کیا انڈیا میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانا غداری ہے؟

  • رجنیش کمار
  • نامہ نگار بی بی سی
فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

گذشتہ ماہ انڈیا کے شہر بنگلور میں 19 برس کی طالبہ امولیہ لیونہ پر ایک ریلی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔

20 فروری کو شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف ہونے والی اس ریلی میں جب امولیہ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تو ان کو اپنی بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سٹیج سے کھینچ کر ہٹا دیا گیا تھا۔

امولیہ کا پورا ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس نعرے کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن کسی نے انہیں بولنے ہی نہیں دیا ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا کہ وہ بھارت زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہی تھیں۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانا ’غداری‘ اور پاکستان مردہ باد کہنا ’دیش بھکتی‘ یعنی حب الوطنی کا ثبوت ہے؟

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار پر بھی غدار کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے

سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل دشینت دوے کہتے ہیں 'پاکستان زندہ باد‘ کہنا غدادری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’غداری تو دور کی بات ہے یہ کوئی گناہ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر پولیس کسی کو گرفتار کر لے۔‘

دوے کہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات آئین میں درج ہے۔

’جنھیں لگتا ہے کہ پاکستان سے نفرت دیش بھکتی ہے وہ انڈیا کے وجود کو نہیں سمجھتے۔

’کسی ایک ملک سے نفرت اتنے بڑے ملک کے لیے وفاداری کا ثبوت نہیں ہو سکتی انڈیا کے آئین میں بھی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کنہیا کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق یونین لیڈر ہیں

31 اکتوبر 1984 کو اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پنجاب حکومت کے دو ملازمین بلونت سنگھ اور بھوپیندر سنگھ کو خالصتان زندہ باد اور راجکریگا خالصہ کا نعرہ لگانے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بلونت اور بھوپیندر نے اندرا گاندھی کے قتل کے کچھ ہی گھنٹے بعد چنڈی گڑھ میں یہ نعرے لگائے تھے۔

ان کے خلاف بھی انڈین پینل کوڈ کی دفع 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب یہ کیسں سپریم کورٹ میں گیا تو سنہ 1995 میں جسٹس اے ایس آنند اور جسٹس فیضان الدین کی بینچ نے واضح طور پر کہا کہ اس طرح سے ایک دو لوگوں کے نعرے لگانا غداری نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1984 میں انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا تھا

سپریم کورٹ کی اس بینچ نے کہا تھا ایک دو لوگوں کی جانب سے ایسے نعرے لگانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے خطرہ نہیں ہے اس میں نفرت اور تشدد بھڑکانے والی بھی کوئی بات نہیں ہے، ایسے میں غداری کا الزام لگانا غلط ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں نے ہندوستان مردہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے تو جج کا کہنا تھا کہ ایک دو لوگوں کی جانب سے اس طرح کے نعرے لگانے سے ریاست یا امن و قانون کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ غداری کا چارج اسی وقت لگایا جانا چاہیے جب کوئی فرقوں میں نفرت پیدا کرے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر کے کوئی سمجھداری کا ثبوت نہیں دیا کیونکہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی گرفتاریوں سے صورتِ حال مزید بگڑتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ویراٹ کوہلی نے ایک مداح سے کہا کہ وہ ملک چھوڑ دیں

اسی طرح کے الزامات جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم کنہیا کمار پر بھی لگائے گئے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی تاہم دلی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جا سکتی ہے۔

اگر عدالت میں یہ ثابت ہو بھی جاتا ہے کہ نعرے لگائے گئے تھے تو بھی جسٹس اے ایس آنند کے فیصلے کی مثال ضرور دی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی سدرشن ریڈی نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ امولیہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کی لڑکیاں بھی عمران خان کی مداح ہوا کرتی تھیں

ان کا کہنا تھا کہ اس میں غداری کا معاملہ کہاں سے بنتا ہے اس لڑکی نے جو بھی کہا اس کے لیے تازیراتِ ہند کے تحت کوئی کیس ہی نہیں بنتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غداری تو دور کی بات ہے امولیہ پر کسی طرح کا کوئی مجرمانہ کیس بھی نہیں بنتا۔

جسٹس ریڈی نے کہا کہ اگر امریکہ زندہ باد اور ٹرمپ زندہ باد کہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو پھر پاکستان زندہ بار کہنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔

امولیہ بنگلور یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس کیس میں انھیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ جسٹس ریڈی کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس میں از خود نوٹس لینا ہو گا ورنہ حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بی جے پی رہنما کپل مشرہ پر بڑکانے والے بیان دینے کے لیے مقدمہ دایر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زندہ بار کے نعرے لگانا اس وقت تک جرم نہیں ہے جب تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہ ہو رہی ہو یا پھر پاکستان کو دشمن ملک قرار نہ دیا گیا ہو۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ضرور ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں۔

تو کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانا بھی غداری ہے۔ 2017 میں کرکٹ چیمپیئن ٹرافی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں 20 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ریاست مدھیہ پردیش اور راجھستان کا تھا۔ ان لوگوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن بعد میں مدھیہ پردیش کے 15 لوگوں پر سے یہ مقدمہ ہٹا لیا گیا تھا۔

حال ہی میں آسٹریلیا میں خواتین کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کور کرنے والے صحافی وویک کمار کا کہنا تھا کہ جب بھی انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں وہاں بسنے والے انڈین سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آتے ہیں اور سٹیڈیم میں بیٹھ کر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس پر کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ یہاں کی کھاتے ہیں اور انڈیا کی گاتے ہیں بلکہ وہاں کے لوگ اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یہاں پسند کے حوالے سے کسی کو غدار قرار نہیں دیا جاتا۔‘

دوسری جانب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی سے جب نومبر 2018 میں ایک مداح نے کہا کہ اسے انڈین کھلاڑیوں سے زیادہ انگریز اور آسٹریلیائی کھلاڑی پسند ہیں تو کوہلی نے اسے انڈیا چھوڑ کر دوسرے ملک میں بسنے کی صلاح دے ڈالی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بی جے پی ایک رہنما انراگ ٹھاکر کے خلاف بھی کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

وویک کہتے ہیں کہ انڈین لڑکیاں عمران خان، وسیم اکرم یا شعیب اختر کو خوب پسند کرتی تھیں اور ایسا بھی نہیں کہ صرف مسلمان لڑکیاں ہی انھیں پسند کرتی ہوں۔ اسی طرح اداکار فواد خان بھی انڈین لڑکیوں میں کافی مقبول تھے۔

غداری کے معاملے میں دفعہ 124 اے پر سپریم کورٹ نے سب سے اہم فیصلہ 1962 میں کیدار ناتھ بمقابلہ بہار حکومت میں سنایا تھا۔

سنہ 1953 میں کیدار ناتھ نے بیگو سرائے کی ایک ریلی میں اس وقت بہار کی کانگریس حکومت پر جم کر تنقید کی تھی۔

اپنی تقریر میں کیدار ناتھ نے کہا تھا کہ ’سی آئی ڈی کے ’کتے‘ یہاں گھوم رہے ہیں اور کچھ اس ریلی میں بھی موجود ہیں انڈیا کے لوگوں نے برطانوی راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور اب انگریزیوں کی طرح کانگریس کے ان ’غنڈوں‘ کو بھی اکھاڑ پھینکیں گے۔‘

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال غداری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ جب تک کوئی تشدد اور نفرت نہیں پھیلاتا اس پر غداری کا مقدمہ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے کہا تھا کہ لوگوں کو حکومت کی نکتہ چینی کرنے اور اپنی پسند اور ناپسند ظاہر کرنے کا حق ہے۔

قوم پرستی اور غداری کی سیاست

2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی ایسی چیزیں سامنے آئیں جنھیں حب الوطنی یا قوم پرستی سے جوڑ دیا گیا۔

جیسے سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے بجنے والا قومی ترانے پر کھڑا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان کی پٹائی کی گئی۔کیا بولنا چاہیے اورکیا نہیں یہ بھی طے کیا جانے لگا۔

مؤرخ مردولہ مکھرجی لفظ قوم پرستی کا مطلب اور اس کی باریکیوں کو انڈیا کی آزادی کی لڑائی کے پسِ منظر میں دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہٹلر کی قوم پرستی نہرو اور گاندھی کی قوم پرستی سے مختلف تھی۔ یورپ کی قوم پرستی میں دشمن اندر ہی تھے جبکہ انڈیا میں یہ برطانوی سامراجیت کے خلاف پیدا ہوئی تھی۔

جس نے لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف متحد کیا تھا اور جہاں بنیادی شناخت انڈین تھی اور اس میں ذات پات، زبان یا مذہب کی اہمیت نہیں تھی۔

1922 میں مہاتما گاندھی کو غدار قرار دیا گیا، انگریز اس قانون کا استعمال کر کے آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو جیل میں ڈالتے تھے۔ انڈیا کے غداری کا یہ قانون آزاد انڈیا میں آج بھی چل رہا ہے اور اس کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔

انگریزوں کا بنایا ہوا یہ قانون آج بھی انڈیا میں نہ صرف موجود ہے بلکہ آج کے دور میں اس کا استعمال بھی ہو رہا ہے جبکہ خود برطانیہ نے سنہ 2009 میں اس قانون کو ختم کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

غداری کے قانون کا استعمال انگریزوں کے زمانے میں خو کیا گیا تھا

غداری کا یہ قانون 17ویں صدی میں بادشاہ اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حکومت کے بارے میں صرف اچھی باتیں کریں اسی قانون کو انگریزوں نے 1870 میں بھارت میں نافذ کر دیا تھا اور اس قانون کا خوب استعمال کیا تھا۔

نہرو ، پٹیل اور شیاما پرساد مکھرجی

آئین نافذ ہونے کے تقریباً 17 مہینے بعد اس بات پر بحث شروع ہوئی کہ آزادی اظہار کی کیا حد ہونی چاہیے۔

آخرکار سنہ 1951 میں آئین میں پہلی ترمیم کر کے تین نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ یعنی آپ ایسا کچھ نہ لکھیں اور نہ ایسا بولیں جس سے امن و امان خراب ہو۔

مشہور وکیل ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب ’رپبلِک آف ریٹرک فری سپیچ اینڈ دی کنٹینیوایشن آف انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ آئین کی پہلی ترمیم کے ذریعے بھارتیہ جنگ سنگھ کے بانی شیام پرساد مکھرجی کو پاکستان کے خلاف لڑائی چھیڑنے کی بات کرنے سے روکا گیا تھا انھیں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دے کر نہرو اور پٹیل نے روکا تھا۔

ابھینو چندر چور نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نہرو نے پٹیل کو خط لکھ کر کہا کہ شیم پرساد ہندو مہا سبھا اکھنڈ بھارت کی بات کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور انھیں اس پر تشویش ہے۔ جواب میں پٹیل نے کہا کہ اس کا حل آئین میں موجود نہیں ہے۔

سنہ 1940 میں نہرو لیاقت پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے مکھرجی نے نہرو کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد مکھرجی کھلے عام انڈیا پاکستان جنگ کی باتیں کرنے لگے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی ایسا کرے گا جس سے جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا

جس کے بعد ہی آئین میں پہلی ترمیم کی گئی تھی۔ جس میں نئی شرطیں جوڑی گئیں، پبلِک آرڈر، دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور جرم کرنے کے لیے اکسانہ شامل کیا گیا۔ اس میں دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو شیام پرساد مکھرجی کو روکنے کے لیے شامل کی گیا تھا۔

نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی ایسا کرے گا جس سے جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اظہارِ آزادی رائے کے نام پر جنگ نہیں جھیلی جا سکتی۔

جواب میں شیام پرساد مکھرجی نے کہا تھا کہ ملک کا بٹوارہ ایک غلطی تھی اور ایک نہ ایک دن اسے ختم کرنا ہو گا چاہے اس کے لیے طاقت کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

دشینت دوے کہتے ہیں کہ بی جے پی کے اراکان پرویش ورما اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر پر غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے جو کچھ بھی کہا وہ ریاست میں امن و قانون کے لیے خطرہ اور تشدد بھڑکانے کے لیے تھا لیکن ابھی تک ان دونوں پر کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا۔