صدر ٹرمپ کا دورہ: انڈیا کی ترقی کے متعلق سات دعوے کتنے درست؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران انڈین ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم کے افتتاح کے موقع پر ہزاروں افراد سے خطاب کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جہاں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی وہی ان کی حالیہ پالیسیوں کے باعث ملکی ترقی کو بھی اجاگر کیا۔ ہم یہاں جانتے ہیں صدر ٹرمپ کی تقریر میں کیے گئے دعوے کتنے درست ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی معاشی ترقی کے دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے؟

مودی حکومت اپنے وعدوں پر کتنی پوری اتری

انڈیا کی معیشت کو مودی کس طرح چلائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر ٹرمپ کا پہلا دعویٰ:

'اس صدی کے آغاز سے ابتک انڈیا کی معیشت کا حجم چھ گنا بڑھ گیا ہے۔'

ریئلٹی چیک: اگر جی ڈی پی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معیشت میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں کے حجم کے لحاظ سے صدر ٹرمپ درست ہیں۔

سنہ 2000 میں انڈیا کا جی ڈی پی 477 ارب ڈالر تھا، آئی ایم ایف کے مطابق سنہ 2019 تک یہ حجم بڑھ کر تقریباً 2940 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سنہ 2000-2019 تک یہ اضافہ تقریباً 6.2 گنا ہے۔

ریئلٹی چیک نے اس سے قبل وزیر اعظم مودی کے انڈیا کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو وسعت دینے کے عہد کا جائزہ لیا تھا۔

آئی ایم ایف کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا 2019 میں دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا تھا۔

دوسرا دعویٰ:

'انڈیا نے دس برسوں میں 270 ملین افراد کو غربت کی لکیر سے نکالا۔'

ریئلٹی چیک: اقوام متحدہ کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اقوام متحدہ کی متعین کردہ غربت انڈیکس کے اعتبار سے انڈیا میں دس برس قبل کے مقابلے میں 2016 میں 271 ملین سے کم افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے تھے۔

تاہم، اس رپورٹ میں اس بات پر بھی غور کیا گیا ہے کہ غربت کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہونے کے باوجود انڈیا کے '364 ملین افراد کو صحت، غذائیت، تعلیم اور صفائی ستھرائی کی سہولیات میں شدید محرومیوں کا سامنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غربت کے زندگی بسر کرنے والوں میں ایک چوتھائی افراد کی عمر 10 برس سے کم ہے۔

تیسرا دعویٰ:

’پہلی مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر حکومت انڈیا کے ہر گاؤں میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔‘

ریئلٹی چیک: سنہ 2018 میں انڈین حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کہ ہر گاؤں میں بجلی پہنچانے کے اپنے ہدف میں کامیاب ہو گئی ہے۔

تام اس ضمن میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا اصل مطلب ہے کیا۔

حکومت کے مطابق ایک گاؤں میں بجلی کی سہولت کا مطلب ہے کہ اس کے دس فیصد گھرانوں اور عوامی مقامات جیسا کہ سکول اور صحت کے مراکز کو بجلی مہیا کر کے قومی گرڈ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔

سنہ 2014 میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا اس سے قبل ہی ملک کے 96 فیصد دیہات میں بجلی کی سہولت پہنچا دی گئی تھی۔ ہم نے اس دعوے کو گذشتہ برس انتخابی مہم کے دوران بھی اچھی طرح دیکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چوتھا دعویٰ:

’ملک میں مرکزی شاہراہیں بنانے کی رفتار میں دو گنا تیزی آئی ہے۔‘

ریئلٹی چیک: یہ درست ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں سڑکوں کا جال بچھانے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے سنہ 2018-19 میں 10،000 کلومیٹر ہائی وے تعمیر کی تھی۔ یہ گذشتہ کانگریس انتظامیہ کے 2013-14 کے دور اقتدار کے آخری سال میں بننے والی تعداد سے دوگنی ہے۔

حکومت نے اس برس کے لیے بھی اسی طرح کا ہدف مقرر کیا ہے اور نومبر 2019 تک ملک میں 5،958 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر ہوچکی ہیں۔ بی بی سی ریئلٹی چیک نے سڑکوں کی تعمیر کے بارے میں بی جے پی کے ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا ہے۔

پانچواں دعویٰ:

’320 ملین سے زائد انڈین کو اب انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔‘

ریئلٹی چیک: یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ یہاں انٹرنیٹ کنکشن سے کیا مراد ہے۔ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں اب 600 ملین سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بہت تیزی سے بڑھی ہے اور یہ صدر ٹرمپ کے بیان کردہ اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے۔

تاہم ملک کے دیہی علاقوں کے بجائے اگر آپ ملک کے شہری علاقوں میں رہتے ہیں تو یہاں آپ کو انٹرنیٹ کی سہولت آسانی سے دستیاب ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور یہاں انٹرنیٹ صارفین کے حوالے سے صنفی امتیاز بھی موجود ہے۔

2019 کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں موبائل انٹرنیٹ کا استعمال 50 فیصد کم کرتی ہیں۔

گذشتہ برس ریئلٹی چیک کو یہ علم ہوا تھا کیا کہ انڈیا کے تمام دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے لیے ایک پرجوش منصوبے نے ابتدائی آغاز میں مضبوط پیشرفت کی تھی لیکن بعدازاں ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چھٹا دعویٰ:

’600 ملین سے زائد افراد کو بنیادی نکاسی آب کی سہولت میسر ہے۔‘

ریئلٹی چیک: اکتوبر 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے صاف بھارت یا کلین انڈیا مشن کا آغاز کیا تھا۔ حکومت نے اس سکیم کے تحت ایسے گھرانوں کے لیے بیت الخلاء تعمیر کروائے جنھیں بنیادی صفائی کی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔

محکمہ پانی و نکاسی آب کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک کروڑ سے زائد بیت الخلا تعمیر ہو چکے ہیں۔ ہم 600 ملین افراد کے اعداد و شمار کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں لیکن ہر ٹوائلٹ ممکنہ طور پر متعدد افراد استعمال کریں گے۔

اپریل 2018 میں وزیر اعظم مودی نے انڈیا کو سرعام رفع حاجت سے پاک قرار بھی دیا تھا۔

ریئلٹی چیک سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرعام رفع حاجت کے استعمال کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل ابھی بھی وسیع پیمانے پر موجود ہے۔

ساتواں دعویٰ:

’70 ملین مزید گھرانوں کو کھانا پکانے کے ایندھن کی سہولت حاصل ہے۔‘

ریئلٹی چیک: وزیر اعظم مودی کی طرف سے سنہ 2016 میں شروع کی گئی ایک سکیم کے تحت غریب گھرانوں کو کھانا پکانے کے لیے گیس مہیا کی گئی تھی۔

اس سکیم کے تحت 50 ملین مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کنکشن ایک مخصوص سطح سے کم آمدنی والے خاندانوں کو مہیا کیے جانے تھے جس کے ساتھ ساتھ سلنڈروں کو دوبارہ بھرنے کے لیے تین سال تک اضافی مالی سبسڈی مہیا کی جانی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی ویب سائٹ کے مطابق انڈین حکومت نے اپنا یہ ہدف پورا کیا اور گذشتہ برس ستمبر تک 80 ملین سے زائد گیس کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں