#TrumpInIndia: ٹرمپ نے مودی کے سامنے پاکستان کی بات کیوں کی

صدر ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور وزیر اعظم مودی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ان کی حکومت پاکستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ وہ پیر کو احمد آباد پہنچے۔ انہوں نے احمد آباد کے موتیرا سٹیڈیم میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کا بھی ذکر کیا۔

پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا حق ہر ملک کو حاصل ہے۔ امریکہ اور انڈیا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مل کر 'دہشت گردی' کو روکیں گے اور ان کے نظریہ کا مقابلہ کریں گے۔ اسی وجہ سے ، صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ 'دہشت گرد' تنظیموں اور سرگرم انتہا پسندوں کو پاکستانی سرحدوں سے ختم کیا جاسکے۔ '

یہ بھی پڑھیے

کیا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش آرٹیکل 370 کے خاتمے کی وجہ بنی؟

’ٹرمپ دورہ انڈیا میں مذہبی آزادی پر بات کریں گے‘

صدر ٹرمپ انڈیا کے دورے سے کیا حاصل کریں گے؟

ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ان کوششوں کی بنیاد پر ہم پاکستان کے ساتھ بڑی کامیابی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے مابین تناؤ میں کمی آئے گی، استحکام میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں ایک دوسرے کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔‘

انڈیا کا کردار

ٹرمپ نے خطے میں امن کے معاملے میں انڈیا کے بڑے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کو خطے کے بہتر مستقبل کے لئے نمایاں قیادت کرنی ہوگی۔‘ بھارت کو اس پورے خطے میں مسائل کو حل کرنے اور امن کے فروغ کے لئے مزید ذمہ داری لینی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کہی

ٹرمپ کے ان بیانات کا کیا مطلب ہے؟

بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش پنت نے بتایا کہ ٹرمپ دو باتیں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انڈیا کے لوگوں کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں اسلامی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو یہ اشارہ بھی کیا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے، پاکستان ان کی ترجیح ہے۔

ہرش کے مطابق ٹرمپ کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج امریکی انتخابات سے قبل امریکی فوج کو افغانستان سے وطن واپس لانا ہے تاکہ وہ امریکی ووٹروں کو بتا سکیں کہ دیکھو ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کو افغانستان اور عراق سے واپس بلا لیں گے۔

29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے مابین اس بارے میں معاہدے کا امکان ہے.

امریکی فوج کی واپسی

ٹرمپ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر، طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، لہذا پاکستان ان کے لئے اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہرش پنت کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ساتھ مل کر انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ ہو لیکن ٹرمپ کے لئے افغانستان سب سے اہم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرے۔

تاہم ، ٹرمپ پاکستان نہیں جا رہے ہیں۔ پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب بھی امریکی صدر اس علاقے کا دورہ کرتے تھے تو وہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے دورے کیا کرتے تھے۔ لیکن براک اوباما کے بعد ایسا ہونا شروع ہوگیا کہ اگر امریکی صدر انڈیا آئے تو، وہ پاکستان نہیں گئے تھے۔

اسی بارے میں