#DelhiRiots: دلی کے مسلمانوں میں رقم کی تقسیم کی وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

  • کرتی دوبے
  • بی بی سی فیکٹ چیک ٹیم
شیئر کی گئی وڈیو

،تصویر کا ذریعہSocial media

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں فسادات تھمنے کے بعد اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد انٹرنیٹ پر متعدد ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔

ایسی ہی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فسادات پھیلانے کے لیے مسلمانوں میں پیسے تقسیم کیے گئے تھے۔

30 سیکنڈ کی اس ویڈیو کو ایک مکان کی چھت سے عکس بند کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین ایک قطار میں کھڑی ہیں جن کو نوٹ جیسا کچھ دیا جا رہا ہے۔ اس قطار میں بچے بھی ہیں اور ان کو بھی ایک ایک نوٹ دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مندیپ ٹوکس نامی ایک صارف نے اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو شمال مشرقی دلی میں فسادات شروع ہونے سے پہلے کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں میں تشدد پھیلانے کے لیے رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔

اسے 30 ہزار بار شیئر کیا گیا ہے اور تقریباً پانچ لاکھ لوگ اسے دیکھا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/KirtiDubey

،تصویر کا کیپشن

بابو نگر کی گلی نمبر چار میں جب لوگوں کو ہم نے یہ ویڈیو دکھائی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ویڈیو اسی گلی کی ہے

بی بی سی نے اس ویڈیو کی تفتیش شروع کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا تشدد پھیلانے کے لیے واقعی پیسے تقسیم کیے گئے؟

ہم نے اس ویڈیو کو سنا اور دیکھا اور غور سے سننے پر آواز آئی ’اللہ انھیں خوب دے گا۔ ایسے انسانوں کی جو دوسروں کی مدد کررہے ہیں۔‘

دیکھنے میں یہ شمال مشرقی دلی کا علاقہ ہے۔ بی بی سی فسادات سے متاثر اس علاقے میں پہنچی۔ پوچھتے پوچھتے ہم نیو مصطفیٰ آباد کے بابو نگر کے علاقے میں پہنچ گئے۔

بابو نگر کی گلی نمبر چار میں جب لوگوں کو ہم نے یہ ویڈیو دکھائی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ویڈیو اسی گلی کی ہے۔

بابو نگر کے شو وہار میں کئی مسلمان خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بعض عید گاہ کو پناہ گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Kirti Dubey

،تصویر کا کیپشن

'صبح سے شام تک، کوئی وقت طے نہیں ہے۔ جب ایسے لوگ آتے ہیں تو عورتیں اور بچے لائن بنا لیتے ہیں۔ لوگ یہاں کھانے کا سامان بھی بانٹ رہے ہیں۔ زیادہ تر سامان عورتوں اور بچوں کو دیا جا رہا ہے۔ جس سے جتنی مدد ہو سکتی ہے کر رہا ہے۔'

یہاں کے رہائشی ہاشم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں یہ پتا ہے کہ مدد کے لیے 100 روپے، 50 روپے دیے گئے۔ اس گلی کے ساتھ آس پاس کی گلیوں میں بھی کھانا اور ضرورت مندوں کو کچھ رقم دی گئی۔ کچھ لوگ باہر سے آ کر یہ کر رہے ہیں۔ سردار لوگ بھی آئے تھے۔ اتوار کو بانٹا، سنیچر کو بانٹا اور تین چار روز سے لگاتار بانٹا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’صبح سے شام تک، کوئی وقت طے نہیں ہے۔ جب ایسے لوگ آتے ہیں تو عورتیں اور بچے لائن بنا لیتے ہیں۔ لوگ یہاں کھانے کا سامان بھی بانٹ رہے ہیں۔ زیادہ تر سامان عورتوں اور بچوں کو دیا جا رہا ہے۔ جس سے جتنی مدد ہو سکتی ہے کر رہا ہے۔‘

اسی گلی میں ہی ہم آگے بڑھے تو بڑے برتنوں میں کھانا بانٹا جا رہا تھا۔ محمد رفیق منصوری پناہ لینے ولے لوگوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مدد میں لوگ اناج دے رہے ہیں، کچھ لوگ تغلق آباد سے آ کر اناج دے رہے ہیں تو کچھ لوگ دلی کے دوسرے مقامات سے 10-20 کلو اناج لا رہے ہیں، تاکہ گھر بار چھوڑ کر یہاں آنے والوں کو اناج دیا جا سکے۔ لوگوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC/ Kirti Dubey

بی بی سی کو فیکٹ چیک سے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں دعوے کے برعکس دلی میں تشدد بھڑکانے کے لیے پیسے نہیں بانٹے گئے بلکہ یہ پیسے فسادات میں متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے بانٹے گئے۔

اس کے علاوہ یہ ویڈیو شیوپوری سے بھاگ کر بابو نگر پناہ لینے والے خاندانوں کی ہے جنھیں کھانا، کپڑے اور دودھ بھی دیا جا رہا ہے۔