افغان امن معاہدہ: طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میز کون بچھائے گا؟

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد دہائیوں سے جاری جنگ سے تنگ افغان عوام سوشل میڈیا پر جشن مناتے نظر آئے لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہو سکی، بے یقینی اور خوف پھر لوٹ آیا۔‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں انسانی حقوق کی کارکن شبنم حسن نے بی بی سی کو اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان عوام امن کے حوالے سے پرامید تو اب بھی ہیں لیکن جب ملک کے مخلتف صوبوں سے یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ طالبان نے لڑائی کا وقفہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہی عام لوگوں کو بھی گاڑیوں سے اتار کر گولیاں مارنا شروع کر دی ہیں تو اس سے ایک بار پھر شکوک و شبہات اور خوف پیدا ہو گیا ہے۔

کابل کے مقامی صحافی محفوظ زبیدے کے مطابق امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے اور طالبان کی امریکی قربت حاصل کرنے پر اس وقت افغانستان میں ڈر کی فضا موجود ہے کیونکہ طالبان سرے سے صدر اشرف غنی کو ملک کا جائز حکمران ہی تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں غیر یقینی جیسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے شبنم حسن کا کہنا ہے خواتین میں یہ ڈر اور خوف موجود ہے کہ اگر طالبان برسر اقتدار آتے ہیں تو پھر وہ اس قسم کی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں جس سے ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا، ملازمت کرنا اور باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔

وہ سمجتھی ہیں کہ جب یہ مذاکرات شروع ہوں گے تو افغان حکومت یہ شرط رکھے گی کہ خواتین کو گذشتہ دو دہائیوں میں ترقی نصیب ہوئی ہے اس عمل کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

صدر غنی کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا

’افغان حکومت اندرونی اختلافات کا شکار‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

صحافی محفوظ زبیدے کے مطابق اس وقت افغانستان حکومت میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ایک صفحے پر نظر نہیں آتے۔

ان کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے ابھی تک صدارتی انتخابات کے نتائج کو ہی تسلیم نہیں کیا ہے جبکہ طالبان سرے سے افغان حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔

تجزیہ نگار زاہد حسین کے مطابق بین الافغان مذاکرات کے آثار کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ امن معاہدے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی کے قیدی رہا کرنے سے انکار کے بعد طالبان نے سیز فائر ختم کر دیا اور اگر اب ان حملوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے تو پھر حالات بدل بھی سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت میں نائب صدر امر صالح جیسے لوگ موجود ہیں جو سرے سے امریکہ اور طالبان کے امن معاہدے کے ہی مخالف ہیں۔

اس سوال پر کہ مذاکرات کیسے ممکن ہو سکتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ یہ ایک مشکل، صبر آزما اور طویل مرحلہ ہو گا۔ سب سے زیادہ مشکل مرحلہ ’پولیٹیکل سیٹلمنٹ‘ کا ہو گا کیونکہ مستقبل کی حکومت پر رضامند ہونا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

کابل میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی شبنم حسن کے خیال میں اگر طالبان چاہیں تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں ان کے مطابق طالبان کو افغان حکومت کو تسلیم کرنا ہو گا کیونکہ وہ ابھی تک اسے ایک ادارہ سمجھتے ہیں لیکن افغان عوام اسے سسٹم تسلیم کرتے ہیں۔

زاہد حسین کے مطابق چونکہ افغان حکومت کو امریکہ اور طالبان نے مذاکراتی عمل سے الگ تھلگ رکھا ہے تو اس وجہ سے اب طالبان کو ایک بالادستی حاصل ہو گئی ہے۔

خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغان طالبان کے رہنما ملا برادر کو فون کرنے سے افغانستان میں پریشانی اور تشویش بڑھی ہے۔ یہ تشویش اس وجہ سے بھی ہے کہ اب طالبان کو ’لیجیٹمیسی‘ یعنی قانونی حیثیت مل گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

زاہد حسین کے خیال میں صدر اشرف غنی امن معاہدے کے بعد اپنی اتھارٹی دکھانا چاہتے ہیں اور وہ ایسا اس وقت بھی کر چکے ہیں جب طالبان اور امریکہ میں کچھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا

افغان حکومت قیدی رہا کرنے پر آمادہ کیوں نہیں؟

محفوظ زبیدے کے مطابق افغان حکومت کو یہ ڈر ہے کہ اگر ان قیدیوں کو رہا کر دیا تو یہ دوبارہ طالبان کی صفوں میں شامل ہو کر افغان فورسز کے خلاف لڑنا شروع ہو جائیں گے۔

زاہد حسین کے خیال میں صدر اشرف غنی امن معاہدے کے بعد اپنی اتھارٹی دکھانا چاہتے ہیں اور وہ ایسا اس وقت بھی کر چکے ہیں جب طالبان اور امریکہ میں کچھ قیدیوں کے تبادلے کے متعلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم بعد میں افغان حکومت نے امریکہ کی بات مان لی تھی اور طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔

ان کے خیال میں ابھی یہ ممکن ہے کہ امریکی دباؤ میں آ کر صدر اشرف غنی امن معاہدے کے مطابق طالبان قیدی رہا کر دیں۔

شبنم حسن کے مطابق افغان حکومت کچھ قیدیوں کو رہا کر کے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر غور کر سکتی ہے تاہم مذاکرات میں بغیر کسی پیشرفت کے وہ ایک بار ہی تمام قیدیوں کو رہا نہیں کرے گی۔

گذشتہ روز افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ننگر ہار میں ایک تقریر کے دوران طالبان کو مذاکرات کی پیشکش دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگر بیرون طاقت سے امن معاہدے کر سکتے ہیں تو پھر کیا اب وہ جہاد افغان عوام کے خلاف کریں گے۔ صحافی محفوظ زبیدے کے مطابق اس خطاب میں صدر اشرف غنی نے طالبان کو پاکستان سے واپس افغانستان آنے کی بھی دعوت دی ہے۔

زاہد حسین کا کہنا ہے صدر اشرف غنی شروع سے ہی طالبان سے مذاکرات کے خواہاں تھے تاہم طالبان نے ان سے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ ان کے خیال میں طالبان کو یہ لگتا ہے کہ امریکہ اشرف غنی کو معاہدے پر عملدار آمد پر رضامند کر لے گا۔

شبنم حسن کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کی یہ تقریر بہت اہم ہے جس میں انھوں نے خواتین کے حقوق کی بات کی ہے اور یہ لچک بھی دکھائی ہے کہ مذاکرات کے لیے بنیادی شرط فریقین کی ایک دوسرے کی شرائط کا احترام کرنا ہوتا ہے۔

محفوظ زبیدے کے مطابق اس وقت مذاکراتی ٹیم سے متعلق بھی صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ میں سرد جنگ جاری ہے اور وہ اپنے طور پر بااثر شخصیات سے رابطے بھی قائم کیے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

مذاکرات کے لیے طالبان کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ افغانستان حکومت ان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرے، جس کا زکر امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں بھی ہے

مذاکرات کی میز کون بچھائے گا؟

خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات ہونے تھے تاہم ابھی تک مذاکرات کا یہ مرحلہ شروع نہیں ہو سکا ہے۔

مذاکرات کے لیے طالبان کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ افغانستان حکومت ان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرے، جس کا ذکر امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں بھی ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس معاہدے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا ہوا ہے کہ ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

افغانستان میں اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کے آغاز کے لیے میز کون بچھائے گا یعنی لچک کون دکھائے گا۔

طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ کیا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں واضح لکھا ہے کہ مذاکرات سے قبل 5000 طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے ورنہ یہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

افغان صدر نے پیر کو ننگر ہار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے متعلق اگر طالبان کے مطالبات ہیں تو پھر ہمارے بھی مطالبات ہیں۔ انھوں نے طالبان سے دو سوالات بھی پوچھے کہ وہ پاکستان کب چھوڑ رہے ہیں اور اگر انھوں نے امریکہ سے معاہدہ کرلیا ہے تو پھر جہاد کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟