امریکہ، افغان طالبان امن معاہدہ: ’افغان سرزمین امریکہ سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی‘

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق امریکہ سے معاہدے کے نتیجے میں اعتماد سازی کے لیے اقدامات کے علاوہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکالے گا اور طالبان یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ تشدد کے واقعات میں کمی یا روک تھام کا مقصد ایسا ماحول قائم کرنا تھا جس کے بعد معاہدے پر دستخط ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ 22 فروری سے تشدد کے واقعات روکنے کا وقت شروع ہو چکا ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

سہیل شاہین کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں جانب سے اعتماد سازی کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ قطر کے شہر دوحا میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے پر دستحظ 29 فروری کو ہونے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اس معاہدے کو ایک امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے اس خطے میں امن قائم ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہونے لگا ہے؟

طالبان کے ساتھ امن معاہدہ 29 فروری کو: مائیک پومپیو

طالبان امریکہ معاہدے سے قبل شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

قیدیوں کا تبادلہ

سہیل شاہین نے بتایا کہ 29 فروری کو معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ امریکہ ان کے قیدیوں کو رہا کرے گا اور طالبان کی تحویل میں جو لوگ ہیں انھیں بھی رہا کیا جائِے گا۔

ان قیدیوں کی تعداد کیا ہے یا کتنے افغان طالبان امریکہ کی حراست میں ہیں اور کتنے افراد طالبان کی تحویل میں ہیں، یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

امریکہ طالبان مذاکرات کے دوران ایسی خبریں ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ ہزاروں افغان طالبان امریکہ کی حراست میں ہیں، جنھیں معاہدہ ہونے کے بعد رہا کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی کانفرنس

سہیل شاہین کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔

’ان بین الاقوامی مذاکرات میں افغانستان میں آئین اور اداروں کے بارے میں بات ہو گی، ان میں سکیورٹی اداروں کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر موضوع اور ہر مسئلے پر بات چیت کی جائے گی اور پھر رضا مندی سے اس بارے میں فیصلے کیے جائیں گے۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کو اُمید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے لیکن اس معاہدے کے نتیجے میں امن کے قیام کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان کو تنہا نہ چھوڑ دیا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کے نتائج افغانستان اور اس علاقے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی فوجوں کا انخلا

افغان طالبان کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی فوجیں اپنے وطن واپس آجائیں۔

سہیل شاہین نے بتایا کہ اس معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ افغانستان سے اپنی فوجوں کو بتدریج نکالے گا اور یہ سب کچھ ایک باقاعدہ ٹائم فریم کے تحت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ اس بارے میں ایک ٹائم ٹیبل کا اعلان کرے گا، جس کے تحت افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ افغانستان سے تمام فوجوں کو بتدریج نکالے گا یا کچھ وقت کے لیے امریکی فوجیوں کی ایک خاص تعداد افغانستان میں قیام کرے گی۔ اس بارے میں تفصیلات معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سامنے آ سکیں گی۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق افغانستان میں اس وقت 13 ہزار امریکی فوجی ہیں جبکہ سنہ 2018 تک یہ تعداد 15 ہزار تھی۔

گذشتہ برس کے آخر میں جب امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا تو ان دنوں لگ بھگ دو ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا گیا تھا۔

افغان سرزمین

افغانستان سے جب امریکی فوجیوں کے انخلا پر کام شروع ہوگا تو افغان طالبان کو بھی یقین دہانی کرانا ہوں گی۔

سہیل شاہین کے مطابق وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں جب 9/11 کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور دیگر رہنما افغانستان میں موجود ہیں اور افغانستان سے ہی امریکہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اسی تناظر میں سنہ 2001 میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد القاعدہ کو محفوظ مقام سے نکالنا اور افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ تھا۔

افغانستان میں یہ دوسرا بڑا تاریخی معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سنہ 1988 میں بھی ایسے ہی ایک معاہدے کے تحت سوویت یونین نے اپنی افواج افغانستان سے واپس بلا لی تھیں۔ اس وقت کے سوویت یونین اور اب روس نے فوجی انخلا کو سنہ 1989 میں مکمل کر لیا تھا۔

سوویت یونین نے افغانستان پر 1979 میں حملہ کیا تھا جس کے بعد سے افغانستان میں جنگ شروع ہوئی۔

ان چالیس برسوں میں افغانستان میں جنگ کا ماحول رہا ہے۔ سوویت فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں مجاہدین کے درمیان تشدد کے واقعات شروع ہو گئے تھے جس سے ملک میں بدامنی رہی۔

سنہ 1995 میں طالبان ایک مضبوط قوت کے طور پر سامنے آئے اور افغانستان کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی تھی اورپھر سنہ 2001 میں امریکی افواج کے حملے میں طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں