#DelhiRiots: دلی کے ریلیف کیمپ میں فساد سے متاثرہ افراد کی ’درد میں ڈوبی آپ بیتیاں‘

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دلی

’مجھے کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ بس ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، سب کچھ برباد ہو چکا ہے۔ آگے کچھ نہیں بتا سکتے کہ کیا کریں گے۔ یہی سوچتے ہیں کہ بس زندہ بچ گئے۔‘

یہ کہتے ہوئے افسانہ پروین کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ ان کی چار سالہ بیٹی ان کے پاس کھڑی ہے۔ وہ اس وقت دلی کے مصطفیٰ آباد ریلیف کیمپ میں پناہ گزین ہیں۔ ان کا گھر یہاں سے کچھ ہی دور تھا۔

بلوائیوں نے سب کچھ لوٹ کر ان کے مکان کو آگ لگا دی۔ وہ کسی طرح اپنے بچوں کے ساتھ جان بچا کر یہاں پہنچی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دلی کے فسادات کے بعد مصطفیٰ آباد کی عیدگاہ میں متاثرین کے لیے پہلا ریلیف کیمپ کھولا گیا ہے۔ دو دن میں فساد سے متاثرہ پناہ گزینوں کی تعداد ایک ہزارتک پہنچ گئی ہے۔

یہ ریلیف کیمپ رضاکار تنظیموں، وقف بورڈ اور دلی حکومت کے تعاون سے کھولا گیا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے خیمے لگائے گئے ہیں۔ رضاکار تنظیموں نے متاثرین کے لیے کپڑے، دواؤں اور دیگر اشیا کا انتظام کیا ہے۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے پاس کے کچھ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے بھی رضاکارانہ طور پر یہاں اپنا کیمپ لگا رکھا ہے۔

بیشتر متاثرین یہاں کسی سامان کے بغیر آئے ہیں۔ اکثر افراد نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو انھوں نے اپنے گھروں سے بھاگتے وقت پہن رکھے تھے۔

،ویڈیو کیپشن

نئی دہلی میں حالیہ فسادات کے دوران سینکڑوں خاندانوں نے جان کے خطرے کے پیشِ نظر نقل مکانی کی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شمال مشرقی دلی کے کئی علاقوں میں 23 فروری کو شروع ہونے والے فسادات میں اب تک کم از کم 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق چار سو سے زیادہ لوگ زحمی ہوئے ہیں۔

فسادات کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی بعض علاقوں میں کشیدگی ہے۔ فسادات میں مرنے والوں میں ہندو بھی ہیں لیکن غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

متاثرین کا دعویٰ ہے کہ یہ فساد منصوبہ بند طریقے سے کروایا گیا اور بلوائی پڑوس کے علاقوں سے لائے گئے تھے۔

ریلیف کیمپ میں ہر جانب اجڑی ہوئی بستیوں کے سہمے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی گزشتہ ہفتے کی خوفناک خونریزی سے گزر کر آیا ہے۔ احمد دین بھی فساد کی رات کا منظر ابھی تک نہیں بھولے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہر طرف جے شری رام کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ہم ڈرے ہوئے تھے۔ رات کو ساڑھے نو بجے ہم اپنی فیملی کو لے کر نکل رہے تھے تو ہمیں ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ ہم اپنے ملک ہندوستان میں ہیں۔‘

’ہمیں ایسا لگ رہا تھا کہ ہم جیسے شام، ایران یا عراق میں رہ رہے ہوں جہاں سے ہمیں اپنی جان بچا کربھاگنا پڑ رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کو یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

ریلیف کیمپ میں ہر جانب اجڑی ہوئی بستیوں کے سہمے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی گزشتہ ہفتے کی خوفناک خونریزی سے گزر کر آیا ہے

احمد دین اپنی فیملی کے ساتھ ریلیف کیمپ میں ہیں۔ وہ یہاں سے واپس اپنے گھر جانا چاہتے ہیں لیکن وہ جا نہیں سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فسادات کے بعد جب ہم میں سے کچھ لوگوں نے وہاں جا کر اپنے گھروں سے اپنا بچا ہوا سامان نکالنے کی کوشش کی تو وہاں پر کچھ لوگوں کے پیروں پر تلواریں ماری گئیں، کسی کے پیر توڑ دیے گئے، کسی کا کندھا توڑ دیا گیا، کسی کا سر پھاڑ دیا گیا۔‘

ریلیف کیمپ کے منتظم ظہیرچودھری کہتے ہیں کہ یہاں مصطفیٰ آباد، چاند باغ، شیو وہار، چمن پارک اور کھجوری خاص کے متاثرین نے پناہ لی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں دو ہزار افراد کی جگہ ہے۔ ’ہم نے وقف بورڈ اور دلی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ نئے مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اسی طرح کے مزید تین یا چارریلیف کیمپ کھولے جائیں گے۔ میرا اندازہ ہے کہ فسادات میں کم از کم بیس ہزار افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔‘

فسادات کے دوران لوگوں نے جو مناظر دیکھے ہیں وہ ان کے ذہنوں سے نکل نہیں پا رہے اور وہ انتہائی خوفزدہ ہیں۔

ادھیڑ عمر کے عرفان انصاری کے گھر سے سب کچھ لوٹ لیا گیا ہے لیکن وہ پولیس میں رپورٹ کروانے سے ڈرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک بڑھیا گئی تھی تھانے، کہنے لگی لوگ میرے بیٹے کو مار رہے ہیں اور میرے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ پولیس والوں نے جواب دیا کہ تجھے بھی بند کر کے آگ لگائیں کیا؟ یہاں بہت ڈر ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

دلی حکومت نے لوگوں کی املاک کی تباہی کا جائزہ لینے اور عارضی معاوضہ دینے کے لیے متاثرین سے فارم بھروانا شروع کیا ہے۔ کیمپ میں رضاکار جگہ جگہ متاثرین سے فارم بھرا رہے تھے

اسی کیمپ میں ریحانہ بیگم بھی پناہ گزین ہیں۔ ان کے گھرکو سوئی گیس کے سلنڈر سے اڑا دیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب گھر ہی نہیں بچا تو جا کر کیا کریں گے وہاں۔ جب کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تو کہاں جائیں اور پھر جان کا بھی تو ڈر ہے۔‘

دلی حکومت نے لوگوں کی املاک کی تباہی کا جائزہ لینے اور عارضی معاوضہ دینے کے لیے متاثرین سے فارم بھروانا شروع کیا ہے۔ کیمپ میں رضاکار جگہ جگہ متاثرین سے فارم بھرا رہے تھے۔

ایک رضاکار ثاقب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نقصانات کے ابتدائی جائزے سے لگتا ہے کہ اس فساد میں مسلمانوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مکانوں، فرنیچر وغیرہ کو آگ لگائی گئی۔ دوکانوں اوربیکریز وغیرہ پر ٹارگٹڈ حملہ کیا گیا ہے۔‘

ثاقب نے ایک اور اہم بات یہ بتائی کہ بلوائیوں نے گھروں پر حملے میں سامان وغیرہ لوٹنے کے بعد گھروں کے سبھی دساویزات جلا دی ہیں۔

’یہ این آر سی اور این آر پی کا دور ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ان کاغذات کی کتنی اہمیت ہے۔ اگر یہ کاغذات جلا دیے جائیں تو لوگوں کو کتنی پریشانی ہو گی۔ بلوائیوں نے بہت سے گھروں میں کاغذات جلائے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

متاثرین کا دعویٰ ہے کہ یہ فساد منصوبہ بند طریقے سے کروایا گیا اور بلوائی پڑوس کے علاقوں سے لائے گئے تھے

ریلیف کیمپوں میں آ کر فساد سے سہمے ہوئے لوگوں کو مسلسل خوف اور ڈر سے وقتی طور پر باہر آنے کا موقع دیا ہے۔ یہاں ہر کوئی مظلوم ہے۔ ہر کسی کی اپنی درد میں ڈوبی ہوئی آپ بیتی ہے۔

لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اچانک اتنی نفرتیں کہاں سے آئیں؟ ان پر حملہ کیوں کیا گیا؟ کیا وہ انڈیا کے برابر کے شہری نہیں ہیں؟

کیمپ میں ایک طرف بیٹھی ہوئی غمزدہ شبانہ کہتی ہیں کہ ’اب ہم کیسے واپس جائیں اپنے مکانوں میں، ہمارے زہن میں تو ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ ہمارے ذہن پر گولہ بارود کی آواز چھائی ہوئی ہے۔‘

کیمپ کے ان پناہ گزینوں کی واپسی جلد ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ان کی واپسی کا بہت حد تک دارومدار دلی کی حکومت اور دلی کی پولیس کی کوششوں پر ہو گا۔

پولیس پر بلوائیوں کا ساتھ دینے اورحملے کے وقت خاموش بیٹھے رہنے کا الزام ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے شروع میں ہی کارروائی کی ہوتی تو اتنی بڑی جان ومال کی تباہی نہ ہوتی۔

دلی کی حکومت فساد روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکی اور رہی بات مودی حکومت کی تواس کے کردار کا اندازہ فسادات سے پہلے بی جے پی کے رہنماؤں کے نفرت انگیز بیانات تو ایک طرف صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے فسادات میں اتنی بڑی انسانی تباہی پر ایک بار افسوس یا ہمدردی کا اظہار تک نہیں کیا۔