#DelhiRiots: ‘دلی میں اب بھی جے شری رام کے نعرے لگ رہے ہیں‘

مزار

انڈیا کے دارالحکومت دلی کی گوکلپوری ٹائر مارکیٹ میں منگل کو دوسرے روز بھی آگ لگی دیکھی گئی ہے جبکہ مقامی میٹرو سٹیشن کے قریب پتھراؤ اور نعرے بازی کرتے افراد بھی نظر آئے ہیں۔

جب لوگوں نے ہمیں وہاں کے حالات کی ویڈیو لیتے دیکھا تو انھوں نے ہم پر بھی پتھراؤ کیا۔ ہماری کار پر پتھر لگے تو ہمیں وہاں سے روانہ ہونا پڑا۔

اس دوران جے شری رام کے نعرے لگائے جارہے تھے۔ گوکلپوری کے علاقے میٹ نگر کے پاس تقریباً دو سو افراد 'وندے ماترم' کے نعرے لگاتے سنے جا سکتے تھے جبکہ وہ ترنگا (انڈین پرچم) اور زعفرانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھے جا رہے تھے۔

اس دوران 'دیش کے غداروں کو، گولی مارو ۔۔۔ کو' جیسے نعرے بھی سنائی دے رہے تھے۔

بھجن پورہ کے بابر پور علاقے میں ایک پرانے مقبرے میں گذشتہ رات توڑ پھوڑ کی گئی اور آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جہاں جلے ہوئے پھول نظر آئے۔ یہ پتہ نہیں کہ کس نے آتشزدگی کی تھی۔

اسے حوالے سے مزید پڑھیے

دلی ہنگامے: ’اپنا نام سرفراز بتایا تو لاٹھیوں سے پیٹنے لگے‘

’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر انڈین خاتون گرفتار

انڈیا: یہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیا ہیں؟

اس مقبرے سے بمشکل 10-15 میٹر کے فاصلے پر ایک پولیس امدادی مرکز ہے۔ یہ کھجوری خاص کی پولیس چوکی تھی، اس پولیس تھانے پر بھی حملہ ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ پولیس بھیڑ کے سامنے بے بس رہی ہو گی۔

مزار کے باہر لگنے والی پھولوں کی دکان تباہ ہوگئی ہے اور اس کے باہر کھڑی دو بائیک جل کر راکھ ہوگئیں۔

پورے محلے میں ماحول کشیدہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہیں کہ بھیڑ نہ لگائیں۔ سڑک پر سناٹا ہے، کئی جگہ عجیب گہما گہمی ہے۔ چاروں طرف اینٹوں کے ٹکڑے، پتھر اور تخریب کاری کے نشان بکھرے ہوئے ہیں۔

تشدد کے وقت موجود ایک مقامی رہائشی نے کہا: 'یہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا، لوگوں نے پیٹرول پمپوں کو نذر آتش کردیا۔ پٹرول ڈال کر کئی دکانوں کو آگ لگا دی۔ باہر سے آنے والے لوگ تھے سب کو مار پیٹ رہے تھے۔'

وہاں موجود کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے لوگ تشدد بھڑکا رہے تھے، لیکن وہ یہ نہیں بتاسکے کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔ وہاں موجود ایک نوجوان نے الزام لگایا کہ پولیس مسلمانوں کو مار رہی تھی اور پتھر پھینک رہی تھی۔

کسے نشانہ بنایا گيا

ایک مقامی شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور توڑ پھوڑ اور تشدد کرنے والے سبھی باہر سے آئے تھے۔ پولیس اہلکار بھی ان کے ساتھ تھے، لہذا ان کو لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پتھر بازی پانچ چھ گھنٹے تک جاری رہی اور پولیس نے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

مقامی لوگ بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ تشدد یا پتھراؤ کا مزید واقعہ پیش آسکتا ہے۔ وہ لوگوں سے بار بار کہہ رہے تھے کہ بھیڑ میں اضافہ نہ کریں۔

لوگوں نے آنسو گیس کے ڈبے دکھائے جو پولیس استعمال کرتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ انھیں نشانہ بنایا گیا تھا۔

اگلی صبح کچھ دکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا، پھلوں کے جوس کی ایک دکان کو شدید طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ کچلے اور جلے ہوئے پھل سڑک پر بکھرے ہوئے ہیں جبکہ وہیں جلی ہوئی ایک چھوٹی کار بھی نظر آئی۔

وہاں موجود ایک شخص نے بتایا کہ جلائی گئی گاڑی 'آزاد چکن' چلانے والے دکاندار کی ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گاڑی کو پیٹرول بم کا نشانہ بنایا۔

آزاد چکن سٹور کے اوپر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دکان کے مالک بھورے خان کے گھر پہنچا۔ انھوں نے بتایا: 'جب پتھراؤ ہوا تو پولیس نے انھیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ہم بھاگ بھی نہیں سکے، انھوں نے نیچے آگ لگا دی، ہم اوپر کی منزل پر تھے۔

آگ کی وجہ سے چھت بری طرح خراب ہوگئی تھی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ بھورے خان کا کہنا ہے کہ 'آگ لگ بھگ ڈھائی بجے شروع ہوئی لیکن فائر بریگیڈ نے ساڑھے سات اور پونے آٹھ کے درمیان پانی پھینکنا شروع کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دلی کے علاقے گوکل پوری کے مناظر

بھورے خان کے گھر میں موجود ایک بوڑھی عورت چیخ چیخ کر کہتی رہی 'ہمارے گھر میں کچھ باقی نہیں بچا ہے، سب کچھ جل کر راکھ ہوچکا ہے۔ انھوں نے دکان میں موجود ترپال کو آگ لگادی جس سے آگ بھڑک اٹھی اور سب ختم ہوگیا۔'

بھورے خان نے اپنے گھر کی دوسری منزل پر لے جا کر بتایا کہ وہ کس طرح چھتوں سے بھاگتے ہوئے اپنے ایک رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ آگ اتنی زوردار تھی کہ چھت پر موجود پانی کے ٹینک اور برتن بھی جل گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر میں رکھی ہوئی تمام رقم بھی جل گئی تھی۔ اب مرمت کا کام کیسے ہوگا؟

کپل مشرا پر الزام

چاند باغ علاقے کے رہائیشی زاہد نے کہا: 'ہندو مسلم یہاں پر سکون سے رہ رہے تھے، ان کے مابین کوئی جھگڑا نہیں تھا، فساد کرنے والے، پٹرول بم پھینکنے والے تمام افراد کو یہاں لایا گیا ہے اور یہ فساد کروایا گیا۔'

زاہد کا الزام ہے کہ یہ آر ایس ایس اور کپل مشرا کا کام ہے۔ شاید ان کے یہ کہنے کی وجہ کپل مشرا کا وہ بیان ہے جو انھوں نے سی اے اے کی حمایت میں موج پور چوک میں ایک ریلی کا انعقاد میں کہا تھا کہ 'ڈی سی پی صاحب سامنے ہیں۔ ہم ٹرمپ کے جانے سے پہلے پرامن ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہم ان کی بھی نہیں سنیں گے۔ آپ ٹرمپ کے جانے کے بعد جعفرآباد اور چاند باغ کو خالی کردیں بصورت دیگر ہمیں دوبارہ واپس آنا پڑے گا۔'

کپل مشرا بے جے پی کے ٹکٹ پر ماڈل ٹاؤن سے دلی کے اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے ایک مندر دکھایا اور بتایا کہ مسلمانوں نے اس کی نگرانی کی کہ اس مندر کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ فسادات کی بدنامی سے بچنے کے لیے انھوں نے رات کو جاگتے ہوئے ہندو دکانوں اور مندروں کی حفاظت کی۔

بی بی سی نے مندر کے پجاری سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

وہاں رہنے والے سنجے تومر مندر کے بارے میں بات کرنے کے لیے سامنے آئے۔ انہوں نے کہا: 'ہم نے اپنی زندگی یہاں چاند باغ میں گزار دی، جو ماحول ہم نے کل دیکھا وہ پہلے کبھی نہیں تھا، یہ حالت دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی۔'

مین روڈ پر واقع مٹھائی کی دکان بالاجی مٹھائی کو بھی نقصان پہنچا، اس کا شٹر ٹوٹ گیا ہے۔

مین روڈ پر واقع ماروتی سوزوکی کی سیکنڈ ہینڈ کاروں کا شوروم بری طرح جھلس کر راکھ ہوگیا ہے۔ دکان کی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آگ کتی خوفناک رہی ہوگی۔

ہم شوروم کے مالک کے پاس پہنچے لیکن وہ اپنی پریشانیوں میں الجھے ہوئے فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے ہم سے بات کرنے سے انکار کردیا، اگر اس سے کوئی فرق پڑتا ہو تو شوروم کے مالک سکھ مذہب کے ماننے والے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں