#DelhiViolence: دلی میں ہنگامے جاری، پولیس اہلکار سمیت 11 افراد ہلاک

سرفراز علی
Image caption سرفراز علی پر سوموار کو گوکل پوری کے علاقے میں حملہ کیا گیا

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور اس قانون کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

یہ ہنگامے دلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہو رہے ہیں اور اتوار کو شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے حوالے سے پچھلے کچھ مہینوں سے احتجاج جاری ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا آمد سے قبل یہ احتجاج پرتشدد ہو گیا۔

جی ٹی بی ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کو مزید پانچ زخمیوں کی موت ہوئی ہے اور اب ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو چکی ہے۔

اسے حوالے سے مزید پڑھیے

’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر انڈین خاتون گرفتار

انڈیا: یہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیا ہیں؟

امریکی کمیشن: انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتحال ’پریشان کن‘

خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق پرتشدد واقعات میں مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

ہنگاموں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد تین درجن سے زیادہ بتائی جا رہی ہے جن میں سے 35 افراد کا علاج جی ٹی بی ہسپتال میں جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دلی میں حالات ابھی بھی کشیدہ بتائے جا رہے ہیں

ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں محمد سلیمان اور شاہد علوی بھی شامل ہیں۔ محمد سلیمان کا تعلق دلی کے علاقے جعفرآباد سے بتایا گیا ہے جبکہ شاہد علوی ریاست اترپردیش کے بلند شہر سے ہیں۔ پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمد سلیمان کی ٹانگ میں گولی لگی اور اس کی موت زیادہ خون بہنے سے ہوئی۔

شمال مشرق دلی کے دس علاقوں میں پولیس نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نمائندے ونائیک گائیکواڈ کے مطابق پیر کی سہ پہر کو پرتشدد واقعات کے بعد رات گئے تک چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں خوف و ہراس کا ماحول تھا۔

’نام بتایا تو مجھے پتلون اتارنے کو کہا‘

شمال مشرقی دلی کے رہائشی سرفراز علی بھی ان جھڑپوں کے دوران تشدد کا نشانہ بنے۔ سرفراز 24 فروری کی رات اپنے چچا کے جنازے سے واپس آرہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سرفراز نے بتایا کہ وہ موٹرسائیکل پر اپنے والد کے ساتھ گوکولپوری سے آرہے تھے۔ کراسنگ پل پر ہجوم نے انھیں اور ان کے والد کو گھیر لیا، وہاں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے اور ہجوم میں شامل افراد ان کے شناختی کارڈ چیک کر رہے تھے۔

اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'اس نے میرا نام پوچھا، میں نے ابتدا میں دوسرا نام بتانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے میری پتلون اتارنے کو کہا۔ جب میں نے اپنا نام سرفراز بتایا تو اس نے مجھے لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کر دیا اور آگ میں پھینک دیا۔‘

ایمبولینس پر حملہ

پیر کو شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد کے علاقوں میں بھی زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سرفراز کو دہلی کے جی ٹی بی ہسپتال لانے والے حسن اور ستیہ پرکاش تھے۔ حسن کا کہنا تھا 'مجھے رات کے وقت پرانے برجپوری علاقے کے مہر ہسپتال سے فون آیا کہ وہاں موجود ایک نوجوان سرفراز کو جی ٹی بی اسپتال منتقل کرنا ہے۔ میں اس علاقے میں داخل ہونے سے ڈر رہا تھا۔ لہٰذا ہم نے مریض کو باہر آنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد سرفراز کے بھائی انھیں ساتھ لے کر باہر آئے۔'

حسن کی ایمبولینس پیر کی سہ پہر ہجوم کے حملے کا نشانہ بنی تھی جب انھیں سلیم پور میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو ہسپتال لانے کا کام سونپا گیا تھا۔

حسن نے کہا: 'ہم مریض کو ہسپتال لے جا رہے تھے۔ میں پیچھے بیٹھا تھا کیونکہ مریض کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ ستیہ پرکاش نے ابھی تھوڑا ہی ایمبولینس کو آگے بڑھایا کہ ہجوم نے ایمبولینس کے بونٹ اور پھر ونڈ سکرین پر حملہ کیا۔

Image caption حسن کے مطابق مشتعل ہجوم نے ایمبولینس کے بونٹ اور پھر ونڈ سکرین پر حملہ کیا

’انھوں نے ستیہ پرکاش پر لاٹھی سے حملہ کیا اور ایمبولینس کی کھڑکی توڑ دی۔ انھیں اس کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ یہ ایک ایمبولینس ہے، یہ دہلی حکومت کی ایک ایمبولینس ہے، ہم ہندو مسلمان میں فرق نہیں کرتے لیکن لوگ یہ نہیں سمجھتے ہیں۔'

نامہ نگار کے مطابق پیر کی شب جب انھوں نے پرتشدد واقعات میں مرنے والے ایک شخص کے گھر والوں سے ملاقات کے لیے مصطفی آباد جانے کی کوشش کی تو اس کی رہائش گاہ کی جانب جانے والی تمام سڑکیں بند ملیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جعفرآباد میٹرو سٹیشن کے قریب شہریت کے ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرنے والوں کا ہجوم اور وہاں سینکڑوں خواتین اور مرد موجود تھے جبکہ اسی وقت چاند باغ کے قریب شہریت کے قانون کی حمایت کرنے والے جمع تھے اور جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے اور اس جگہ شہریت کے ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان صرف ایک رکاوٹ کا فاصلہ تھا تاہم وہاں پولیس بڑی تعداد میں موجود تھی۔

خواتین اور بوڑھوں کے ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈے

نامہ نگار کو پرانی برجپوری علاقے میں لوگ لوہے کی سلاخیں اور ڈنڈے لیے سڑکوں پر چلتے پھرتے نظر آئے اور ان لوگوں میں خواتین، بوڑھے اور نوجوان سب شامل تھے۔

پرانی برچپوری کے رہائشی منوج نے بی بی سی کو بتایا کہ جب جھگڑا شروع ہوا تو وہ وہاں موجود تھے۔

'سب کچھ ٹھیک تھا کہ اچانک پتھراؤ شروع ہو گیا۔ شہریت کے قانون کی مخالفت کرنے والے لوگوں کی تعداد کافی زیادہ تھی اور پولیس کی تعداد کم تھی۔'

منوج نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے اپنی حفاظت کے لیے مقامی لوگوں کی مدد لی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب وہ منوج سے بات کر رہے تھے تو ان سے چند میٹر دور کھڑی ایک کار سے آگے کے شعلے اور دھواں اٹھ رہا تھا۔

نامہ نگار نے منوج کے علاوہ وہاں موجود دیگر لوگوں سے بات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

پولیس نے کہا کہ 'سب کچھ ٹھیک ہے'

شاہین باغ کی طرز پر جعفرآباد میں بھی خواتین شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

یہاں کی مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال قابو میں ہے اور پولیس کی نفری پوری رات حساس علاقوں میں گشت کرتی رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی شب ان علاقوں سے تازہ تشدد کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔

اتوار اور پیر کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد اس علاقے میں پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن سڑکوں پر مظاہرین کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔

'اب ہم نہیں جھکیں گے'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین میں شامل ایک شخص نے کہا: 'ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں۔ کوئی بھی تشدد نہیں چاہتا ہے۔ پیر کو ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد ہمارے ذہن پر خوف طاری ہے لیکن اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

’ہم متحد ہیں اور آئینی انداز میں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے کیونکہ ہم ہندوستان کی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ انڈیا ہمارا ملک ہے اور ہم ہندوستانی ہیں ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں سنے۔ ہفتوں اور مہینوں تک سڑکوں پر کون بیٹھنا چاہتا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہریت کے قانون کے حامیوں کا ایک شہری پر تشدد

یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ دہلی سے بی جے پی کے رہنما کپل مشرا کے زیر قیادت ایک ریلی کے بعد موج پور اور شمال مشرقی دہلی کے دیگر علاقوں میں تشدد شروع ہوا۔ شہریت ترمیمی قانون کے حق میں یہ ریلی جعفرآباد کے قریب موج پور کے علاقے میں سنیچر کی رات اس جگہ نکالی گئی تھی جہاں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ دھرنا دے رہے تھے۔

کپل مشرا نے اپنی ریلی میں مظاہرین سے سڑک اور علاقے کو خالی کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد وہ سڑکوں پر نکلیں گے۔

جمنا وہار علاقے میں رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ رات کے تین بجے کے بعد بھی گلیوں میں جے شری رام کے نعرے لگ رہے تھے۔ ان کے مطابق کئی مکانات کے باہر کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور پتھراؤ کیا گیا۔

نئی دہلی کی ریاستی حکومت کے وزیر گوپال رائے بابر پور میں فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات کے بعد پولیس فورسز کو حساس علاقوں میں بھیجنے کی درخواست لے کر منگل کو دہلی کے لفٹیننٹ گورنر سے ملے ہیں۔

گوپال رائے نے اس موقع پر کہا: 'بابرپور سمیت دلی کے سارے شمال مشرقی علاقے میں دہشت کا ماحول ہے۔ وہاں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، فسادی فائرنگ کر رہے ہیں۔ آگ بھڑک رہی ہے لیکن وہاں کوئی پولیس فورس نہیں ہے، ہم اس مسئلے پر فوری طور پر اقدامات چاہتے ہیں کہ وہاں پولیس فورس بھیجی جائے۔ پورے علاقے میں لوگ گھبرائے ہوئے ہیں، رات بھر سے جاگ رہے ہیں، ایسی صورتحال میں کوئی بھی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔'

نئی دلی کے وزیر اعظم اروند کجریوال نے پیر کو وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں مدد کی اپیل کی ہے اور کہا کہ 'قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد کریں۔'

لیفٹننٹ گورنر انیل بئیجل نے دہلی کے پولیس کمشنر کو حکم دیا ہے کہ امن و امان بحال کرنے کی پوری کوششیں کی جائیں۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کپل مشرا نے بھی ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ امن کو برقرار رکھا جائے اور چاہے وہ شہریت کے قانون کے حامی ہوں یا مخالف، تشدد اور ہنگاموں سے گریز کریں۔'

دوسری جانب رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے کپل مشرا کی ٹویٹ کے جواب میں انھی پر ہنگامہ آرائی کا الزام لگایا اور کہا کہ 'یہ تمام ہنگامے بی جے پی کے رہنما کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔انھیں فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں