امریکہ طالبان معاہدہ: طالبان کے افغان فوج پر حملوں کے بعد امریکہ کا ہلمند میں طالبان پر فضائی حملہ

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد طالبان نے ’فتح‘ کا جشن منایا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد طالبان نے ’فتح‘ کا جشن منایا تھا

امریکی فوج کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان فورسز پر حملوں کے جواب میں امریکہ نے طالبان پر فضائی حملہ کیا ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 'امریکہ نے چار مارچ کو ان طالبان جنگجوؤں پر نہرِ سراج، ہلمند میں فضائی حملہ کیا ہے جو افعان نیشنل ڈیفینس اینڈ سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ آور تھے۔ یہ حملے کو روکنے کے لیے ایک دفاعی کارروائی تھی۔ یہ گیارہ دن میں طالبان کے خلاف ہماری پہلی کارروائی تھی۔‘

کرنل سونی نے مزید لکھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ’ہم امن کے لیے پرعزم ہیں لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی اتحادی افغان فورسز کا دفاع کریں۔ افغان اور امریکہ اپنے معاہدوں کی پاسداری کرتے ہیں البتہ طالبان بظاہر اس کے برعکس اسے برباد کر رہے ہیں اور امن کے لیے لوگوں کی خواہش کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘

امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق تین مارچ کو ہی طالبان نے ہلمند میں افغان افواج کی چیک پوسٹ پر 43 حملے کیے۔

انھوں نے لکھا کہ ’طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان کو بین الاقوامی افواج سے آزاد کروانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ 29 فروری کا معاہدہ فوجوں کے مشروط انخلا کے لیے راستہ مہیا کرتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی نے لکھا کہ ’طالبان رہنماؤں نے بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تشدد میں کمی اور حملوں میں اضافہ نہیں کریں گے۔ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غیر ضروری حملوں کو روکیں اور اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ جیسے کہ ہم نے کر دکھایا ہے کہ جب بھی ضرورت ہو گی ہم اپنے اتحادیوں کا دفاع کریں گے‘۔

خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کے جزوی معاہدے کے خاتمے کے بعد دونوں فریقین میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں جو کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والے افغان انٹرا مذاکرات پر سوالیہ نشان ہیں۔

طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے تنازعے کے وجہ سے مبصرین کو امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اس معاہدے میں افغان حکومت براہ راست فریق نہیں ہے۔

ہلاکتیں

افغان حکام کے مطابق ملک کے 16 صوبوں میں ہونے والے درجنوں پرتشدد واقعات میں کُل آٹھ شدت پسند، چھ عام شہری اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق چھ شہری ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آٹھ حملہ آوروں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار صوبے میں ایک حملے میں دو فوجی ہلاک ہوئے۔

صوبہ لوگر کے ترجمان کے مطابق کابل کے قریب ایک چیک پوسٹ پر حملے میں پانچ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے جبکہ ہرات میں بھی ایک افغان فوجی اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

صدر ٹرمپ اور طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر میں رابطہ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ایک طالبان رہنما کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی ٹویٹس کے مطابق امریکی صدر اور طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر نے تقریباً آدھے گھنٹے ٹیلیفون پر بات کی اور کہا کہ دونوں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پرعزم تھے۔

یہ فون کال گذشتہ ہفتے طے پانے والے امن معاہدے کے بعد امریکی صدر اور طالبان کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔

سہیل شاہین کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو سے کہیں گے کہ وہ افغان صدر اشرف غنی سے بات کریں تاکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات معمول کے مطابق ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان حکومت سے اپنے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہیں

طالبان نے کیا کہا؟

طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغان حکام سے محض اپنے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔

طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ: ’یہ معاہدے میں شامل ہے کہ اب یہ ذمہ داری امریکہ کی ہے کہ وہ کس طرح معاہدے کے نقاط پر عمل کریں گے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ طالبان معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کا ذکر کیا گیا ہے تاہم امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان ایک دوسرے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کابل حکومت کی صوابدید ہے کہ یہ کس حد تک ممکن ہے۔

افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ طالبان جنگو قیدی موجود ہیں۔ گذشتہ سنیچر قطر میں امریکہ کے ساتھ معاہدے میں طالبان نے ’تشدد میں کمی‘ پر یقین دہائی کرائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو وطن واپس بلا لیں‘

انھوں نے کہا ہے کہ وہ افغان فوج سے لڑائی جاری رکھیں گے لیکن بین الاقوامی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

طالبان نے ماضی میں افغان حکومت سے بات چیت پر انکار کیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سنیچر کو ہونے والا معاہدہ صرف امریکہ اور طالبان کے درمیان پیش آیا ہے۔

ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکی فوج افغانستان میں داخل ہوگئی تھی جس کے بعد سے طالبان اور امریکی فوج میں جنگ چل رہی تھی۔ 2018 کے دوران طالبان ملک کے دو تہائی علاقوں میں متحرک رہے۔

امریکی ردعمل کیا ہے؟

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے کہا ہے کہ تشدد میں کمی سے اعتماد بحال ہوگا۔ ’ہم ان وعدوں پر سنجیدہ ہیں اور طالبان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ان وعدوں پر سنجیدہ رہیں۔‘

’امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی کیا توقع ہے۔ تشدد میں کمی رہنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

معاہدے میں شامل ہے کہ اگر طالبان نے پاسداری کی تو امریکہ اور نیٹو کی افواج 14 ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی

معاہدے میں شامل ہے کہ اگر طالبان نے پاسداری کی تو امریکہ اور نیٹو کی افواج 14 ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔

افغانستان میں لگ بھگ 12 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ، جنھوں نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا عہد کیا تھا، نے سنیچر کو کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو وطن واپس بلا لیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار امریکی فوجی مئی تک افغانستان سے نکل جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں نے ’ہزاروں کی تعداد میں‘ جنگوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ ’لیکن اب وقت آگیا ہے کہ کوئی اور یہ کام کرے۔ یہ خود طالبان بھی کر سکتے ہیں اور ہمسایہ ممالک بھی۔‘