Delhi Riots:تین سالہ بچی فسادات کے دوران ایک مسلم خاندان کو مسجد کے باہر روتی ہوئئ ملی تھی

دلی فسادات

،تصویر کا ذریعہBBC/Kirti Dubey

،تصویر کا کیپشن

یہ بچی کچھ نہیں بولتی

پچھلے ہفتے دلی فسادات کے دوران گمشدہ ہونے والی تین سال کی بچی اپنے والدین سے مل گئی ہے۔

اس سے پہلے بی بی سی ہندی نے خبر شائع کی تھی کہ فسادات میں جان بچا کر بھاگنے والے ایک مسلم خاندان نے اس بچی کو ایک مسجد کے باہر روتا ہوا پایا تھا اور وہ اس بچی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اب اس کے والدین سامنے آگئے ہیں اور بچی ان کے حوالے کر دی گئی ہے۔

شہریت کے متنازع قانون کی حمایت اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان شمال مشرقی دلی میں جھڑپوں کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

ان فسادات کا مرکز مسلم اکثریتی علاقے تھے جن میں موج پور، مصطفی آباد، جعفر آباد اور شو و یہار تھے۔

فسادات شروع ہونے کے بعد محمد سعود عالم اور ان کی بیگم شو ویہار سے نکل کر بھاگ رہے تھے کہ انہیں یہ بچی نظر آئی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سعود عالم نے کہا کہ علاقے میں توڑ پھوڑ اور تشدد کے درمیان مدینہ مسجد کے قریب انہیں روتی ہوئی یہ بچی دکھائی دی۔

'اس کے آس پاس کوئی نہیں تھا اور سر پر چوٹ لگی تھی اور وہ رو رہی تھی۔' سعود عالم اس بچی کو دوسرے محلے میں اپنے ساتھ لے گئے تھے جہاں ایک شیلٹر ہوم میں انہوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

میڈیا میں اس بچی کی کہانی شائع ہونے کے بعد دلی کے کمیشن برائے خواتین نے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم نے گھر گھر جا کر اس بچی کے رشتے داروں کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔

بدھ کے روز جب ان رضاکاروں سے اس بچی کے دادا محمد ہارون کو معلوم ہوا کے ان کی پوتی صحیح سلامت ہے تو انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بچی جس کا نام صافیہ ہے ان کے پاس رہتی تھی کیونکہ اس کے ماں اور باپ جاوید اور زلیخا شہر کے دوسرے حصے میں مزدوری کا کام کرتے ہیں۔

محمد ہارون نے بتایا کہ فسادات کے دوران وہ اس بچی سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

پولیس نے تمام ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد بچی اس کے والدین کے حوالے کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہBBC/Kirti Dubey

،تصویر کا کیپشن

محمد سعود عالم اپنے خاندان کے ساتھ تشدد سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگے

25 فروری کو شمال مشرقی دلی کے شو وہار علاقے میں تشدد شروع ہوا تھا تو متاثرین جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اپنا گھر اور برسوں کی کمائی سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے تھے۔

شناخت سے متعلق ہماری دستاویزات جل گئیں

دلی میں تشدد تھمنے کے بعد لوگ اپنوں کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔ بعض لوگ فسادات کے دوران اپنے گھروں سے نکلے لیکن وہ کہاں ہیں، زندہ ہیں بھی یا نہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ تاہم اس دو سالہ بچی کی حالت ان سے بھی بری تھی۔ یہ اپنا نام تک نہیں بتا پارہی تھی۔

بہار کے اریا ضلع سے تعلق رکھنے والے عالم 12-10 سال قبل نوکری کی تلاش میں دلی آئے تھے۔ پیشے سے نالے کی صفائی کا کام کرنے والے سعود عالم گزشتہ منگل تک اپنی اہلیہ اور ایک بیٹے کے ساتھ شو ویہار میں کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے لیکن آج وہ بے گھر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Kirti Dubey

،تصویر کا کیپشن

سعود عالم کو یہ بچی ایک مسجد کے قریب روتی ہوئی ملک تھی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وہ بتاتے ہیں کہ ’منگل کو شام 6 بجے ہمارے علاقے میں ہنگامہ شروع ہوا۔ اچانک سے ایک ہجوم آیا اور نعرے لگائے جانے لگے۔ ہم سب گھر والے چھت پر بھاگے۔ فسادی قریب کی چھتوں میں سیلنڈر میں آگ لگا کر پھینک رہے تھے۔

’ہماری چھت پر بھی ایک جلتے ہوئے سیلنڈر کا ایک حصہ آکر گرا۔ میرے بچے رونے لگے۔ ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہجوم نے ہم سے کہا فوراً بھاگ جاؤ ورنا مار دیے جاؤ گے۔‘

’انھوں نے بندوق کی نوک پر ہماری جیبوں میں ہاتھ ڈال کر ہمارے پیسے نکال لیے۔ اب ہم اپنی شناخت کیسے ثابت کریں گے۔ ہمارا تو آدھار کارڈ یعنی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا شناختی کارڈ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔

’بس جان بچا کر وہاں سے چلے آئے۔ کیا معلوم ایسے ہی کسی خاندان سے یہ بچی چھوٹ گئی ہے، یہی سوچ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے۔‘

سعود کو پولیس سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس کو 112 اور 100 نمبر پر فون کیا تو کہا کہ 10 منٹ میں آ رہے ہیں۔ آج ایک ہفتہ ہو گیا ہے ابھی تک ان کے 10 منٹ نہیں ہوئے ہیں۔‘

منگل کی رات کو ہی سعود عالم اپنے خاندان کے ساتھ چمن پارک پہنچے جہاں شو وہار سے آنے والے بے گھر مسلمان پناہ لے رہے تھے لیکن وہاں انھیں جگہ نہیں ملی۔ اس وقت وہ بابو نگر میں ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سردی کے موسم میں فرج کی قیمتیں کم تھیں تو ایک فرج خریدا تھا۔ کچھ بھی نہیں بچا۔ سب کچھ جلا دیا۔ فرج بھی جل گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC/Kirti Dubey

،تصویر کا کیپشن

متعدد متاثرین بابو نگر میں پناہ لیے ہوئے ہیں

لوگوں کے دلوں میں خوف گھر کر چکا ہے۔ بعض عید گاہوں اور عام لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے متاثرین کے لیے کھول دیئے ہیں۔

یہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ پناہ لیے ہوئے جن کا کوئی پختہ دیٹا نہیں ہے۔ افراتفری کا ماحول ہے۔ ہر کوئی باہر سے آنے والے شخص کو امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔ اور اس سے پوچھتے ہیں کہ ’آپ ڈاکٹر ہیں۔‘ ’میڈم آپ کچھ کھانا تقسیم کررہی ہیں کیا؟‘

اب سوال یہ ہے کہ یہ لوگ دلی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی پناہ گاہوں میں کیوں نہیں جا رہے؟

بعض لوگ عید گاہ کے ایک کمرے میں بیٹھے جب فسادات کے دن یاد کرتے ہیں تو رو پڑتے ہیں۔