#DelhiRiots: بچے دودھ کے منتظر تھے لیکن گھر عرفان کی لاش آئی

  • چنکی سنہا
  • بی بی سی ہندی
دلی کے فسادات

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

عرفان بچوں کے لیے دودھ لینے گھر سے نکلے تھے

دلی کے علاقے جعفرآباد کی گلی نمبر 37 میں مرد اور خواتین ایک نوجوان شخص کے جنازے میں شرکت کے لیے جمع ہیں۔ ابھی اس نوجوان شخص کی میت اندر کمرے میں ہی رکھی ہے۔

محمد عرفان 26 فروری کی شام اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدنے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے تین روز بعد ان کی لاش کو جعفرآباد لایا گیا۔ پولیس نے ان کے خاندان والوں سے کہا کہ اگر عرفان کے مردہ جسم کو ان کے علاقے کرتار نگر لے جایا گیا تو پرتشدد واقعات پیش آنے کا خدشہ ہے۔

وہاں موجود ایک خاتون نہ کہا ’اس کا چہرہ دیکھو کیسا چمک رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

چاروں طرف ایک عجیب سے خاموشی تھی۔ ایک شخص نے مجھ سے عرفان کی تصویر ذرا پیچھے ہو کر کھینچنے کے لیے کہا۔

ان کا کہنا تھا ’دیکھیے ان لوگوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے۔ انھوں نے اس پر تلوار سے حملہ کیا۔‘

،تصویر کا کیپشن

عرفان کے گھر والوں کے مطابق ان پر پر تلوار سے حملہ کیا گیا

بہن کی شادی کے لیے قرض لیا تھا

جس کمرے میں عرفان کا جنازہ رکھا گیا تھا وہاں ایک طرف پانی بہہ رہا تھا کیونکہ عرفان کو کچھ دیر پہلے ہی غسل دیا گیا تھا۔ اگربتی کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

اس کمرے میں ایک ٹیوب لائٹ تھی، ماتم کناں مرد اور خواتین اور ایک مردہ جسم جس کے سر پر گہرے زخموں کے نشانات تھے۔ بس میں اتنا ہی دیکھنا برداشت کر پائی۔ آخرکار رپورٹنگ کرنا اتنا بھی آسان کام نہیں۔

وہاں موجود ایک خاتون بتاتی ہیں ’26 فروری کی شام وہ اپنے بچوں کے لیے دودھ لینے گیا تھا۔‘

محمد عرفان کی عمر محض 27 برس تھی۔ وہ ایک فیکٹری میں سکول بیگ بنانے کے لیے کپڑا کاٹنے کا کام کرتے تھے۔ چھ ماہ قبل انھوں نے اپنی بہن کی شادی کے لیے کافی قرض لیا تھا۔ وہ اپنی اہلیہ، دو بچوں اور ضعیف والدین کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ عثمان پور علاقے میں کرائے کے ایک کمرے میں رہتے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

عرفان ایک بیگ بنانے کی فیکٹری میں کام کرتے تھے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پڑوس میں رہنے والے ذاکر نبی معراج بتاتے ہیں ’بدھ کی شام گھر سے قریب 300 میٹر دور وہ شدید زخمی حالت میں ملے تھے۔ ان کے جسم کو بری طرح کچلا گیا تھا اور کاٹا گیا تھا۔ ان کا سر بھی پھٹا ہوا تھا۔‘

عرفان کو قریب کے ہسپتال لے جایا گیا اور بعد میں جی ٹی بی ہسپتال میں داخل کرايا گیا جہاں ان کا اسی دن انتقال ہو گیا۔

برقعہ پہنے ہوئے ایک خاتون کو لے کر دو خواتین اندر داخل ہوئیں۔ وہ غم سے نڈھال لڑکھڑاتے ہوئے اندر آئیں۔ وہ عرفان کی اہلیہ گلستان تھیں۔ وہ آخری بار اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھیں۔

عرفان کے 37 برس کے بھائی گلزار احمد بتاتے ہیں کہ وہ تین دن سے عرفان کی لاش کو حاصل کرنے کے انتظار میں تھے۔ سنیچر کو ایک بجے پولیس سے کافی بحث کے بعد وہ عرفان کی لاش کو لے کر اپنی چچی کے گھر پہنچے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے کرتار نگر میں عرفان کے مردہ جسم کو لے جانے سے تشدد شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

باہر پولیس اور نیم فوجی دستے تعنیات تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالات معمول پر آگئے ہیں لیکن پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ’نیو نارمل‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پولیس اور میڈیا کے مطابق متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔

شام پانچ بجے تین خواتین گلی نمبر 37 کے باہر کھڑی نظر آئیں جن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

وہ کہتی ہیں ’وہ لوگ اسے دور لے گئے۔ آپ کو معلوم ہے ہم نے اس طرح کا تشدد کبھی نہیں دیکھا۔ ہم یہاں دیوالی بھی عید کی طرح مناتے ہیں۔ وہ باہر سے آئے تھے۔ انھوں نے کیسے لوگوں کو مار ڈالا۔‘

دلی کے ویلکم علاقے کے قبرستان میں عرفان کی تدفین کی گئی۔

عرفان کی والدہ غز سے نڈھال ایک چھوٹے سے ہال میں خواتین کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ عرفان کے دونوں بچے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ بڑا بچہ موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا۔ دونوں کی عمر پانچ اور تین سال ہے۔ انھیں یہ اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ ان کے والد کے ساتھ کیا ہوا۔ انھیں موت کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ مرنا آخر ہوتا کیا ہے۔

عرفان کی والدہ قریشہ کہتی ہیں ’میں فسادات نہیں چاہتی، ہم انصاف چاہتے ہیں۔‘

عرفان کے خاندان والوں نے عثمان پور پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے لیکن انھیں کسی طرح کی کوئی امید نہیں ہے۔

قریشہ کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سب کی آوازیں دبی ہوئی ہیں۔ یہاں اب سسکیاں اور آنسو ہیں۔

قریشہ کہتی ہیں ’انھوں نے اس کا سر کچل دیا۔ اس کی غلطی کیا تھی۔‘

بہن سلمیٰ لگاتار رو رہی ہیں۔ ان کی بغل میں عرفان کی اہلیہ بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھیں جیسے پتھر ہو چکی ہیں۔

اس دوران ایک شخص اندر داخل ہوا اور وہاں موجود خواتین کو واپس اپنے اپنے گھر جانے کے لیے کہا کیوں کہ اندھیرا ہونے والا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اب جاؤ کیونکہ ہمیں نہیں معلوم آگے کیا ہونے والا ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

پورے علاقے میں لوگ سہمے ہوئے ہیں

لیکن غم سے نڈھال خواتین بیٹھی رہیں اور بار بار اس خوفناک رات کو یاد کرتی رہیں۔ وہ رات جب عرفان پر حملہ ہوا۔ شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے اور وہ دودھ لینے باہر گئے تھے۔

مشتعل ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے گھر والوں نے باہر سے آنے والا شور سنا لیکن اس سے پہلے وہ کچھ کر پاتے ہجوم اپنا کام کر کے جا چکا تھا۔ عرفان سڑک پر زخمی حالت میں پڑے تھے۔

خواتین مجھ سے کہتی ہیں ’اپنی رپورٹ میں حقیقت بیان کرنا۔ لکھنا کہ انھوں نے ایک بے قصور کو مار ڈالا۔‘

عرفان کے والد دل کے مریض ہیں۔ عرفان اپنے گھر میں روزی کمانے والے واحد شخص تھے۔ ان کی والدہ نے روتے ہوا کہا ’اب ہم کیا کریں گے۔‘

سورج ڈھل چکا ہے۔ باہر اندھیرا ہوچکا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ مجھے کار تک چھوڑ آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’اب آپ واپس چلی جائیے۔ یہ وقت سڑک پر اکیلے گھومنے کا نہیں ہے۔ پڑوس کے علاقوں میں حالات بے حد خراب ہیں۔‘

ایک خاتون نے نم آنکھوں سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرے آنے کا شکریہ ادا کیا۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائیں کہ ’معصوم کا خون بہایا گيا ہے اور آج رات بھگوان رو رہا ہے‘۔