#TrumpInIndia: ٹرمپ نے مودی کے سامنے پاکستان کی بات کیوں کی

صدر ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور وزیر اعظم مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ان کی حکومت پاکستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ وہ پیر کو احمد آباد پہنچے۔ انہوں نے احمد آباد کے موتیرا سٹیڈیم میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کا بھی ذکر کیا۔

پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا حق ہر ملک کو حاصل ہے۔ امریکہ اور انڈیا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مل کر 'دہشت گردی' کو روکیں گے اور ان کے نظریہ کا مقابلہ کریں گے۔ اسی وجہ سے ، صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ 'دہشت گرد' تنظیموں اور سرگرم انتہا پسندوں کو پاکستانی سرحدوں سے ختم کیا جاسکے۔ '

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ان کوششوں کی بنیاد پر ہم پاکستان کے ساتھ بڑی کامیابی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے مابین تناؤ میں کمی آئے گی، استحکام میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں ایک دوسرے کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔‘

انڈیا کا کردار

ٹرمپ نے خطے میں امن کے معاملے میں انڈیا کے بڑے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کو خطے کے بہتر مستقبل کے لئے نمایاں قیادت کرنی ہوگی۔‘ بھارت کو اس پورے خطے میں مسائل کو حل کرنے اور امن کے فروغ کے لئے مزید ذمہ داری لینی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کہی

ٹرمپ کے ان بیانات کا کیا مطلب ہے؟

بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش پنت نے بتایا کہ ٹرمپ دو باتیں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انڈیا کے لوگوں کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں اسلامی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو یہ اشارہ بھی کیا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے، پاکستان ان کی ترجیح ہے۔

ہرش کے مطابق ٹرمپ کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج امریکی انتخابات سے قبل امریکی فوج کو افغانستان سے وطن واپس لانا ہے تاکہ وہ امریکی ووٹروں کو بتا سکیں کہ دیکھو ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کو افغانستان اور عراق سے واپس بلا لیں گے۔

29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے مابین اس بارے میں معاہدے کا امکان ہے.

امریکی فوج کی واپسی

ٹرمپ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر، طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، لہذا پاکستان ان کے لئے اہم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہرش پنت کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ساتھ مل کر انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ ہو لیکن ٹرمپ کے لئے افغانستان سب سے اہم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرے۔

تاہم ، ٹرمپ پاکستان نہیں جا رہے ہیں۔ پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب بھی امریکی صدر اس علاقے کا دورہ کرتے تھے تو وہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے دورے کیا کرتے تھے۔ لیکن براک اوباما کے بعد ایسا ہونا شروع ہوگیا کہ اگر امریکی صدر انڈیا آئے تو، وہ پاکستان نہیں گئے تھے۔