#DelhiRiots: دلی میں ہنگامے، ہلاکتوں کی تعداد 23، کم از کم 200 زخمی

دلی میں مظاہروں سے متاثرہ خواتین تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی ہے جبکہ کم از کم 200 افراد شہریت کے متنازع قانون کے مخالفین اور حامیوں کے مابین جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

گرو تیغ بہادر ہسپتال کے ڈائریکٹر سنیل کمار گوتم نے بی بی سی کو بتایا کہ پرتشدد واقعات میں اب تک 23 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انڈیا کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول نے منگل کی رات متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے منگل کی شام گرو تیغ بہادر ہسپتال کا دورہ کیا۔ متاثرین سے ملاقات کے بعد انھوں نے بتایا کہ ’پیر کو 81 افراد کو زخمی حالت میں یہاں لایا گیا تھا جبکہ منگل کو 69 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔‘

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے ’30-40 افراد علاج کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں مگر یہاں میں نے جو زخمیوں کی حالت دیکھی ہے ان میں سے بہت سے مریضوں کی حالت کو نازک سمجھا جا سکتا ہے۔‘

حکام نے شمال مشرقی دہلی کے علاقے جعفرآباد میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کو بھی ہٹا دیا ہے۔

اس مقام پر لوگوں کی بڑی تعداد نے کئی دن سے دھرنا دیا ہوا تھا اور اتوار کو یہاں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب شہریت کے قانون کے حامیوں کا ایک بڑا ہجوم وہاں جمع ہوا اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

اس بارے میں

دلی کی مسجد میں آگ اور مینار پر پرچم کس نے لگائے؟

دلی فسادات: دلی پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان

‘دلی میں اب بھی جے شری رام کے نعرے لگ رہے ہیں‘

دہلی پولیس کے ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا نے ایک پریس کانفرنس میں پرتشدد واقعات اور ان سے متعلق اقدامات کے بارے میں بتایا کہ ’جھڑپوں میں دہلی پولیس کے 56 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ شمال مشرقی دہلی میں سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔‘

ان کے مطابق امن و امان کے قیام میں ’پولیس کا ساتھ سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے نیم فوجی دستے بھی دے رہے ہیں۔ پولیس نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے تاہم اس کے باوجود منگل کو کچھ علاقوں میں تشدد ہوا ہے۔ میں دہلی کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔‘

مندیپ رندھاوا نے کہا کہ ’سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے اور تحقیقات میں ڈرونز اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔‘

بی جے پی کے مقامی رہنما کپل مشرا کے بارے میں مندیپ رندھاوا نے کہا کہ ’تمام چیزوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اب تک 20 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ مسلمان رہنما اور شہری ان پرتشدد واقعات کے لیے کپل مشرا کے بیانات اور اقدامات کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کپل مشرا نے بھی ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا تھا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ امن کو برقرار رکھا جائے اور چاہے وہ شہریت کے قانون کے حامی ہوں یا مخالف، تشدد اور ہنگاموں سے گریز کریں۔'

دوسری جانب رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے کپل مشرا کی ٹویٹ کے جواب میں انھی پر ہنگامہ آرائی کا الزام لگایا اور کہا کہ 'یہ تمام ہنگامے بی جے پی کے رہنما کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ انھیں فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔'

اسے حوالے سے مزید پڑھیے

’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر انڈین خاتون گرفتار

انڈیا: یہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیا ہیں؟

امریکی کمیشن: انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتحال ’پریشان کن‘

کیجریوال زخمیوں کو دیکھنے ہسپتال پہنچ گئے

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا بھی زخمیوں کی عیادت کے لیے جی ٹی بی ہسپتال پہنچے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق ، کیجریوال نے ہسپتال آمد سے قبل کہا کہ دہلی میں پچھلے دو دنوں میں ہونے والے تشدد سے پورا ملک پریشان ہے۔

منگل کو وزیر داخلہ امیت شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں دہلی فسادات میں پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے گئے۔ وزارت داخلہ کے اجلاس میں جانے سے پہلے، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ’تشدد زدہ علاقوں میں پولیس فورس کم ہے اور پولیس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کارروائی کرے، لاٹھی چارج کرے یا ہوائی فائر کرے۔ اوپر سے آرڈر نہیں مل رہے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بہت سارے لوگ باہر سے آ رہے ہیں، سرحد کو سیل کرنے اور انھیں حفاظتی تحویل میں لینے کی ضرورت ہے۔‘

وزیراعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ ’تمام مذاہب کے لوگوں کو امن ملاقاتیں کرنی چاہییں، مقامی ارکان اسمبلی کو بھی ان میں موجود ہونا چاہیے۔‘

بی بی سی کی ٹیم نے کیا دیکھا

منگل کی شام بی بی سی ہندی کے نمائندے فیصل محمد علی جب شمالی دہلی کے تشدد سے متاثرہ علاقے میں کوریج کے لیے پہنچے تو وہاں ہجوم نے ان سے وہ موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی جس میں پُرتشدد واقعات کی ریکارڈنگ موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فیصل محمد علی کے مطابق ہجوم میں شامل افراد نے ان پر پتھراؤ بھی کیا اور اسی دوران انھوں نے ایک شخص کو ہاتھ پر کپڑا باندھے گلی سے نکلتے دیکھا جس کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ میں گولی لگی تھی اور کسی نے سڑک کے دوسری طرف چھت سے اسے گولی مار دی تھی۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت شمال مشرقی دہلی کو دیکھیں تو جیسے ’شہر بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔‘

بی بی سی کی ٹیم منگل کی صبح بھی جعفر آباد کے متاثرہ علاقوں میں گئی تھی۔ اس علاقے کے لوگوں نے ایک پوری مارکیٹ کو آگ لگا دی تھی ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دکانوں میں زیادہ تر مسلم برادری کی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق جلتے ہوئے بازار سے اٹھتی ٹائروں کی بو اور دھوئیں کو دور سے دیکھا جاسکتا تھا لیکن انھیں اس پورے واقعے کو کیمرے پر ریکارڈ کرنے کے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے سے لگ بھگ 500 میٹر دور کچھ نوجوان دکانوں پر پتھر پھینک رہے تھے اور جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی حرکات کیمرے پر ریکارڈ ہو رہی ہیں تو پتھراؤ کا رخ صحافیوں کی طرف ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی دوران بی بی سی کی ٹیم نے جے شری رام کے نعرے بھی سنے۔ فیصل محمد علی کے مطابق ’بہت ساری جگہوں پر ہم نے 100 سے 200 افراد کا ہجوم دیکھا۔ان میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ترنگا تھا، لوگ جے شری رام ، بھارت ماتا کی جے ، وندے ماترم جیسے نعرے بلند کررہے تھے۔ اس ہجوم میں شامل کچھ افراد 'ملک کے غداروں کو گولی مارو' جیسے نعرے بھی لگا رہے تھے۔‘

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’اسی وقت کچھ مسلمان لڑکے بھی محلوں کی گلیوں میں کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں لوہے کی سلاخیں اور ایسی دوسری چیزیں اٹھائے ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘

ایک مقامی رکشہ ڈرائیور گلشن کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ہمیں لڑنے اور جان دینے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔‘

1984 کے سکھ فسادات سے موازنہ

راجیو نگر کی رہائشی کمیٹی کے جنرل سکریٹری اسلام الدین کا کہنا ہے کہ ’کچھ بیرونی لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

اسلام الدین نے ان حالات کا موازنہ 1984 کے سکھ فسادات سے کیا جب پوری دہلی میں بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا گیا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ جب بی جے پی رہنما کپل مشرا اشتعال انگیز بیان دے رہے تھے تب ان کے خلاف اقدامات کیے جاتے تو معاملات ہاتھ سے نہیں نکلتے۔

کپل مشرا عام آدمی پارٹی کے پہلے ایم ایل اے تھے۔ لیکن اب وہ بی جے پی کے رکن ہیں اور اپنے تندو تیز بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ اتوار کو پولیس کو الٹی میٹم دیا تھا کہ ظفرآباد کے علاقے میں ایک مرکزی سڑک کو اگلے تین دن میں خالی کرا لیا جائے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مشرا کا یہ بیان مبینہ طور پر دہلی میں تشدد کو ہوا دینے کی وجہ بنا۔

شمالی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمان گوتم گمبھیر کپل مشرا کے بیانات سے متفق نہیں لیکن اس کے باوجود پارٹی اور پولیس کی طرف سے کپل مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

منگل کی رات بھی کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس میں لکھا تھا ’ظفر آباد خالی ہے، دہلی میں کوئی اور شاہین باغ نہیں ہو گا۔‘

اس سے کئی گھنٹے قبل انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا ’مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ بند سڑکیں کھولنے کے لیے مطالبہ کرنا جرم نہیں۔ سی اے اے کی حمایت کوئی جرم نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں