانچ بجے آگرہ پہنچيں گے اور پھر چھ بجے کے بعد وہ تاج محل کی سیر کو جائیں گے۔

آگرہ کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار نے بی بی سی کو بتایا: 'امریکی صدر کے دورے کے پیش نظر اس علاقے کو دس زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور تاج محل کے آس پاس کے علاقے میں پولیس فورس کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے جس میں 55 ڈپٹی ایس پی، 125 انسپکٹر، 350 سب انسپکٹر، 3000 کانسٹیبل، 10 کمپنی پی اے سی اور ایک کمپنی ریزرو پولیس تعینات ہوگی۔'

اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی سادہ وردی میں تعینات ہو گی جو لوگوں پر نگاہ رکھیں گے۔

تاج محل کے آس پاس کے علاقوں میں شاید ہی کوئی گلی یا سڑک ایسی ہے جہاں سکیورٹی اہلکار تعینات نہ ہوں۔

اس کے علاوہ وی آئی پی روڈ اور تاج محل کو جانے والی دیگر سڑکوں کے پہلو میں بھی ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ کوئی بھی سڑک پر نہ آ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMIRATMAJ MISHRA/BBC

وی آئی پی روڈ پر پیٹھے (مربے) کی دکان کے مالک روی شنکر کا کہنا ہے کہ 'ہم پچھلے پندرہ دن سے ٹرمپ کے استقبال کی وجہ سے مندی کا سامنا کر رہے ہیں۔ 24 فروری کو دکانیں بند کرنے کو کہا گیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی دکانوں کے بورڈ ہٹوا دیے گئے ہیں۔ یہ دیا گیا ہے۔ شیشے کے باہر اخبار چسپاں کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ باہر سے یہ پتا نہ چلے کہ ہم کیا فروخت کر رہے ہیں۔'

شہر کے پوش علاقے مال روڈ پر دیر شام تک سڑکیں دھوئی جا رہی تھیں۔ چوراہوں پر انڈیا اور امریکہ کے پرچم لگائے گئے ہیں اور ہر چوراہے پر درجن بھر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: 'ڈیوٹی پر موجود ہر سکیورٹی اہلکار کو پاسز دیئے گئے ہیں اور یہ پاس صرف اس مخصوص جگہ کے لیے ہے جہاں ان کی ڈیوٹی ہے۔ پولیس والے بھی اپنی مرضی سے کہیں آ جا نہیں سکتے۔

پولیس آفیسر (تاج سکیورٹی) محسن خان نے بی بی سی کو بتایا: 'یہاں بہت ساری فورس باہر سے آئی ہیں۔ آس پاس کے لوگوں کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ انھیں کس طرح رہنا ہے۔ ہر ہوٹل، ریستوراں، گھر گھر پولیس کی رسائی ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ کسی بھی طرح سے سیاحوں کو تکلیف نہ ہو۔ 24 فروری کو صبح کے بارہ بجے کے بعد تاج محل کمپلیکس خالی کرا لیا جائے گا اور اس کے بعد وہاں کوئی سیاح نہیں جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMIRATMAJ MISHRA/BBC

تاج محل کے قریب واقع آگرہ کے کھیریا ایئرپورٹ سے لے کر ہوٹل امر ولاس پیلس تک مجموعی طور پر 21 سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں مختلف مقامات پر تقریبا تین ہزار فنکار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

اس دوران سارے راستے پر خوش آمدید کرنے کے لیے صرف وہی لوگ موجود ہوں گے جنھیں مدعو کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں