Marvi Sirmed and Khalil ur Rehman Qamar: سوشل میڈیا پر خلیل الرحمن قمر کے انٹرویو کے دوران ماروی سرمد کے ساتھ رویے پر تنقید، عورت مارچ کے نعرے اور پوسٹر زیرِ بحث

ماروی

،تصویر کا ذریعہYoutube/Neo TV

پاکستانی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کے دوران مہمانوں کے بیچ گرما گرمی کوئی نئی بات نہیں لیکن گذشتہ روز ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر اور انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد کے درمیان لفظوں کی ایک جنگ سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بن رہی ہے۔

یہ واقعہ نیو نیوز کے ایک پروگرام پر پیش آیا جس میں عورت مارچ کے حق اور مخالفت میں دلائل دیے جا رہے تھے۔ خواتین کی ریلی 8 مارچ کو ہونے جا رہی ہے لیکن اس سے قبل ہی اسلام آباد میں کچھ افراد نے ایک میورل (دیوار پر بنی تصویر) پر سیاہی مل کر اسے خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے خلیل الرحمن قمر کی جانب سے ماروی سرمد کے لیے نفرت انگیز الفاظ کے استعمال پر ایسے رویوں کی مذمت کی ہے جبکہ بعض لوگ چینل کی انتظامیہ اور اینگر پرسن پر ’کچھ نہ کرنے‘ پر تنقید کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بعض صارفین کی جانب سے خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں بھی ٹویٹس کیے گئے جس میں انھوں نے ڈرامہ نگار کے رویے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/@ENTERTAINMENT PAKISTAN

شو میں ہوا کیا؟

نجی ٹی وی چینل کے اس ٹاک شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر اور صحافی ماروی سرمد کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا فیض محمد بھی موجود تھے۔

بات اس وقت بگڑی جب عورت مارچ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ ’اگر عدالت نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے ’غلیظ اور گھٹیا‘ نعروں پر پابندی لگا دی ہے تو جب میں ماروی سرمد صاحبہ کو یہ جملہ بولتے سنتا ہوں تو میرا کلیجہ ہلتا ہے۔‘

ایسے میں ماروی سرمد نے اس نعرے کو دہرا دیا جس سے خلیل الرحمن قمر مشتعل ہو گئے اور سخت لہجے میں انھیں خاموش رہنے اور اپنی باری پر بولنے کے بارے میں کہنے لگے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheMahiraKhan

یہ سلسلہ تقریباً دو منٹ تک جاری رہا جس میں خلیل الرحمن قمر کی جانب سے نازیبا جملوں کا استعمال بھی ہوا جن کا ذکر یہاں نہیں کیا جا سکتا۔

اس شو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے میرا جسم میری مرضی، خلیل الرحمن قمر اور عورت مارچ ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔

یہ پروگرام نجی ٹی وی چینل نیو نیوز پر نشر ہوا تھا اور اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور صحافی نصراللہ ملک نے ماروی سرمد سے گذشتہ رات رونما ہونے والے واقعے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’بطور سربراہ نیو نیوز میں انتہائی معذرت خواہ ہوں اور اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NasrullahMalik1

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم خلیل قمر کے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔‘

سابق رکنِ پارلیمان بشریٰ گوہر نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں، گالیاں اور بدزبانی خواتین کو اپنے حقوق مانگنے سے نہیں روک سکتیں۔

انھوں نے کہا کہ پیمرا کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@BushraGohar

صحافی اسد علی طور نے کہا کہ ’یہ سب کیسے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جا سکتا ہے؟ پیمرا کہاں ہے؟ کسی کو بھی انھیں اپنے شو پر دعوت نہیں دینی چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ عورت مارچ سے پہلے ہی لوگ ڈرنا شروع ہوگئے ہیں اور اس کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں۔

اس کے مقابلے کچھ صارفین نے ڈرامہ نگار کی حمایت میں ٹویٹس کرتے ہوئے ’میری زبان، میری مرضی‘ کہہ کر جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AsadAToor

ایک صارف نے لکھا کہ قطع نظر اس سے کہ ’ماروی صحیح تھیں یا غلط آپ کسی کے ساتھ اس طرح بات نہیں کر سکتے۔ آپ کو کسی کو گالی دینے کا حق کون دیتا ہےاور وہ بھی ٹیلی ویژن پر۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@itsFatimaahere

فلم اور ٹی وی ڈراموں کا جائزہ لینے والی صدف حیدر لکھتی ہیں کہ لوگوں کو ’میرا جسم میری مرضی‘ اتنا غلیظ کیوں لگتا ہے۔

’کسی خاتون کے پاس یہ حق کیوں نہ ہو کہ اس کے جسم کو کون چھوتا یا دیکھتا ہے یہ اس کی مرضی ہو۔ کیا مردوں کے پاس یہ حق نہیں ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@tomtomatoe

اس دوران لوگوں کی اس طرف بھی اشارہ کیا کہ چینل انتظامیہ کو اس کا ایکشن لینا چاہیے۔

صحافی رضا رومی نے کہا کہ ’یہ انتہائی شرمناک اور نامعقول واقعہ ہے اور وہ بھی ایک ایسے شخص کی جانب سے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ’لکھاری‘ ہے۔

’کم سے کم چینلز کو ان پر پابندی تو عائد کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Razarumi

ان کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے معروف کارٹونسٹ لکھتے ہیں کہ ان پر پابندی لگانے سے الٹا وہ ہیرو بن جائیں گے۔

’ان کو جواب دینے سے وہ بدنام ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sabirnazar1

ایک صارف شنیلا سکندر نے شو کی اینکر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ’اینکر اس کو روکنے کے بجائے اس کی گالی کی مذمت کرنے کے بجائے ماروی کو روکتی رہی۔

’خلیل الرحمن نے اپنے اندر کی غلاظت دکھا دی۔‘

ماہین نامی صارف نے سوال کیا ہے کہ خلیل الرحمن قمر کو ایسا بولنے ہی کیوں دیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ چینلز ان کے رویے میں میں برابر کے شریک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShanilaSikandar

بی بی سی سے وابستہ نادیہ سلیمان، جو خود بھی اینکر رہ چکی ہیں، کہتی ہیں کہ خلیل الرحمن کو ایسی بحث کے لیے ہی بلایا گیا تھا، یہاں غلطی ٹی وی چینل، پرڈیوسر اور اینکر کی ہے جنھوں نے ایسا ہونے دیا۔

اداکارہ ماہرہ خان کے مطابق وہ ایسے رویے پر حیران ہیں اور لوگوں کو اپنے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔

عورت مارچ کے میورل پر کالی سیاہی پھیر دی گئی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@marriyamalik1

سوشل میڈیا پر اس بارے میں بھی بحث جاری ہے کہ عورت مارچ کے نعروں اور تصاویر سے لوگ مشتعل کیوں ہو رہے ہیں۔

کچھ افراد نے اسلام آباد کے علاقے جی سیون کی ایک دیوار پر عورت مارچ کے حوالے سے بنائی گئی تصویر کو کالی سیاہی پھیر کر خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ واقعہ منگل کی شب کو پیش آیا اور اس کے حوالے سے کارکنان کا کہنا ہے کہ آرٹسٹس نے یہ میورل کافی محنت سے بنائے تھے اور ان کا مقصد خواتین کے حقوق کو فروغ دینا تھا لیکن اب انھیں ایک مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے جان بوجھ کر بگاڑ دیا ہے۔

دیوار پر پینٹ کرنے والی آرٹسٹ اور منتظم ندا مشتاق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دیوار پر پینٹ کرنے کا مقصد عورت آزادی مارچ کے حوالے سے موجود غلط تاثرات کو مٹانا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Tooba_Sd

انھوں نے کہا کہ عورت آزادی مارچ سے پہلے شہر کے مختلف حصوں میں پینٹ کرنے کے لیے طلبہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد یکجا ہوئے۔‘

’ہمیں اس دیوار کو رنگنے میں دو دن لگے۔ کئی لوگوں نے ہماری اس کوشش کو سراہا بھی۔ جن میں سے کچھ نے محّلے کی چند اور دیواروں کو رنگوانے کے بارے میں بات بھی کی۔‘

ندا نے کہا کہ پولیس نے یہ سب دیکھتے ہوئے ان لوگوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ جبکہ اس علاقے میں رہائش پذیر لوگ اب اس دیوار کو دوبارہ رنگوانا چاہ رہے ہیں ’تاکہ خواتین کے خلاف لکھی گئی فحش باتیں مٹا سکیں۔‘

اس الزام پر کہ پولیس نے جی سیون تھری میں بنے میورل کو خراب کرنے میں حملہ آوروں کی مدد کی، اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد دانش نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کی معلومات اب بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ مشتعل افراد عورت مارچ اور اس کے منتظمین کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔